میرے پسندیدہ۔۔

اس صفحہ کو پسند کرنے کے لیے لاگ ان کریں۔

پاکستان میں اقوامِ متحدہ کے زیر نگرانی

پیش کردہ اَفکار و نظریات کا ناقدانہ جائزہ

اقوامِ متحدہ کے اِدارے Alliance of Civilizations (تہذیبوں کے اتحاد) کے تحت ۱۲ تا ۱۵؍اکتوبر۲۰۰۹ء کے درمیان مشہور تفریحی مقام بھوربن کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں ایک سہ روزہ ورکشاپ کا انعقاد ہوا، جسے واشنگٹن اور برسلز کی این جی اوSearch for Common Grounds ( مشترکہ اساسات کی تلاش) کے اسلام آباد آفس نے منظم کیا تھا۔ سہ روزہ ورکشاپ میں پاکستان کی دینی صحافت کے مشہور جرائد کے مدیران کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی۔ افتتاحی سیشن میں ورکشاپ کا مقصد''دینی صحافت کے مسائل کا اِدراک، درکار صلاحیتوں کا فروغ، دینی صحافت کی ضروریات کی تکمیل اور خصوصی مہارتوں کا فروغ'' بیان کیا گیا۔

یوں تو اَقوامِ متحدہ اور اس جیسے مغربی ادارے مسلم اُمہ کے مسائل کو جس مخصوص نظر دیکھتے اور ان کے جیسے بامقصد حل کی تلقین کرتے ہیں، اس کا رخ اہل نظر سے ڈھکا چھپا نہیں ہے، لیکن اپنے موضوع کی اہمیت اور ایسے نامورشرکا کے علم وفضل سے استفادہ اور ان کے ساتھ طویل وقت گزارنے کا یہ پہلا موقع تھا، جن کی تحریریں عرصۂ دراز سے پڑھی پڑھائی جاتی ہیں۔ کسی مجلے کے مدیر کی شخصیت، اَفکار و رجحانات اور اَذواق اس کے زیر اِدارت مجلہ اور اس کی تحریر میں بخوبی دکھائی دیتے ہیں، اس لئے بہت سے لوگوں کو ملنے کی خواہش نے راقم کو بھی اس ورکشاپ میں شرکت پر مجبور کردیا۔ ایک طویل عرصہ، کم وبیش دس برس کے بعد یہ ورکشاپ دینی صحافت کے مدیران کو مل بیٹھنے کا موقع فراہم کررہی تھی اور نوجوان اہل علم وقلم کی شرکت اس ورکشاپ کا طرئہ امتیاز تھی۔ ۲۲ کے لگ بھگ شرکا میں ہفت روزہ 'ایشیا' کے مدیر مرزا محمد اِلیاس، ماہنامہ 'الشریعہ' کے مدیر محمد عمار خان ناصر، ہفت روزہ 'الاعتصام' کے مدیر حافظ احمد شاکر، ماہنامہ 'عرفات' کے مدیر مولانا راغب نعیمی، 'ترجمان القرآن' کے نائب مدیر جناب امجد عباسی، 'الخیر' ملتان کے مدیر مولانا محمد ازہر، ماہنامہ' السعید' کے مدیر سید طاہر سعید کاظمی(برادرِ خورد وفاقی وزیر مذہبی امور)، 'وائس آف پیس' کے مدیر قاضی عبد القدیر خاموش، 'منہاج القرآن' کے مدیر ڈاکٹر علی اکبر ازہری، ماہنامہ 'میثاق' کے مدیر مرزا اَیوب بیگ اور خواجہ شجاع عباس (مدیر ماہنامہ پیام، اسلام آباد) موجود تھے، جبکہ 'الحق 'اکوڑہ خٹک، 'ندائے خلافت' لاہور، 'صحیفہ اہل حدیث'کراچی اور 'ضیاے حرم' کی مجلسِ ادارت کے متحرک اَراکین بھی شریک ِمجلس تھے۔ اس ورکشاپ میں البلاغ، بینات، الاسلام، الفاروق کراچی اور جماعۃ الدعوۃ کے مجلات'حرمین' و'جرار' اور'طیبات' وغیرہ کے مدیران بوجوہ شرکت نہ کرسکے۔

ورکشاپ کے انتظامات انتہائی معیاری اور سہولیات سے بھرپور تھے۔ تین روزہ ورکشاپ کے دوران تمام شرکا کو پرل کانٹی نینٹل میں اعلیٰ رہائش اور سہ وقتی دعوتِ طعام کا اہتمام تھا، ہوائی سفر اور لانے لیجانے کے تمام انتظامات و اِخراجات اَقوام متحدہ کے ذیلی اِداروں نے برداشت کئے، ایک محتاط اندازے کے مطابق شرکت کرنے والے ہر فرد پر ۷۰ ہزار روپے اور پوری ورکشاپ پر نصف کڑوڑ روپے کے لگ بھگ اِخراجات کئے گئے تھے۔

مذکورہ بالا تفصیلات سے اس ورکشاپ کی اہمیت کی نشاندہی مقصود ہے، تاہم اپنے مقاصد میں یہ ورکشاپ کہاں تک کامیاب رہی؟ اس کے بارے میں ایک سے زیادہ آرا ہوسکتی ہیں۔ ورکشاپ میں بیان کردہ موضوعات واَہداف کے بین السطور میں پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے ساتھ ساتھ زاویۂ فکر کی تبدیلی، مغرب بالخصوص امریکہ کے بارے میں سافٹ کارنر پیدا کرنے کی کوشش، اشارہ کنایہ سے ان کا موقف بیان کرنا اور مغرب میں ہونے والی مادّی تحقیقات کو سامعین کے اَذہان میں اُنڈیلنا وغیرہ تھا۔

راقم الحروف کو تین برس قبل سرکاری دورئہ امریکہ اور بعض دیگر عالمی کانفرنسوں میں شرکت کی بنا پر یہ جستجو رہی کہ براہِ راست پیغام کے پس پردہ مخفی مقاصد کو پڑھا جائے اور یہ سمجھنے کی کوشش کی جائے کہ پاکستان کی دینی صحافت کے اہم اور حساس اَذہان پر یہ سرمایہ کاری آخرکیوں کی جارہی ہے؟ چنانچہ ورکشاپ کے مختلف سیشنوں کے درمیان لیکچرر حضرات کے مختلف دعووں اور مواقف کی گہرائی میں اُترنے اور ان پر بے لاگ تبصرہ کرنے کا موقع بھی ملا۔ بعض لیکچرز پر راقم کی خاموشی کے موقع پر مخلص احباب کا یہ اصرار بھی رہا کہ آپ اپنے تبصرے سے ہمیں ضرور مستفید فرمائیے تاکہ تصویر کے دوسرے رخ سے بھی ہمیں آگاہی حاصل ہوسکے۔

پروگرام میں بعض اہم بیانات پر جو تبصرے یا مؤاخذے کئے گئے، ان میں سے بعض حسب ِذیل ہیں۔ ان موقعوں پر مرزا محمد الیاس، حافظ احمد شاکر، مولانا محمد ازہر، مرزا ایوب بیگ اور راقم کا موقف عموماً ایک دوسرے کی موافقت و تائید میں ہوا کرتا۔

٭ ورکشاپ کے پہلے سیشن میں ہر شریک ِمجلس سے چار سوال پوچھے گئے تاکہ شرکا کے رجحانات اور ان کی تجزیاتی صلاحیت کا اِدراک کیا جاسکے۔ تمام شرکا کو چار گروپ میں تقسیم کرکے ان میں سے ایک فرد کو اپنے ساتھیوں کے خیالات کی مشترکہ نمائندگی کا بھی موقعہ دیاگیا۔ راقم نے اپنے سوالات کے مختصر جوابات یوں دیے جبکہ دیگر افراد کی ترجمانی کرتے ہوئے ان کی طرف سے بعض مزید نکات کا اضافہ بھی کیا...:

٭ سوال: میں میڈیا میں کیوں آیا؟

جواب: میرا میڈیا میں آنے کا مقصد دین کے پیغام (رسالت) کو غلط مفاہیم اور آلائشوں سے پاک کرنا، اور خالص شریعت ِاسلامیہ کی تبلیغ و ترجمانی کرنا ہے۔ مزید برآں اُمت ِ اسلامیہ کے حالات کا اسلامی نقطہ نظر سے تجزیہ اور اس میں اصلاحِ احوال کی کوشش کرنا۔

٭ سوال: میڈیا میں آپ کی دلچسپی کی چیزیں کیا ہیں؟

جواب: اپنے مقصدمیں ہم تک کہاں کامیاب ہیں، اور اس سے استفادہ کا دائرہ کس قدر وسیع ہے۔

٭ سوال: میڈیا کے بڑے چیلنج کیا ہیں؟

جواب: قارئین کی دینی رہنمائی کے لئے بہترین اورمعیاری مواد پیش کرنا اور امت کے احوال کا حقیقت پر مبنی تجزیہ کرنا۔

٭ سوال: عام اور دینی صحافت میں بنیادی فرق؟

جواب: دینی صحافت اللہ کی دعوت کو پھیلانے کے لئے ہوتی ہے جبکہ عام صحافت لوگوں کے باخبررہنے کی جذبہ کی عکاس اور اسیر ہوتی ہے۔ اِبلاغ اور تبلیغ دونوں الفاظ کا مصدر ومادہ ایک ہی ہے، بلاغ ایک نبوی منصب ہے گویا 'ابلاغ کا مقصد' اللہ کے دیے ہوئے پیغام کو انسانیت تک پہنچانا ہی ہے۔

٭ اس موقع پر تمام شرکا کے جوابات سننے کے بعد معاونِ کار، اظہر حسین صاحب نے دینی صحافت کو 'سٹریم لائن صحافت' سے دور یعنی عوام میں مقبول مرکزی صحافت سے خارج قرار دیا۔اس پر تبصرہ کرتے ہوئے شرکا نے اسے 'سیکولرزم کا ثمرہ' بتلایا جس کی رو سے دین ودنیا کے دو علیحدہ دائرے متعارف کرا کے عوام الناس کی دلچسپی کو دنیوی اُمور تک محدود کردیا گیا ہے۔ معاونِ کار کا سوال یہ تھا کہ اگر آپ میں سے کسی شخص کو مین سٹریم صحافت مثلاً روزنامہ 'واشنگٹن پوسٹ' میں کالم لکھنے کا موقع ملے تو کیا اس کو سیکولر صحافت کا علمبردار ہونے کی بنا پر آپ قبول نہیں کریں گے؟ جس کا جواب راقم نے یوں دیاکہ ایسا دعوتی ضرورت کی بنا پر تو ہوسکتا ہے،لیکن جہاں تک مسلمانوں کے میڈیا کی بات ہے تواسے اُصولاً ایک ہی ہونا چاہئے جو دین ودنیا کی تفریق اور حد بندیوں سے بالاترہوکر، ہرمعاملے میں اسلام سے رہنمائی لے کرمسلمانوںتک پہنچائے، نہ کہ میڈیا کا بعض حصہ دین سے بالاتر ہوکر دیگر پس پردہ نظریات کے تحت مسلمانوں تک اپنے پیغامات پہنچائے اور اسلامی فکر ونظر سے بالاتر ہوکر عوامی مقبولیت ہی اس کا طرئہ امتیاز ہو۔

٭ جناب اظہر حسین نے اپنے اگلے تربیتی سیشن میں ایک پہاڑ کی تصویر بناتے ہوئے نشاندہی کی کہ جزیرے کا سطحِ سمندر سے بلند چھوٹا سا حصہ دراصل ایک بڑی سرزمین کا معمولی اظہار ہوتا ہے جسے پہاڑ کی چوٹی سے مماثلت دی جاسکتی ہے، جو اوپر جاکر بہت چھوٹی ہوجاتی ہے۔ اس اظہار اور چوٹی کو اُنہوں نے کلچر سے تعبیرکیا جس کے پس پردہ متعدد محرکات وعناصر کارفرما ہوتے ہیں جو اس علاقے کی سرزمین سے پھوٹتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کلچر عادات، ثقافت، تاریخ اور نظریات کا مجموعہ ہوتا ہے اور کلچر کا ہمیں معروضی تجزیہ کرتے رہنا چاہئے کہ آیا کسی حادثاتی یا اضافی وجہ کی بنا پر ہم بلاوجہ کسی قوم کے بارے میں منفی رویہ تو اختیار نہیں کررہے۔ اُنہوں نے امریکہ کے پاکستان کی اصلاح کے لئے کئے جانے والے اقدامات اور مخلصانہ مدد کو سراہتے ہوئے مسلمانوں کو اپنے طرزِ فکر میں تبدیلی کی تلقین کی۔ اُنہوں نے کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو ترقی اور انفراسٹرکچر قائم کرنے کے لئے کتنی رقوم فراہم کیں، لیکن حکومت کے نمائندگان ان کی تکمیل کی بجائے ہر بار نئے منصوبے اور نئے وعدے لے کر آجاتے ہیں، ا س سے امریکہ میں پاکستان کے خلاف فضا بنتی اور عالمی سطح پر مسلمانوں کی سبکی ہوتی ہے۔

راقم نے اس موقع پر یہ تبصرہ مناسب سمجھا کہ کلچرکی تعریف ہر طبقہ فکر کے لوگ اپنے پس منظر میں کرتے آئے ہیں اور ان کی کوشش رہی ہے کہ دین سے براہِ راست ٹکراؤ کی بجائے اسلام مخالف اُمور کی کلچرکے جھنڈے تلے حمایت حاصل کرکے اُسے گوارا بنایا جائے۔ کلچردرحقیقت ''ایسی روزمرہ عادات واَطوار کا مجموعہ ہے جو کسی گروہ کے غالب حصے میں ظاہری طورپر نمایاں ہو۔''اس کے تشکیلی عناصر میں مذہب غالب ترین حیثیت رکھتا ہے، جبکہ دیگر محرکات میں علاقائی عادات، تاریخی روایات اور ضابطہ ہائے اخلاق وغیرہ بھی شامل ہیں۔

مسلمانوں میں کلچر کی بحث کے دوران اس امر کی نشاندہی انتہائی ضروری ہے کہ اسلام کی رو سے ہر مسلمان پر دین کی حیثیت دیگر جملہ سماجی عناصر پر غالب تر ہے، البتہ ہر ایسی سماجی روایت جو اسلام سے نہ ٹکراتی ہو، اس کی اسلام میں گنجائش ہے۔ اسلام کلچر کی تشکیل کرتا ہے، نہ کہ خود کلچر کی قوت سے تشکیل پاتا ہے۔ اپنی بھرپور نظریاتی قوت اور مکمل محفوظ ہونے کی بنا پر اسلام تویہ تقاضا رکھتا ہے جبکہ دنیا کے دیگر مذاہب کے ہاں یہ صورتحال موجود نہیں ہے، جیسا کہ ہندومت میں کلچر ان کے مذہب پرغالب ہے۔ اور عیسائیت بھی کلچرل تقاضوں کے ساتھ مفاہمت کرچکی ہے۔ مزید برآں اسلام ایسی جدید سہولیات، بہتری اور ارتقا ( جنہیں تمدن، سولائزیشن یا حضارۃ کہنا چاہئے)کو اپنانے کی ترغیب دیتا ہے جن کی اسلام سے کوئی مخالفت نہ پائی جاتی ہو۔

٭ مقرر موصوف کی کسی قوم کے بارے میں منفی جذبات نہ رکھنے کی دعوت کا مقصد پاکستانیوں کو امریکہ کے بارے میں نفرت آمیز جذبات پر نظرثانی کرنے کی کنایتاً تلقین کرنا تھا۔ اس نکتہ پر مولانا حافظ احمد شاکر نے بہ تفصیل ان وجوہات کی نشاندہی کی کہ مسلم اُمہ امریکہ کے بارے میں بلاوجہ منفی رویے اور نفرت کا شکار نہیں ہے۔ نہ صرف مسلمان بلکہ پوری دنیا میں امریکہ مخالف جذبات کی وجہ امریکہ کے ظالمانہ، توسیع پسندانہ اور خالص مفاد پرستانہ رویے ہیں جن کی ایک لمبی تاریخ ہے۔گذشتہ ۱۲۰ سالوں میں امریکہ ۷۵آزاد ممالک پر فوج کشی اورجارحیت کامرتکب ہوا ہے، گذشتہ ۶۰ برسوں میں ۲۸ ممالک کی سرزمین پر براہِ راست بمباری کرچکا ہے۔جب تک امریکہ اپنے جارحانہ رویے، مذموم سیاست، بدترین بربریت اور طاقت کی زبان استعمال کرنا ترک نہیں کرتا، دنیا میں امریکہ کے خلاف نفرت میں اِضافہ ہی ہوتا رہے گا۔

یہاں راقم نے یہ اضافہ کیا کہ جہاں تک معاہدوں پر عمل درآمد اور ترقی نہ ہونے کا تعلق ہے، تو امریکہ کی یہ شکایت درست نہیں۔ کیونکہ ترقی کے نام پر ہونے والے معاہدے دراصل امریکی اثرورسوخ میں اضافے اور مغرب نوازی کے پس منظر میں تشکیل پاتے ہیں جو اکثر ہماری قومی روایات اور ملی اَقدار کے منافی ہوتے ہیں۔ ان معاہدات کا بڑا حصہ مشاورت ونگرانی اور اپنی تجارتی کمپنیوں کی شرط کے نام پر اِمداد دینے والے ممالک میں ہی واپس چلا جاتا ہے۔ بالخصوص اس مقصد کے لئے موزوں افراد کی بجائے اپنے نقطہ نظر کے اَفراد کو نوازا جاتا ہے اور اس کے بعد کام نہ ہونے کا الزام اہلِ پاکستان پرعائد کردیا جاتاہے۔ آج اُمت مسلمہ پر بدنظمی، بدحالی، بے انصافی، اَقربا پروری، لاقانونیت اور ظلم وستم کا الزا م عائد کیا جاتا ہے، لیکن کیا مسلم اُمہ کے ان حکمرانوں کے انتخاب ، بقا اور مسلط رہنے میں عالمی سامراج کا کوئی کردار نہیں ہے؟ آج عالمی سامراج مسلم اُمہ کے مسائل میں مفاد پرستانہ دخل اندازی ختم کردے اور مسلمانوں کو عوام کے حقیقی منتخب افراد مہیا کرنے کی گنجائش میسر کرے، تو دِنوں میں یہ ساری صورتحا ل تبدیل ہوسکتی ہے۔

٭ جناب اظہر حسین کے لیکچر کا دوسرا حصہ عدل وانصاف کی تلقین پر مبنی تھا۔ اُنہوں نے مغربی اَقوام کے عدل گسترانہ رویوں کی تعریف کرتے ہوئے پاکستان میں عدل کے اداروں اور انصاف کی نا گفتہ بہ صورتحال کی نشاندہی کی۔ مزید برآں اُنہوں نے ۱۰ منٹ پر مشتمل ایک ویڈیو حاضرین کو دکھائی جس میں امریکہ میں نسل پرستانہ رویوں کے خاتمے کی جدوجہدکو فلمایا گیا تھا۔ اُنہوں نے نسلی اور گروہی ہر قسم کے امتیاز Discriminationکو ختم کرکے ریاست کے لئے متحد ہوکرکام کرنے کی اہمیت پرزور دیا۔

موصوف کا یہ اِظہاریہ بھی قابل وضاحت تھا، اس بنا پر راقم نے اَوّلاً توعدل کے ضمن میں یہ وضاحت کی کہ اقوامِ عالم میں عدل کی ضرورت واہمیت پر کوئی دوسری رائے نہیں ہوسکتی اور عدل وانصاف کسی بھی معاشرہ کا پہلا تقاضا ہے، لیکن اسلام کی رو سے اصل نکتہ محض عدل کا قیام نہیں، بلکہ عدل کی میزان کا ہے اور یہ نکتہ کافی اہمیت کا حامل ہے۔ اسلام کی رو سے حقیقی عدل صرف اللہ کی شریعت(کتاب اللہ) پر ہی ہونا ممکن ہے، اس کے سوا عدل کے دیگر میزانات ظاہری، محدود اور غیرمتوازن انصاف مہیا کرتے ہیں۔ عالمی استعمار سیکولرزم کا علم بردار اور نگہبان ہونے کی بنا پر کسی بھی مسلم ریاست میں کتاب اللہ کو عدل کے میزان بنانے کی کسی گنجائش میسر آنے کا روا دار نہیں، اورمغربی اقوام کا یہ رویہ مذہبی آزادی کے دعویدار ہونے کے ناطے سراسر ظالمانہ ہے۔

علاوہ ازیں امتیاز کے خاتمے کے سلسلے میں یہ بات ملحو ظ رہنا ضروری ہے کہ ہر قوم کے امتیاز کا نظریہ اس کے مرکزی مقصد وہدف سے مربوط ہوتا ہے اور وہ اسی امتیاز کے خاتمے کی بات کرتی ہیں۔ چونکہ مغربی اقوام نظریۂ قومیت ووطنیت کی اَن تھک علم بردار ہیں اور نیشنلزم ان کے فکر ونظریہ کا بنیادی ستون ہے، ا سی لئے کسی ایک وطن کے باشندوں میں کسی قسم کے نسلی، گروہی حتیٰ کہ مذہبی اَساسات پر گروہ بندی کی بھرپور مخالفت پائی جاتی ہے اور تمام کو ایک قوم بن کر مادرِ وطن کی خدمت کی پرزورتلقین کی جاتی ہے اور وطن کے حقوق کو ہی بالاترین حق باور کرایا جاتا ہے۔ اس کے بالمقابل اسلام کا نظریۂ امتیاز اللہ کی بندگی اور اس کے دین کی اطاعت وعبادت سے منسلک وہم آہنگ ہے۔ کالے وگورے، عربی وعجمی اور امیر وغریب کی بنا پر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ہمہ نوعیتی امتیاز کی نفی کرکے اسے جاہلیت قرار دیا ہے، لیکن وطن اور دھرتی سے محبت کی بجائے ایک اللہ کی بندگی کرنے والوں کو باہمی اُخوت میں پرویا ہے۔ اسلام نے اللہ کی بندگی(تقویٰ) اور اللہ کی کتاب کے تعلیم وتعلّم کی بنا پرانسانوں میں فضیلت کی درجہ بندی کی ہے۔ اسی طرح کفار ومشرکین کو قرآنِ کریم نے شرک وگناہ کی غلاظت کی بنا پر نجس قرار دیا ہے اور مسلمانوں کو ان کی دوستی سے منع کرکے، اسلام کی بنا پر ایک عالمی ملت کی تشکیل کی ہے۔ اس عالمی ملت میں افتراق کی دعوت چاہے وہ ممالک کی سرحدوں کی بنا پر ہو، یا رنگ ونسل کی بنا پر، یہ امر اسلام میں ناقابل قبول ہے۔ الغرض امتیاز Discriminationکی نفی کی تلقین کرتے ہوئے مسلمانوں کو اپنے محورِ امتیاز اور غیر مسلموں کے نفیِ امتیازمیں فرق کو واضح رکھنا چاہئے۔

یاد رہنا چاہئے کہ جدید مغربی ریاست کسی بھی فکر و نظریہ کی بنا پر امتیاز کی نفی کرتی حتیٰ کہ مذاہب کے مابین امتیازات کو بھی فرقہ واریت قرار دے کر اس کی بیخ کنی کرتی ہے اور مادرِ وطن کے باشندوں اوردیگر ممالک کے رہائشیوں کو برابر کا اِنسان ہی تسلیم نہیں کرتی۔ جدید فکر وتہذیب پر ایمان رکھنے والا انسان ریاست کے حق کو سب سے بالا تر قرار دیتا ہے جس میں انسان نے جنم لیا، جبکہ اسلام پر یقین رکھنے والا فرد خالق کے حق(بندگی) کو اَوّلین فرض سمجھتا ہے، جو انسان و دھرتی سمیت، ساری کائنات اور اس کے ماں باپ تمام کا خالق ومالک اور رازق ہے۔ جدید ریاست ، ریاست کے باغی کو جینے کے حق سے محروم کردیتی ہے، اور اسلام اپنے ماننے والے کے منحرف ومرتد ہونے پر اس کے مباح الدم ہونے کا نظریہپیش کرتا ہے۔

اِسی نوعیت کے تبادلہ افکار پر مشتمل ۱۳؍اکتوبر کو ورکشاپ کا پہلا دن اختتام کو پہنچا۔پہلے لیکچر کے دوران ہی ہمیں اسلام آباد میں پروفیسر عبد الجبار شاکرؒ کی رحلت کی افسوسناک خبر موصول ہوئی۔ اس خبر کو سنتے ہی ہفت روزہ 'الاعتصام' کے مدیر حافظ احمد شاکر ان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کے لئے شیخوپورہ روانہ ہوگئے اور بعد کے دنوں میں ان سے ملاقات نہ ہوسکی۔

اگلے دن ایف سی کالج، لاہور کے شعبۂ دینیات کے چیئرمین پروفیسر حافظ عبد الغنی اورچیئرمین شعبہ ابلاغیات جناب سلیم قیصر عباس کے دو لیکچرزتھے۔ جبکہ بعد از سہ پہر سید راشد شاہ بخاری (نمائندہ 'سرچ فار کامن گرائونڈ') کا بھی لیکچر تھا۔

اسلام ایک جامع وکامل علمیت کا نام ہے، جو قرآن وسنت سے براہِ راست مُستنیر ہے، اس کے بالمقابل مغربی تہذیب انسانی فکر وفلسفہ کی پرزور داعی ہے۔ ظاہر ہے کہ جب بھی دو مختلف اہداف ومقاصد اور سرچشموں سے کسی نظریہ کا جائزہ لیا جائے گا، تو لب ولہجہ، حرف وکنایہ اور مقصود ومدعا میں اختلاف لازمی امر ہے۔ کسی ظاہر بین سے یہ اختلاف ایک حد تک چھپا رہ سکتا ہے، لیکن دونوں نظامہائے حیات کا معمولی سا جائزہ وتجزیہ رکھنے والا شخص رجحانات کے اس اختلاف کو فوراً بھانپ لے گا۔ ایسی ہی صورتحال بعد کے محاضرات کے دوران بھی رہی۔

٭ حافظ عبد الغنی ایک مشہور امریکی مستشرق سے مختلف نظریات کی باقاعدہ تربیت لے چکے ہیں، اور اس میں سے ہی بعض نظریات اُنہوں نے حاضرین کے سامنے پیش کئے۔

اُنہوں نے لیکچر کے آغاز میں اَمن کی تلقین اور اس کی اہمیت وضرورت پر روشنی ڈالی۔ پراَمن رہنے کے سلسلے میں اُنہوں نے 'ایک بہترین دعا' کا عربی متن حاضرین کے سامنے پیش کیا۔ پرامن رہنے کے بارے میں بتاتے ہوئے اُنہوں نے کہا کہ ہمیں پرسکون رہنے اور اپنے حالات پر زیادہ کڑھنے سے گریز کی ضرورت ہے۔ ہمارے ذہن کو اطمینان سے بھرپور اور بے چینی سے پاک ہونا چاہئے، تبھی ہم اپنے فرائض کو بہتر طورپر انجام دے سکتے ہیں۔

راقم نے اس پر یہ تبصرہ کیا کہ مقرر موصوف کی یہ تلقین واقعتا مفید او راہم ہے، لیکن اس کے لئے اُنہوں نے درست مخاطبوں کا انتخاب نہیں کیا۔ دینی صحافت کے مدیران درحقیقت تحریری میدان میں اُمت کے حالات کی اصلاح کے لئے کوششیں بروئے کار لا رہے ہیں اور اپنے اوپر عائد ہونے والے دینی فریضہ کی تکمیل میں منہمک قیادت ہیں۔ اگر اُسوئہ نبوی کو دیکھا جائے تو اُمت کے حالات پر فکر مند ہوکر، ان کی گمراہی کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی فکر مندی اس قدر حد سے بڑھی ہوئی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں کئی مقامات پر آپ کو یہاں تک کہا کہ شاید اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آپ کو ہلاکت کا شکار نہ کربیٹھیں۔ کوئی بھی قائد جب تک اصلاحِ احوال کے لئے شدید درجہ کی بے چینی اور کڑھن اپنے دل میں محسوس نہ کرے، اس وقت تک وہ اپنی قوم کو مصائب ومشکلات سے نہیں نکال سکتا۔ یہ درست ہے کہ کسی بھی قائد کے اقدامات جوش سے زیادہ ہوش اور دانش مندی پر مبنی ہونے چاہئیں لیکن فکر مندی کے حالات میں پرسکون اور مطمئن رہنے کی دعوت ملی ضرورت سے زیادہ شخصی مفاد سے وابستہ ہے۔

حافظ صاحب کی پیش کردہ عربی دعاے امن کے بارے میں جب یہ استفسارکیا گیا کہ یہ دعا اُسوئہ نبوی میں ہمیں کہاں مل سکتی ہے، یا صحابہ وخیرالقرون اور ائمہ اسلاف رحمہم اللہ میں سے کس نے اس کی تلقین کی ہے، تو جناب مقرر عربی زبان میں ہونے کے سوا اِسلام سے اس کی قربت کی کوئی دلیل و وضاحت پیش نہ کرسکے۔

اس موقع پر راقم کو دوبرس قبل دسمبر ۲۰۰۷ء میں لاہور کے دینی مدرسہ دارالعلوم الاسلامیہ ، کامران بلاک میں اسی ورکشاپ کے روح رواں حضرات کی زیر نگرانی 'جدوجہد برائے امن' نامی ایک پروگرام میں شرکت کا موقع یاد آگیا۔ جب یہ حضرات مختلف دینی مدارس سے وابستہ اَفراد کو اپنے نصاب میں امن پر مبنی تعلیمات کی بھرپور تلقین کرکے اس کے لئے ایک مستقل نصاب وضع کرنے پر اِصرار کررہے تھے۔ اس موقع پر راقم نے یہ تبصرہ کیا تھا کہ ان حالات میں جب پاکستان بدترین امریکی جارحیت کا سامنا کررہا ہے او ریہ جارحیت افغانستان وعراق میں بدترین قتل وغارت کی شکل دھار چکی ہے، افغانستان وعراق میں امریکی بربریت کے نتیجے میں بالترتیب ۱۲ لاکھ عراقی اور ۶ لاکھ افغانی لقمہ اجل بن چکے ہیں، محب ِدین وملت طبقات اس بارے میں فکر منداور مزاحمت برائے بقا کی کوششوں میں شریک ہیں، ان حالات میں باامن رہنے کی معنویت زمانی سیاق وسباق سے بالکل بعید تردکھائی دیتی ہے۔ امن کی اس بے وقت کی دعوت کا مطلب تو یہ دکھائی دیتا ہے کہ ہمارے گھر پر پتھراؤ اور بدترین جارحیت ہورہی ہو اور گھر والے اپنے با امن رہنے کا راگ اَلاپ رہے ہوں یا اُنہیں اس کی تلقین کی جارہی ہو۔ اس تلقین کو امن کی بجائے بے غیرتی اور ہاتھ پر ہاتھ دھر کر دشمن کے سر پر آپہنچنے کے انتظار سے تعبیر کرنا زیادہ موزوں ہوگا۔ظلم وجارحیت سے متاثرہ ملت ہونے کے ناطے ہمیں اس وقت گہرے غور وخوض سے اس امر کا تعین کرنا چاہئے کہ مسلمان عوام وخواص کونسا رویہ اپنائیں جس سے وہ اس ہلاکت و جارحیت سے بچ سکنے پر قادر ہوں۔

ا س وقت بھی میری رائے یہ تھی کہ حکومتوں کو مالی مفادات کا لالچ اور سیاسی مجبوریوں میں اُلجھا کر دوسری طرف عامۃ المسلمین کے لئے امریکی حکمت ِعملی یہ وضع کی گئی ہے کہ احتجاج کے ممکنہ مراکز میں تلقینِ امن کرکے عوام الناس کے کرب واضطراب کو کم کیا جائے۔ ظاہر ہے کہ اس حکمت ِعملی کی تردید کا یہ واحد مطلب نہیں کہ لازماً بھڑ جایا جائے اور جواباً تشدد کو اپنالیا جائے، بلکہ اس کے لئے ایسی منظم اور موزوں حکمت ِعملی ہی ضروری ہے جس سے اس ظلم کا سدباب ہو جائے اور ایسے گھمبیر حالات میں ہم پر عائد فریضہ بھی پورا ہوجائے۔ راقم کے اس اصرار کا یہ نتیجہ نکلاکہ دو برس قبل بھی دینی مدارس کے لئے ہونے والا یہ پروگرام قیامِ امن کے لئے دینی مدارس میں نصاب کی تیاری کے بغیر ہی ختم ہوگیا۔

٭ حافظ عبد الغنی صاحب نے اپنے خطاب میں حاضرین کو علم ورشد کی تلقین کرتے ہوئے انسانیت کے اَدوار کی تقسیم پر یہ نظریہ پیش کیا کہ انسانوں کی ترقی اور تہذیب کے حوالے سے معلوم تاریخ کو ہم چار اَدوار میں تقسیم کرسکتے ہیں:

ابتداے آفرینش میں تمام انسانوں کی زندگی کا دارومدار شکار پر تھا، اِس دور کو ہم Hunting Age(شکاری دور) سے تعبیر کرسکتے ہیں، جب ہر انسان کی کامیابی اس کی قوت اور زورِ بازو کی مرہونِ منت تھی۔ اس دور کی علامت Symbol تیرکمان ہے۔ انسانیت کا دوسرا دور کاشتکاری کا ہے جس کی علامت 'ہل' ہے، یہ زراعت کا دور ہے جس میں برتری کا انحصار زمین، کھیتی باڑی اور اناج کی پیدوار پر تھا۔اسےAgriculture ageسے یاد کیا جاتا ہے، انسانوں کی یہ صورتِ حال قرونِ وسطیٰ تک جاری رہی۔ انسانوں کی ترقی کا تیسرا دورعلم وتعلیم اورصنعت وحرفت کا ہے جو احیاے علوم کی تحریک سے شروع ہوا، اسے Knowledge ageقرار دیا جاتا ہے۔ اس دور کی علامت 'کمپیوٹر' ہے۔ اس دور میں انسانوں نے تہذیب وترقی کی عظیم منزلیں طے کیں اور بے شمار ادارے تشکیل دیے۔اب ہم جس دور کی طرف بڑھ رہے ہیں، وہ تجزیہ وتقابل اور توازن کا دور ہوگا، جس میں انسانیت اپنے معراج پر پہنچ جائے گی، اس دور کی علامت 'کمپاس' ہوگا اور اس کو Wisdom Age سے موسوم کیا جائے گا۔ آنے والے زمانہ میں وہی کامیاب ہوگاجو اِن خصوصیات کو اختیار کرے گا۔

لیکچرر موصوف نے اس نظریے کی مزید تفصیلات بھی بیان کیں، لیکن راقم نے اس سے اختلاف کرتے ہوئے یہ موقف پیش کیا کہ تاریخ و زمانہ کی یہ خالصتاً مادی، مغربی اور غیرحقیقی تقسیم ہے، جسے بطورِ مسلمان قبول نہیں کیا جاسکتا۔اس تقسیم کی رو سے بہترین دور آنے والا ہے، اور خیر وشر کے مابین نقطہ فاصل مغرب کی تحریک ِاحیاے علوم کو قرار دیا گیا ہے جو کہ درست نہیں۔ اسلام کی رو سے خیرالقرون، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دور تھا، اس کے بعد صحابہ کا زمانہ اور پھر تابعین کا زمانہ بہترین اَدوار تھے، پھر انسانیت آہستہ آہستہ زوال کی طرف گامزن ہوتی جارہی ہے۔ایسے ہی اہل مغرب جن قرونِ وسطیٰ کو Dark Age یا ظالمانہ دور سے تعبیر کرتے ہیں، مسلمانوں کے نزدیک وہ علوم کا سنہرا دور ہے۔ دراصل ان کی یہ تعبیر اہل مغرب کے لحاظ سے بالکل درست ہے کہ وہ اس وقت ظلم وستم کاشکار اور جہالت کے اندھیروں میں ڈوبے ہوئے تھے، لیکن اہل اسلام کے اعتبار سے سراسر غلط ہے۔

سب سے پہلے دور کو شکار کا دور قرار دینا بھی غیراسلامی نظریہ ہے، کیونکہ اسلامی تعلیمات کی رو سے سب سے پہلے انسان حضرت آدمؑ انسانیت کے لئے اللہ کی ہدایت ورہنمائی لے کر آئے، اور انسانیت کبھی بھی رہنمائی سے محروم نہیں رہی۔ ہمیشہ سے نیک انسان موجود اور خیر وشر کے مابین کشمکش برقرار رہی ہے۔ شکاری دور کا نظریہ ان لوگوں کا ہے جو انسان کو ڈارون کے نظریۂ ارتقا کے مطابق بندروں کی اولاد قرار دیتے اور اسے آہستہ آہستہ حیوانیت سے انسانیت کی طرف ترقی کرتا ہوا دکھانا چاہتے ہیں۔

ایسے ہی چوتھے دور کو انسانیت کی معراج قرار دینا بھی درست نہیں۔ انسانیت کی معراج اللہ کی بندگی میں ہے، نہ کہ خواہشِ نفس کی بندگی اور مادی ترقی میں جو دراصل جاہلیت ِجدیدہ کی معراج ہے۔انسان کی معراج نمازاوراللہ کی اطاعت میں ہے جب وہ اپنے مقصد ِحیات کی باحسن تکمیل کررہا ہو۔ توازن واعتدال کا مصدر وسرچشمہ اللہ کی ہدایت اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی رہنمائی کے علاوہ اور کیا ہوسکتا ہے، اس کے ماسوا سب کچھ انسانوں کی اِفراط وتفریط ہے۔

جاہلیت اور علم کی روشنی کے مابین احیاے علوم کی مغربی تحریک کا نقطہ فاصل بھی سراسر غلط ہے۔ جاہلیت کا خاتمہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ حجۃ الوداع میں زمانۂ جاہلیت کے تمام رسوم ورواج کو اپنے پاؤں تلے روند کرکیا تھا، اور اس کے بعد علم وعمل کا سورج طلوع ہوگیا تھا۔ جبکہ احیاے علوم کو روشنی قرار دینے کا نظریہ اسلام کو جہالت سے متہم کرنے کا دعویٰ ہے۔احیا کی اس مغربی تحریک کا مرکزی اور اساسی نکتہ علم کو اللہ کے وحی والہام سے نکال کر انسانوں کے حواس وعقل کا اسیر بنانا تھا، اور مغرب کی تمام تر موجودہ ترقی اسی نظریے کے مرہون منت ہے جو دین بیزار ودین مخالف ہے۔ راقم نے مقرر موصوف کو یہ تلقین کی کہ اُنہیں مسلم صحافتی قیادت کو ایسے نظریات سکھانے سے گریز کرنا چاہئے جن کی ہمارے عقیدہ ونظریہ میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ شعبۂ دینیات کے سربراہ ہونے کے ناطے اُنہیں ان نظریات کو اسلام کی میزان پر پرکھ کر پیش کرنا چاہئے، نہ کہ ہر غلط سلط نظریہ کو قبول کرلیا جائے۔ ہرقوم کے نظریات اس کے تصور اور مقصد ِحیات سے بندھے ہوتے ہیں، اور وہ اپنے ان تصورات کے تحت اپنے نظریات تشکیل دیتی ہے۔ایک مسلمان کا تصورِ حیات جب ایک غیرمسلم سے سراسر مختلف ہے تو دونوں کے فکری نظریات میں ہم آہنگی کیوں کر ہوسکتی ہے؟

باقی ڈیڑھ دن بھی اسی نوعیت کا تبادلہ خیال چلتا رہا، جن پر دیگر شرکا بھی آزادانہ اپنے خیالات کا اظہار کرتے۔ بالخصوص آخری دن پاکستان میں امریکی مداخلت کے موضوع پر بڑا سرگرم مباحثہ ہوا، جس میں مرزا ایوب بیگ اور جناب امجد عباسی نے بھرپور حصہ لیا۔ ورکشاپ میں بعض لیکچرز خالصتاً پیشہ وارانہ فنی نوعیت کے تھے جن میں جناب سید راشد بخاری کا لیکچر 'اداریہ نویسی' پر بطورِ خاص مفید رہا۔جناب سلیم قیصر عباس نے انٹرویو تکنیک، متوازن اور مؤثر تحریر کے اُصول کے موضوع پرلیکچر دیا۔ منتظمین سے ہم نے یہ مطالبہ کیا کہ میدانِ صحافت کے نامورماہرین کو بھی اس نوعیت کے ورکشاپس میں دعوت دی جانا چاہئے تاکہ ان کے علم اور تجربات سے بھی ہم کچھ سیکھ سکیں۔

٭ پروگرام کے بقیہ اَوقات میں شرکا کی باہمی مجالس میں یہ طے پایا کہ لاہور میں دینی صحافت کے سرکردہ افراد کی ایک سہ ماہی ملاقات کا پروگرام تشکیل دیا جائے، اس سلسلے میں ہر حلقہ فکر کو نمائندگی دیتے ہوئے جناب راغب نعیمی، محمد عمار ناصر، مرزا محمد الیاس، مرزا ایوب بیگ اور راقم الحروف پر ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جن کی آئندہ ملاقات لاہور میں ہونا قرار پائی۔

پروگرام کے روح رواں، جناب اظہر حسین اور سید راشد علی بخاری صاحبان تھے،جن کے ساتھ قاضی عبد القدیر خاموش اور حافظ حسین احمد کے بلوچستان سے ایک قریبی عزیز کی مشاورت ہوتی رہتی۔ اس سے قبل بھی یہ حضرات دینی مدارس میں مختلف نوعیت کی ورکشاپس منعقد کرتے رہتے ہیں، اوّل الذکر دونوں صاحبان سے پانچ برس قبل محترم پروفیسر خورشید احمد کے ادارہ انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کے معاونین کے طور پر ملاقاتیں ہوتی رہیں، ان کے ہمراہ بعض ورکشاپوں میں بھی شریک ہونے کا موقع ملا، بالخصوص واشنگٹن میں جناب اظہر حسین سے کئی گھنٹوں کی نشست ہوئی۔

پروگرام کے آخری لمحات میں راقم نے ان حضرات سے ازراہِ تفنن یہ تبصرہ کیا کہ آپ دینی مدارس اور دینی صحافت کو نئی راہِ عمل دینے کی کوشش پر اپنا وقت بے جا صرف کررہے ہیں۔ اُمت ِمسلمہ کا مسئلہ پالیسی اور ہدف کا نہیں بلکہ بدنظمی، بے عملی اور جہالت کا ہے۔ پالیسی تو ہمارے پاس اوّل روزسے بڑی شاندار موجود ہے جو کتاب وسنت جیسے نسخۂ کیمیا پر مخلصانہ عمل ہے، جب بھی مسلم اُمہ نے اجتماعی یا انفرادی طورپر اس کے کسی حصہ پر عمل کیا ہے، کامیابی نے آخرکار اس کے قدم چومے ہیں۔ مسلم قوم اگر اس عظیم الشان دستورِ حیات پر عمل نہ کرکے آج خائب وخاسر اور شرمندگی کی تصویر بنی کھڑی ہے، تو ایک غیر قوم کی پالیسی اور طرزِ فکر اس کوتاہی ٔ عمل کا وبال کیوں کر ختم کرنے پر قادر ہے؟ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ مسلم قوم کے اَفراد کو حصولِ علم، فراہمی عدل، محنت کی عظمت اور اللہ کی بندگی پر دوبارہ لوٹایا جائے۔ انفرادی اصلاح سے لے کر مسلمانوں کے اجتماعی ڈھانچوں تک کو راست اقدامات کی تلقین کی جائے۔عوام و حکمران اپنے ذاتی اغراض ومفاد سے نکل کر، اپنی ملت کی دینی ودنیوی تشکیل وتعمیر کی طرف معمولی سی توجہ بھی کریں توملت ِاسلامیہ چند برسوں میں اپنا کھویا مقام حاصل کرسکتی ہے۔اس سلسلے میں ایران، سعودی عرب اور ملائیشیا کے مسلم حکمرانوں کی کاوشیں ہماری آنکھیں کھول دینے کے لئے کافی ہیں۔

یہ تصور کہ اسلام اس دور کے ساتھ نہیں چل سکتا، اس لئے اس کی تشکیل نو کی ضرورت ہے، غیروں کا مسلط کردہ ایک تصور ہے، جو کالونیل ازم کے خاتمے کے بعد فرسودہ ہوچکا ہے، اسلام میں ہر اس بات کی ترغیب وتلقین موجود ہے جس سے قوموں کی تعمیر و ترقی وابستہ ہے۔ سائنس وٹیکنالوجی سے لے کر علم وفن کے ہر پہلو کی اسلام میں شدید حوصلہ افزائی پائی جاتی ہے، ان حالات میں غیروں کے فلسفہ ہائے ترقی اور مختلف ماڈلز کو متعارف کرانے کا اس حد تک فائدہ تو ہوسکتا ہے کہ اس کی تکمیل کے لئے ہمیں خیرات کے چندسکے بآسانی حاصل ہوجائیں، لیکن یہ ترقی آخرکار انہی کے کنٹرول اور اہداف ومقاصد کی تکمیل کا سبب بنے گی اوراللہ کے مطیع وفرمانبردار ہونے کا اعزاز چھیننے کے ساتھ ساتھ ہمیں اہل مغرب کا حاشیہ نشین بنا کے چھوڑے گی۔ اس لئے ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر ہم اپنی قوم کی اصلاح چاہتے ہیں تو نئے نظریات کی بجائے کتاب وسنت سے راہنمائی حاصل کرکے، قوم کو اس کی تلقین پر اپنا وقت صرف کریں۔

میرے مخاطب کو اُصولاً تو میری اس بات سے اتفاق تھا، لیکن ان کا کہنا تھا کہ ا سلامی نظریات کے مطابق ملی تعمیر اور آگے بڑھنے کے لئے کوئی ادارہ ان کو مالی یا تنظیمی سرپرستی دینے کو آمادہ نہیں ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہم نے گذشتہ ماہ ایسا ہی ایک پروگرام سعودی عرب کے شہر ریاض میں بھی منعقد کیا ہے، اور او آئی سی (اسلامک کانفرنس تنظیم) کو بھی ہم نے اس طرح کے تربیتی پروگراموں کی سکیمیں پیش کی ہیں، لیکن ان کامسئلہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ایسے باوسیلہ ادارے کچھ کرنے کی بجائے صرف رسمی مجالس منعقد کرنا چاہتے ہیں۔ یہ لوگ قوتِ فکر اور جذبہ عمل سے محروم ہیں۔

مستقبل میں بھی اقوامِ متحدہ کے زیر نگرانی پاکستان کی دینی صحافت کے نامور اَفراد کی ورکشاپ نیپال میں اوربعد ازاں کسی خلیجی ریاست میں منعقد کرنے کا منصوبہ ہے۔جن میں سے اوّل الذکر تو جنوری کے پہلے ہفتے منعقد ہوچکی ہے، جبکہ آخری ورکشاپ کا شیڈول عنقریب جاری ہونے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اصلاحِ احوال کی توفیق دے۔

٭٭٭٭٭