آہ، مبلغ قرآن راہی ٴملک ِعدم ہوئے!

جو بھی اس عالم کون ومکان میں آیا، اسے ایک نہ ایک دن ضرور موت کے حادثہ سے دوچار ہوناہے۔ تاہم زندگی اور موت کے انداز رنگا رنگ ہیں۔ کچھ لوگ اس انداز سے مرتے ہیں کہ کسی کو خبر تک نہیں ہوتی اور کچھ اس شان سے رخت ِسفر باندھتے ہیں کہ ان کی حسین یادیں مخلوقِ خدا کے دلوں میں ہمیشہ تابندہ رہتی ہیں۔ صادق و مصدوق حضرت رسولِ کریم ﷺ کا ارشاد گرامی ہے :

«إن الله يرفع بهذا الکتاب أقواما ويضع به آخرين...» (صحیح مسلم: حدیث ۱۳۵۳)

"اللہ تعالیٰ قرآن مجید کے ذریعہ ہی لوگوں کو حقیقی بلندیاں عطا فرماتا ہے تو اس سے روگردانی کرکے دوسرے ذلیل و خوار ہوتے ہیں۔ "

حال ہی میں قرآنِ کریم کی زبان کے خدام میں ایک نمایاں نام جناب عطاء الرحمن ثاقب کا شامل ہوا تھا کہ جواں عمر میں ہی اگلے جہاں سدھار گئے۔ گذشتہ چند سالوں سے جس طرح موصوف لغت قرآن کی تسہیل کرکے فہم قرآن عام کررہے تھے، اس سے امیدکی جارہی تھی کہ بہت جلد یہ مبارک سلسلہ ملک کے کونے کونے میں پھیل کر دین وشریعت کے لئے تقویت کا باعث ہوگا، لیکن افسوس کہ اسلام دشمن قوتوں کو یہ گوارا نہ ہوا اور ایک سازش کرکے ان ظالموں نے انہیں ۱۹/ مارچ ۲۰۰۲ء کو نہایت بے دردی سے شہید کردیا۔ انا لله وانا اليه راجعون! دکھ یہ ہے کہ یہ تابناک چراغ اس وقت اچانک گل ہوگیا جب کہ ہزاروں خواتین و حضرات اس سے اپنے دلوں کو منور کررہے تھے اور جس کی ضوافشانی روزافزوں تھی۔

مولد و مسکن

عطاء الرحمن ثاقب ۲۱/جون ۱۹۶۰ء کو ضلع فیصل آباد تحصیل سمندری کے ایک گاؤں ۴۷۴ گ ب کے ایک مذہبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد ِگرامی مولوی عبدالرحمن حصاری اپنے گاؤں میں امامت و خطابت کے فرائض انجام دیتے تھے۔ ان کی دینداری اور پختگی کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ جب کوئی بے نماز شخص مرتا تو اس کا جنازہ پڑھانے سے انکار کردیتے۔

تعلیم و تربیت اور جامعہ رحمانیہ سے ان کی وابستگی

جناب عطاء الرحمن ثاقب نے ابتدائی دینی تعلیم اپنے والد ِگرامی سے ہی حاصل کی۔ مزید تعلیم کے لئے والد نے اپنے اس ہونہار بیٹے کو جامعہ تعلیماتِ اسلامیہ فیصل آباد میں داخل کروا دیا۔ جہاں درسِ نظامی کی ابتدائی کلاسیں پڑھیں۔ کچھ عرصہ بعد جامعہ تعلیماتِ اسلامیہ،فیصل آباد سے جامعہ لاہور الاسلامیہ (جامعہ رحمانیہ) میں داخلہ حاصل کرلیا۔ محترم حافظ ثناء اللہ مدنی سے حدیث پڑھی اور دیگر اساتذہ سے علومِ شریعہ میں دسترس حاصل کی۔ ان کا شمار جامعہ کے ذہین طلبا میں ہوتاتھا۔ آپ علومِ دینیہ وعربیہ کے ساتھ ساتھ جامعہ کے نظام کے مطابق دوسری شفٹ میں عصری علوم بھی حاصل کرتے رہے۔ اور ۱۹۸۲ء کے میٹرک امتحان میں لاہور بورڈ سے دوسری پوزیشن حاصل کی۔ اس اِعزاز کو اُس وقت جامعہ کے آرگن ماہنامہ 'محدث ' میں بھی شائع کیا گیا۔

جامعہ سے فراغت کے بعد ایک عرصہ تک مدیر جامعہ لاہور الاسلامیہ مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی صاحب کے پرسنل اسسٹنٹ/سیکرٹری رہے اور اس دوران جامعہ میں بعض اسباق کے علاوہ مدنی صاحب کی سرپرستی میں بعض کتابوں کے اُردو تراجم بھی کرتے رہے جس میں امام ابن تیمیہ کی کتاب الحسبة في الاسلام وغیرہ شامل ہیں۔ اسی دوران ان کی شدید خواہش کی تکمیل کی غرض سے مہتمم جامعہ نے انہیں جامعہ الملک سعود (ریاض یونیورسٹی) کے 'عریبک ٹیچر ٹریننگ کورس' میں داخلہ دلوایا۔ ریاض یونیورسٹی میں مختلف موضوعات پر مقابلے ہوتے رہتے تھے۔ اس طرح کا ایک مقابلہ جس میں ابن تیمیہ کی کتاب الحسبة في الاسلام کو یاد کرکے سنانا تھا۔آپ نے بھی اس میں حصہ لیا اور اس میں اوّل پوزیشن حاصل کرکے اسی یونیورسٹی سے انعام حاصل کیا اور اس خوشی میں مولانا عبدالرحمن مدنی کی ریاض آمدپر'تنظیم برائے اہل حدیث طلبا' (ریاض یونیورسٹی) جس کے امیر حافظ عبدالسلام فتح پوری (موجودہ شیخ التفسیر جامعہ رحمانیہ)تھے، کی طرف سے انہیں عشائیہ دیا گیا۔

یہ تربیتی کورس چونکہ تین ماہ کے دورانئے کا تھا۔ اس لئے جامعہ رحمانیہ نے جناب عطاء الرحمن ثاقب کو ان کی ذہانت اور عربی زبان سے خصوصی لگاؤ کے پیش نظر انہیں دوبارہ اعلیٰ تعلیم کے لئے ریاض کی ایک دوسری اسلامی یونیورسٹی امام محمد بن سعود کے کلیہ اُصول الدین میں داخل کروا دیا۔ اس طرح عطاء الرحمن ثاقب وہ واحد طالب علم ہیں جنہیں جامعہ رحمانیہ نے دو دفعہ سعودی عرب میں تعلیم کے لئے بھیجا۔

علامہ احسان الٰہی ظہیر سے وابستگی

علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید کو اپنی تحریکی اور سیاسی مصروفیات کی بنا پر کسی ایسے نوجوان ساتھی کی ضرورت تھی جو عربی کا اچھا ذوق رکھنے کے ساتھ ساتھ ٹائپ وغیرہ کا بھی ماہر ہو۔ یہ صلاحیتیں جناب عطا ء الرحمن ثاقب میں اعلیٰ ذہانت کے ساتھ بخوبی موجود تھیں، اس شدید ضرورت کے پیش نظر ان کا رابطہ رحمانیہ کے ایسے طلبا سے رہتا تھا جو عربی زبان کے ساتھ ساتھ ایسی تکنیکی مہارت بھی رکھتے ہیں۔

ابھی ثاقب صاحب کوجامعہ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ میں بمشکل ایک سال ہی گزرا ہوگا کہ علامہ احسان الٰہی ظہیر جامعہ الامام محمد بن سعود الاسلامیہ کے اس وقت کے مدیر ڈاکٹر عبداللہ عبدالمحسن ترکی سے خصوصی تعلقات کی بنا پر جامعة الامام ہی کے خرچ پر انہیں اپنے معاون کی حیثیت سے پاکستان لے آئے اور انہیں اپنے اشاعتی ادارہ 'ترجمان السنہ' کے ساتھ منسلک کرلیا۔ یہیں سے ثاقب مرحوم نے اپنی جماعتی اور تحریکی سرگرمیوں کا آغاز کیا اور ساتھ ہی ساتھ علامہ شہید کے معاون کی حیثیت سے جہاں ان کی عربی کتابوں کی تدوین کی خدمات انجام دیتے رہے، وہاں بعضکتب کا سلیس اور رواں اُردو زبان میں ترجمہ بھی کیا۔ان خوبیوں کااعتراف علامہ شہید اپنی نجی مجلسوں میں بارہا کرتے۔ چنانچہ ایک موقعہ پر کہا کہ

"مجھے اللہ نے ایسا ذہین نوجوان عالم عطا کردیا ہے کہ اس کے ذریعے قرآن و سنت کے ابلاغ میں بہت مدد لی جاسکتی ہے۔"

تدریسی خدمات ... فہم القرآن انسٹیٹیوٹ کا قیام

ثاقب مرحوم نے علامہ شہید سے ایک طرف تحریکی اور سیاسی ذہن لیا تو دوسری طرف ہمیشہ ان کے سامنے حافظ عبدالرحمن مدنی کی ولولہ انگیز شخصیت رہی بالخصوص جامعہ رحمانیہ میں تعلیم او رمدنی صاحب کی معاونت کے دوران ان کے سامنے ادارہ کی وہ سرگرمیاں رہیں جن میں جامعہ کے انسٹیٹیوٹ آف ہائر سٹڈیز ان شریعہ اینڈ جوڈیشری کے زیر اہتمام وکلا اور جج حضرات کو قاضی کورس کروائے جاتے تھے جن میں جدید طریقوں پر مبنی عربی زبان کے کورس بھی تھے۔ ان کورسوں میں بیرونِ ملک تربیت یافتہ اساتذہ کے علاوہ سمعی و بصری آلات سے بھی مدد لی جاتی تھی اور یہ کوششیں اس جدید تعلیم یافتہ طبقہ پر ہوتی تھیں جو قانون کی مہارت کے باوجود عربی زبان سے بالکل نابلد تھا۔ قدیم و جدید کے امتزاج پر مشتمل یہ سرگرمیاں نہایتعروج پر تھیں۔یہاں سے آپ کو جدید طبقہ میں کام کرنے کا تجربہ اور حوصلہ بھی ملا جس پر علامہ شہید کی رفاقت نے مہمیز کا کام دیا۔

علامہ صاحب کی شہادت کے بعدکچھ عرصہ آپ سیاسی سرگرمیوں سے وابستہ رہے اور مختلف تنظیموں میں فعال کردار ادا کیا، پھر پلٹا کھایا اور دوبارہ تدریس کی طرف رجوع کرلیا اور اس طرح آپ چند سال ڈاکٹر اسرار احمد کے قرآن کالج سے وابستہ رہے، جہاں عربی زبان کی تعلیم دیا کرتے تھے۔ بعد ازاں ڈاکٹر راشد رندھاوا کے قرآن انسٹیٹیوٹ سے وابستہ ہوگئے۔ یہاں سے آپ نے ایک خاص انداز پر فہم قرآن بذریعہ عربی زبان کورسز کا آغاز کیا۔ خدا داد ذہانت او رمنفرد طرز تدریس کی بدولت آپ کی کلاسوں میں حاضری روز بروز بڑھتی چلی گئی اورتجربے کے ساتھ ساتھ آپ کا طرزِ تدریس بھی مزید نکھرتا چلا گیا۔ قرآن انسٹیٹیوٹ کے بعد کچھ عرصہ آپ نے نوبل قرآن انسٹیٹیوٹ، جوہر ٹاؤن لاہور میں کام کیا، اس کے بعد اپنا مستقل ادارہ 'فہم قرآن انسٹیٹیوٹ' قائم کرلیا ۔ یہیں سے آپ کا وہ کارنامہ شروع ہوتا ہے جو آپ کی شہرت اور ہر دلعزیزی کا باعث ہوا۔ چنانچہ وہ اس کے قیام کا سبب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

" مجھے ملک کے نامور خطیب اور سیاستدان اور بین الاقوامی دینی مصنف و سکالر علامہ احسان الٰہی ظہیر کی رفاقت کا موقعہ بھی ملا۔ اس دوران بہت سی ایسی شخصیات سے میری ملاقات ہوئی جنہوں نے عربی سیکھنے اور قرآن مجید سمجھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ علامہ شہید کے پاس اتنا وقت نہ تھا کہ وہ انفرادی سطح پر ان کی یہ خواہش پوری کرسکتے۔ اس وقت سے مجھے یہ احساس تھا کہ اس شعبے کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ علامہ صاحب کے المناک سانحہ کے بعد مجھے ڈاکٹر اسرار احمد کے قرآن کالج میں تعلیم یافتہ طبقہ کو عربی زبان کی تدریس کا موقع ملا۔

میں چونکہ ریاض یونیورسٹی سے عربی زبان کی اعلیٰ تعلیم کے علاوہ عربی زبان کی تدریس کا کورس بھی مکمل کرچکا تھا، اس لئے الحمدللہ مجھے فہم قرآن کے موضوع کی تدریس میں خاطر خواہ کامیابی حاصل ہوئی اور وسیع سطح پر اس کام کے آغاز کا خیال دل میں پیدا ہوا۔"

چنانچہ اپنے اس خیال ، تڑپ اور لگن کو عملی جامہ پہناتے ہوئے دسمبر ۱۹۹۵ء میں ڈاکٹر راشد رندھاوا کے ساتھ مل کر سول سیکرٹریٹ پنجاب سے متصل المسلمین بلڈنگ میں قرآن عربی کونسل کے آفس میں اس کی باقاعدہ کلاس کا آغاز کیا۔ پھر یہاں سے یہ کلاس ۹/ شاہراہ فاطمہ جناح روڈ پرواقع ایک بلڈنگ میں منتقل ہوگئی اور پھر وہاں سے اے جی آفس کے آڈیٹوریم ہال میں منتقل ہوگئی۔ ان تمام مقامات پر فی سبیل اللہ آپ باقاعدہ سادہ اور عام فہم زبان میں قرآن کا ترجمہ اور تشریح کرتے۔ کلاس میں عام افراد، اور کالجز یونیورسٹیز کے طلبا کے علاوہ بڑے بڑے سرکاری و غیر سرکاری افسران بھی قرآن کی تعلیم حاصل کرتے تھے․

ان کے عام فہم انداز اور عمدہ اسلوبِ تعلیم کو انتہائی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھا گیا۔ اور کئی لوگوں نے جگہ مہیا کرکے ان سے فہم قرآن کورس شروع کرنے درخواست کی اور یوں فہم قرآن کی کلاسوں میں روز بروز اضافہ ہوتا گیا۔ اور اس طرح ابتدائی طور پر تین جگہوں سے اٹھنے والی قرآن کی اس آواز کی بازگشت پورے لاہور میں سنائی دینے لگی اور ثاقب صاحب کی طرز پر لاہور کے ۵۰سے زائد مقامات پر قرآن کی تعلیم کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ جس سے مختلف مکاتب ِفکر کے ہزاروں خواتین و حضرات نے استفادہ کیا۔ ان مختلف مقامات میں سے زیادہ مشہور ڈیفنس، ڈلی ہال، گلنار کالونی ملتان روڈ، جامع مسجد محمدی سمن آباد، ۲۳۵ بدر بلاک علامہ اقبال ٹاؤن، گرلز کالج وحدت روڈ، اقرا سنٹر چوبرجی، سید سکول گلشن راوی، اے جی آفس، محمدی مسجد راوی روڈ، اندرون لوہاری دروازہ، قائداعظم پبلک لائبریری باغِ جناح، گلبرگ اور ماڈل ٹاؤن کے علاوہ کئی دیگر مقامات پر قرآن کی اس تعلیم کا سلسلہ جاری تھا۔

ان میں سے بہت سے مقامات پر آپ خود لیکچر دیتے اور ترجمہ کی کلاس لیتے تھے۔ صبح سوا سات بجے سے لے کر ساڑھے ۹ بجے تک آڈیٹوریم ہال اے جی آفس میں فہم قرآن کی دو کلاسیں لیتے۔ جس میں درسِ حدیث کے علاوہ مطالعہ قرآن و حدیث اور ان کی لغوی تشریح کی بھی کلاس لیتے۔ اس کے بعد پنجاب سول سروس میں ایک کلاس لیتے ۔ یہاں سے فراغت کے بعد لطیف پلازہ اچھرہ میں واقع مجلہ فہم قرآن کے دفتر میں ادارتی خدمات انجام دیتے۔ پھر مغرب سے پہلے قائداعظم لائبریری باغِ جناح میں ترجمہ اور تیسیر القرآن کی کلاس پڑھاتے۔ نمازِ مغرب کے بعد ۹پی گلبرگ میں کلاس لیتے۔ اس کے علاوہ آپ نے قرآن کی تعلیم پوری دنیا میں پھیلانے کے لئے ترجمہ اور تیسیر القرآن کا کیسٹوں پر مشتمل ایک آڈیو سیٹ ترتیب دیا اور پھر سینکڑوں کی تعداد میں یہ کیسٹیں اندرون اور بیرونِ ملک مقیم مسلمانوں تک پہنچائیں۔ اسی طرح لاہور کے متعددمقامات کے علاوہ نہ صرف ملک کے دیگر شہروں میں بھی اس کورس کا آغاز ہوا بلکہ بیرونی ممالک امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور برطانیہ وغیرہ میں بھی یہ کورس باقاعدہ شروع ہوگیا۔

اس کے علاوہ فہم قرآن کا یہ کورس تین ماہ تک ریڈیو پاکستان پر بھی باقاعدہ نشر ہوتا رہا۔ جس سے ملک اور بیرونِ ملک کے ہزاروں مسلمانوں نے استفادہ کیا۔

ان کی اس سارے دن کی نورِ قرآنی کو پھیلانے کے لئے مسلسل تگ و تاز سے یہ اندازہ بخوبی کیا جاسکتا ہے کہ یہ اللہ کا بندہ اپنے جذبہ اور لگن میں کس قدر مخلص تھا۔ گویا اس نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ خدمت قرآن و سیرت کے لئے وقف کررکھا تھا۔ انہوں نے فہم قرآن کی صورت ایک پودا لگایا۔ پھر انتہائی محنت اور لگن سے اس کی آبیاری کی اور اب وہ پودا ایک تناور درخت بن چکا تھا کہ ظالموں نے اس درخت کو جڑ سے اکھیڑنے کی کوشش کی لیکن ان کی یہ مذموم کوشش کبھی کامیاب نہیں ہوسکے گی۔ان شاء اللہ

قرآن اللہ کا نور ہے اور اس نور کو روئے ارض پر پھیل کر رہنا ہے۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے

﴿يُر‌يدونَ لِيُطفِـٔوا نورَ‌ اللَّهِ بِأَفو‌ٰهِهِم وَاللَّهُ مُتِمُّ نورِ‌هِ وَلَو كَرِ‌هَ الكـٰفِر‌ونَ ٨ ﴾... سورة البقرة

"یہ لوگ چاہتے ہیں کہ پھونکیں مارمار کر اللہ کی روشنی کو بجھا دیں ، حالانکہ اللہ یہ روشنی پوری کئے بغیررہنے والانہیں ہے، اگرچہ کافروں کو برا لگے۔"

تصنیفی و تالیفی خدمات

جناب پروفیسر عطاء الرحمن ثاقب جہاں ایک کہنہ مشق مدرّس اور مفسر قرآن تھے، وہاں آپ ایک کامیاب قلمکار بھی تھے۔ آپ نے علامہ احسان الٰہی ظہیر کی مختلف فرقوں پر مشتمل عربی کتب البریلویة، الشیعة والسنة، القادیانیة وغیرہ کا سلیس اور رواں اُردو میں ترجمہ کیا۔ بعض ازاں جب انہوں نے ادارہٴ فہم قرآن قائم کیا تو قرآن کی آواز کو مزید موٴثر بنانے کے لئے زبان کے ساتھ ساتھ قلم کا بھی سہارا لیا۔ اس کے لئے انہوں نے ترجمہ قرآن کو آسان بنانے کے لئے تیسیر القرآن ڈکشنری کے نام سے ایک کتاب لکھی۔ جس میں ہر لفظ کی لغوی، نحوی اور صرفی تشریح کے علاوہ اس کا اصطلاحی مفہوم بھی واضح کیا۔ پھر تیسیر القرآن لیکچرز کے نام سے ایک کتاب لکھی جس میں نحو و صرف کے بنیادی قواعد کو عام فہم انداز میں پیش کیا۔ بعد ازاں ستمبر ۱۹۹۹ء میں مجلہ فہم القرآن کے نام سے ایک ماہانہ رسالہ کا اجرا کیا۔ جس کا اداریہ آپ خود لکھتے۔ اس کے علاوہ اس میں تیسیر القرآن لیکچرز، دروسِ حدیث، تیسیر القرآن ڈکشنری اور قرآن کی لغوی تشریح کے لئے لغة القرآن کے عنوان سے ایک مستقل سلسلہ بھی شروع کیا۔ اس کے علاوہ اور بھی کئی موضوعات پرآپ لکھتے رہے۔ آپ تیسیر القرآن ڈکشنری، حروفِ تہجی کے اعتبار سے ایک لغت اور سورئہ توبہ تک قرآن کریم کا تحت اللفظ ترجمہ مکمل کرچکے تھے جوعنقریب چھپنے والا تھا۔

جامعہ رحمانیہ میں کام کے دوران 'محدث' میں بھی آپ کے بعض تراجم شائع ہوئے، اسی طرح دیگر رسائل میں شائع ہونے والے تراجم کی ایک فہرست مضمون کے آخر میں دے دی گئی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کی رکنیت

اس طرح پروفیسر عطاء الرحمن ثاقب اپنی انتھک محنت، جہد ِمسلسل سے ایک انقلاب برپا کرنے کے سلسلہ میں اپنی بے لوث خدمات کی بنا پر ایک ممتاز مذہبی سکالر کی حیثیت سے متعارف ہوئے۔ پھر انہیں اکتوبر ۲۰۰۰ء میں اسلامی نظریاتی کونسل کا رکن منتخب کیا گیا۔ جس میں وہ اپنی ذمہ داری سے بخوبی عہدہ برآ ہوتے رہے۔ انہوں نے کونسل کے سامنے بھی فہم قرآن کے سلسلہ میں کئی تجاویز پیش کیں جن پر مناسب پیش رفت بھی ہوئی۔

دریں اثنا اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جو خود بھی پاکستان میں عربی زبان کے کہنہ مشق استاد رہے ہیں، نے ان کی علمی استعداد ، قرآن و سنت سے ان کے شغف سے متاثر ہوکر انہیں تعلیمی کمیٹی کا چیئرمین نامزد کردیا اور انہیں پہلی جماعت سے دسویں جماعت تک اسلامیات کا جدید نصاب تشکیل دینے کی ذمہ داری سونپی۔ شنید ہے کہ وہ پہلی کلاس سے پانچویں کلاس تک کا نصاب مرتب کرچکے تھے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جناب ڈاکٹر ایس ایم زمان صاحب نے ہمددرد ہال میں ان کی شہادت کے حوالہ سے ایک تعزیتی پروگرام میں ان کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا۔

ذاتی خصوصیات

مرحوم قدرت کی طرف سے بڑا اچھا ذہن لے کر پیدا ہوئے تھے۔ اپنی تعلیمی زندگی کے دوران ایک نمایاں طالب علم کی حیثیت سے ابھرے۔ جب عملی زندگی کا آغاز کیا تو پہلے ایک سیاستدان کی حیثیت سے پھر عربی زبان کے ایک کامیاب مدرّس کے طور پر مشہور ہوئے۔ مرحوم قرآن فہمی کا عمدہ ذوق رکھتے تھے۔ اللہ نے انہیں فن تدریس سے بھی نوازا تھا۔ ان کی چند امتیازی خصوصیات کاتذکرہ ذیل میں کیا جاتا ہے :

قرآنی تعلیمات کو عام کرنے کا جذبہ فراواں

مرحوم نے قرآن و سنت کے نور کو عام کرنے کا عزم کیا اور اس کے لئے اپنی تمام تر ذ ہنی و جسمانی صلاحیتیں صرف کردیں۔ جدید تعلیم یافتہ طبقہ کے اندر ایک انقلاب انگیز تبدیلی کی بنیاد رکھی۔ وہ اپنے اس جذبہ میں کس قدر پختہ اور مخلص تھے، اس کا اندازہ ان کے ان خیالات سے کیا جاسکتا ہے جس کا اظہار انہوں نے ایک سیمینار میں خطاب کرتے ہوئے کیا۔ فرمایا:

"ہم نے جو پہلے زندگی گزاری، وہ اپنی عمر کا ایک قیمتی حصہ تھا جو ضائع کرلیا۔ اب ہمیں قرآنِ حکیم کی تعلیمات کو عام کرنے کے لئے اپنے آپ کو وقف کرنا چاہئے۔"

تدریس قرآن کا منفرد اسلوب

آپ نے تدریس قرآن اور عربی زبان کی تعلیم کا اچھوتا، منفرد ،سہل اور آسان فہم اسلوب اختیار کیا جس کی ا س دور میں مثال کم ہی نظر آتی ہے۔ انہوں نے عربی گرامر کو اردو /انگریز ی کی گرامر کی طرز پر آسان انداز سے پیش کیا۔ اور عربی اصطلاحات کا ترجمہ اردو اور انگلش گرامر کی اصطلاحات کی باہم مطابقت کے ساتھ بیان کرنے کا منفرد طرزِ تعلیم متعارف کرایا۔ ان کے اس طرزِ تعلیم کو تمام حلقوں میں پسندیدگی کی نظر سے دیکھا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے اس کورس سے ہزاروں طلبا، وکلا، ججز ، پروفیسر، سرکاری آفیسرز نے استفادہ کیا۔

ان کے ایک مداح جناب امین الرحمن ان کی شہادت پر اپنے ایک مضمون میں ان کے منفرد طرزِ تدریس پرتبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

"میں ان کی کلاس میں ایک طالب علم کی حیثیت سے بیٹھا تو بلامبالغہ میں نے قرآن کے اسباق کا اچھوتا اور انتہائی آسان فہم انداز، عربی اصطلاحات کا ترجمہ، اردو اور انگلش گرامر کی اصطلاحات سے مطابقت کے ساتھ بیان کرنے کا ایسا انوکھا اور پیارا اسلوب دیکھا کہ اس سے پہلے کہیں مشاہدہ نہ کیا تھا۔ بلکہ میں نے ان کے سامنے زانوے تلمذ طے کرنے کا فیصلہ کرلیا۔"

ان کی وسعت ِظرفی اور روا داری

مرحوم اگرچہ ابتدا میں علمی طور پر دوسرے فرقوں سے چشمک کا شکار رہے لیکن 'رحمانیہ' میں ان کا قیام غیر شعوری طور پر اعتدال کی راہ دکھاتا رہا ، آخر کار قرآنی عربی کی تدریس نے انہیں قرآن و سنت پر کاربند رہ کر فکر ی جمود اور فرقہ واریت سے کنارہ کشی کی صورت ہرمعاملہ میں وسعت ظرفی اور رواداری پر مائل کرلیا تھا، لہٰذا وہ اب اس بات کے شدید متمنی رہتے کہ ملک میں وسعت ِظرفی اور مذہبی رواداری کے جذبہ کو فروغ دیا جائے۔ چنانچہ انہوں نے اپنی شہادت سے چند روز قبل روزنامہ 'جنگ' کے تحت ہونیوالے ایک پروگرام (روا داری اور مذہبی ہم آہنگی، تعلیمات ِنبوی کی روشنی میں) میں اظہارِ ِخیال کرتے ہوئے کہا تھا :

"جہاں تک خود مسلمانوں کے درمیان مذہبی رواداری کے سلسلے میں میری تجویز ہے کہ جب تک دینی مدارس میں ایک مخصوص فقہ کی بجائے مذاہب ِاربعہ کی فقہ کا تقابلی مطالعہ نہیں کروایا جائے گا، اس وقت تک وسعت ِظرفی اور مذہبی رواداری کا جذبہ پروان نہیں چڑھے گا اور نہ ہی فکری جمود کا خاتمہ ہونا، ممکن ہوسکے گا۔ ہمارے مدارس میں تقابلی تعلیم کے اہتمام سے تعصب اور فکری جمود ختم نہیں ہورہا۔ اسی طرح ائمہ اور خطباءِ مساجد کے لئے کوئی معیار مقرر کیا جانا ضروری ہے۔ کم از کم ان کے لئے یہ تو لازمی قرار دیا جائے کہ وہ قرآن کے ترجمہ سے آشنا ہوں جبکہ ان کی ۷۰ فیصد اکثریت قرآن مجید کے مکمل ترجمہ سے بھی واقف نہیں۔ دین ہماری متاع ہے اور ہم نے اسے مذہبی پیشواؤں کے سپرد کررکھا ہے۔ ا س کے سدباب کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے تاکہ تعلیماتِ نبوی کی روشنی میں رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کو فروغ حاصل ہوسکے۔"

ان کے یہ خیالات ان کی قرآنِ مجید سے والہانہ محبت و شیفتگی، ملت ِاسلامیہ کے اتحاد کے لئے فکری جمود کو ختم کرنے کے شدید جذبہ کا اعلیٰ مظہر ہیں۔

شہادت پر مذہبی اور سیاسی زعما کے تاثرات

ان کی شہادت کی خبر ملک کے تمام اخبارات میں شہ سرخیوں میں چھپی اورتمام مذہبی اور سیاسی طبقوں نے ان کی شہادت پر گہرے رنج و الم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی شہادت کو ایک عظیم سانحہ، امت کے لئے ایک ناقابل تلافی نقصان اور ان کے قتل کو ملک و ملت کے لئے نہایت گہری سازش کا شاخسانہ قرار دیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان کے قاتلوں کو گرفتار کرکے کیفر کردار تک پہنچائے۔

ندائے خلافت کے مدیر جناب حافظ عاکف سعید نے اپنے اداریہ میں ان کی شہادت پر گہرے غم کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ

"جناب عطاء الرحمن ثاقب جیسے جوان ہمت و جوان سال خادمِ قرآن و عربی زبان کی شہادت ایک بہت بڑا قومی سانحہ ہے۔ انہوں نے بطورِ معلم و مدرس عربی زبان اپنے کیریئر کا آغاز قریباً دس سال قبل محترم ڈاکٹر اسرار احمد کے قائم کردہ کالج سے کیا تھا۔ یہ ان کی شخصی عظمت کی ایک بہت بڑی دلیل ہے کہ وہ برملا اس امر کا اعتراف کرتے تھے کہ عربی زبان کی تدریس کا یہ سہل انداز انہوں نے قرآن کالج سے ہی حاصل کیا تھا، بعد میں انہوں نے اسے تحریک کی شکل دے کر اپنی اُخروی کمائی میں بے پناہ اضافہ کا موجب بنایا۔ اس بات کو خارج از امکان قرار نہیں دیاجاسکتا کہ یہ سانحہ ملک و قوم کے خلاف گہری سازش کا شاخسانہ ہو۔ قرآنِ حکیم اور اس کی زبان کی تدریس وترویج میں ہمہ تن مصروف و منہمک ایک ایسے ایسے عالم دین کا قتل جو فرقہ وارانہ سرگرمیوں سے کوسوں دور ہو، خوف و ہراس اور بے چینی کی اس فضا کو کئی گنا زیادہ آلودہ اور دبیز کرنے کاموجب ہے۔" (ندائے خلافت: جلد۱۱، شمارہ ۱۱)

ان کے جنازہ کے موقع پر علامہ احسان الٰہی ظہیر کے فرزند جناب حافظ ابتسام الٰہی نے کہا:

"پروفیسر عطاء الرحمن ثاقب کلام اللہ کے صحیح عالم تھے، وہ آج بھی زندہ ہیں۔ ان شہادتوں سے کلام اللہ کو پھیلانے کا سفر رک نہیں سکتا۔"

جماعت الدعوة کے مرکزی رہنما جناب حافظ عبدالسلام بھٹوی نے کہا:

"مرحوم عطاء الرحمن ثاقب نے اپنی زندگی قرآن کی اشاعت کے لئے وقف کررکھی تھی اور وہ تمام حلقوں کی غیر متنازعہ شخصیت تھی۔"

ملت پارٹی کے سربراہ جناب فاروق احمد لغاری نے ان کی شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان جیسے عالم کا ہم سے بچھڑ جانا ایک بڑا سانحہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے۔

۵/اپریل ۲۰۰۲ء کو اسلامک فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام ہمدر د ہال میں پروفیسر عطاء الرحمن ثاقب کی یاد میں ایک سیمینار منعقد ہوا۔ جس کی صدارت اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر ایس ایم زمان کررہے تھے۔ اس میں حافظ عبدالسلام بھٹوی، حافظ ابتسام الٰہی ظہیر، لیاقت بلوچ، میاں محمد جمیل، عبدالغفار روپڑی، پروفیسر مزمل احسن شیخ، رانا شفیق پسروری، قاضی عبدالقدیر خاموش، انجینئر سلیم اللہ ، ڈاکٹراجمل قادری، مولانا زبیر احمد ظہیر اور کئی دیگر زعما نے خطاب کرتے ہوئے ان کی خدمات کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا اور ان کے قاتلوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

حافظ عبدالسلام بھٹوی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ

"کفار کے لئے سب سے زیادہ تکلیف دہ قرآن کی تعلیمات ہیں۔ پروفیسر عطاء الرحمن ثاقب کی قرآن کی تعلیم کو عام کرنے کے لئے خدمات انتہائی عظیم ہیں۔ انہوں نے ایسے دور میں جب شخصیت پرستی اور نعرے بازی کا دور عام ہوچکا ہے۔ انتہائی خاموشی سے قرآن سمجھنے اور سمجھانے کی تحریک برپا کررکھی تھی۔ جس کے نتیجے میں چراغ سے چراغ جلتا تھا اور یہ روشنی پھیلتی رہی ۔"

اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین جناب ڈاکٹر ایس ایم زمان نے ان کی خدمات کوسراہا اور کہا

" پروفیسر عطاء الرحمن ثاقب، حنفی، شافعی ، سلفی، سنی سے قطع نظر صرف اور صرف معلم قرآن تھے۔ مجھے انکے ساتھ تقریباً دو سال گزارنے کا موقع ملا۔ میں نے دیکھا کہ اسلامی نظریاتی کونسل میں جو مسئلہ بھی پیش ہوا، انہوں نے انتہائی اہم کردار ادا کیا۔ انکی شہادت کا غم پوری امت ِمسلمہ کا غم ہے"

مرحوم کے تلامذہ

مرحوم نے سات سال قبل اپنی فہم قرآن تحریک کا آغاز کیا اور اب تک لاہورمیں بیسیوں مراکز کے علاوہ بیرونی ممالک میں بھی فہم قرآن کورسز کا آغاز کیا جاچکا تھا جو اب تک جاری ہے اور اس سات سال کے عرصہ کے دوران آپ کے شاگردوں کی تعداد ۹ ہزار سے تجاوز کرچکی تھی جنہیں آپ نے قرآنی تعلیمات سے روشناس کروایا۔

شہادت

ان کے ایک عقیدت مند شاگرد قاری عبدالحفیظ کا بیان ہے کہ

"پروفیسر ثاقب بڑے متقی اور تہجد گزار انسان تھے۔ ۱۹/ مارچ ۲۰۰۲ء بروز منگل شہادت کے دن بھی آپ نے حسب ِمعمول تہجد ادا کی اور نمازِ فجر سے لے کر ۳۰:۶ تک اوراد و وظائف میں مشغول رہے۔ پھر ناشتہ کیا، سات بجے گھر سے نکلے، اور سات بج کر بیس منٹ پر اے جی آفس کے اندرونی دروازے پر پہنچے۔ ابھی گاڑی سے اتر کر چند قدم بھی نہ چل پائے تھے کہ وہاں پر موجود دو سفاک درندوں نے قرآن کے اس مبلغ پر گولیوں کی بوچھاڑ کردی۔ گولیاں آپ کے سر میں لگیں اور آپ موقع پر ہی جام شہادت نوش کرگئے۔ اس کے بعد ان درندوں نے آپ کے ڈرائیور شیراز پرگولیاں برسا کر انہیں بھی موت کی نیند سلا دیا۔" انا لله وانا اليه راجعون!

اس کے بعد آپ کو ہسپتال لے جایا گیا۔ وہاں سے آپ کاجسد خاکی گلشن راوی آپ کے سسرال منتقل ہوا۔ آپ کی شہادت کی خبر ریڈیو پرنشر کی گئی۔ شہادت کی خبر پھیلتے ہی تمام حلقوں میں غم و اندوہ کی ایک لہر دوڑ گئی۔۳۰:۳ پر آپ کو غسل دیا گیا اور ابھی تک آ پ کے جسم سے خون بہہ رہا تھا اور چہرے پر پرسکون مسکراہٹ تھی۔ جنازہ کے لئے ناصر باغ کا چناؤ کیا گیا اور ۵ بجے کا وقت مقرر ہوا۔ لوگ چار بجے سے ناصرباغ میں جمع ہونا شرو ع ہوگئے۔ جنازہ کے وقت دور دور تک لوگوں کے سر ہی سر دکھائی دیتے تھے۔ میں نے ہر آنکھ کو آشکبار دیکھا۔

شام ۱۵ :۵ پر علامہ شہید کے فرزند حافظ ابتسام الٰہی ظہیرنے ۵ منٹ کے لئے مرحوم کے متعلق گفتگو کی اور اس کے بعد انتہائی رقت آمیز انداز میں نمازِ جنازہ پڑھائی۔ان کے علمی مربی حافظ عبد الرحمن مدنی اس حادثہ فاجعہ کے وقت سوڈان کے دورہ پر تھے، جہاں بذریعہ ٹیلی فون انہیں اطلاع دی گئی لیکن وہ جنازہ میں شرکت نہ کرسکے۔ جنازہ میں جن دیگر نامور شخصیات نے شرکت کی، ان میں مرکزی جمعیت کے امیر پروفیسر ساجد میر، جماعة الدعوة کے رہنما حافظ عبدالسلام بھٹوی، میاں محمد جمیل، حافظ صلاح الدین یوسف، مولانا عبدالسلام فتح پوری، حافظ عبدالرزاق، مولانا زبیر احمد ظہیر، جامعہ رحمانیہ کے ناظم محمد شفیق مدنی، قاری ابراہیم میر محمدی، محدث کے مدیر حافظ حسن مدنی،جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما لیاقت بلوچ، حافظ ادریس احمد، ڈاکٹر راشد رندھاوا، ضلعی ناظم میاں عامر محمود، صوبائی مشیر مولانا طاہر محمود اشرفی، صوبائی وزیر صحت پروفیسر ڈاکٹر محمود احمد سمیت مختلف مکاتب ِفکر کے ہزاروں افرادشامل تھے۔

بعد ازاں مرحوم کی میت فیصل آباد لے جائی گئی اور رات دس بجے علامہ اقبال کالونی ٹینکی والی مسجد میں دوسری مرتبہ آپ کی نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ جس کی امامت جامعہ سلفیہ کے شیخ الحدیث مولانا عبدالعزیز علوی نے کروائی۔ جس میں جامعہ سلفیہ، جامعہ دارالقرآن، جامعہ تعلیمات کے اساتذہ و طلبا کے علاوہ علاقہ کی سینکڑوں معروف شخصیات نے شرکت کی۔ اس کے بعد میت آپکے آبائی گاؤں چک ۴۷۴گ ب سمندری فیصل آباد میں لے جائی گئی۔ اور اگلے دن صبح ۱۰:۸ بجے آپ کے بہنوئی مولانا عبدالتواب کی امامت میں تیسری مرتبہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ جس میں جامعہ تعلیم الاسلام ماموں کانجن کے اساتذہ و طلبا کے علاوہ علاقہ کے بے شمار لوگ شریک ہوئے اور گاؤں کی تاریخ میں یہ سب سے بڑا جنازہ تھا۔ اس کے بعد ۰۰:۹ بجے آپ کی میت کو لحد میں اتارا گیا۔ اس طرح یہ مبلغ قرآن شہر خموشاں میں ابدی نیند سوگیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی کاوشوں کو شرفِ قبولیت عطا فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔
زندگانی تھی مہتاب سے تابندہ تر        خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیرا سفر
مثل ایوانِ سحر مر قد فروزاں ہو ترا        نور سے معمور یہ خاکی شبستان ہو ترا

آپ نے دو بیویاں اور تین بچے (ایک لڑکی دو لڑکے) اپنے پیچھے سوگوار چھوڑے ۔ اللہ ربّ العزت آپ کے اہل و عیال کو صبر جمیل عطا فرمائے اور آپ کے مشن کو تاقیامت جاری رکھے۔ آمین!

جناب عطاء الرحمن ثاقب کے مضامین ومقالات


ماہنامہ 'محدث' لاہور

ابراہیم شقرہ،محمد نبی اکرم ﷺکا اندازِ تربیت جلد۱۳ عدد۱ ۱۰ تا ۱۳

ابن تیمیہ،شیخ الاسلام نصیری فرقے کا تعارف جلد۱۲ عدد۱۱ ۲۱ تا ۳۴

فقہی اختلافات کی اصلیت از شاہ ولی اللہ(مترجم:مولانا عبیداللہ بن خوشی محمد) جلد۱۲ عدد۳ (تبصرہ نگار) ۴۷

ماہنامہ 'ترجمان الحدیث' لاہور

عطاء الرحمن ثاقب جدا ہو دین سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی! فروری ۸۳ء ۳ تا ۷

ماہنامہ 'ترجمان السنة' لاہور

احسان الٰہی ظہیر تصوف ۱۲/اقساط میں (مترجم:عطاء الرحمن ثاقب) دسمبر ۸۹ء تا اگست ۹۲ء

احسان الٰہی ظہیر شیعہ اور اہل سنت (مترجم:عطاء الرحمن ثاقب) دسمبر ۸۹ء

عطاء الرحمن ثاقب اسلامی انقلاب اور توحید اکتوبر۱۹۹۰ء

عطاء الرحمن ثاقب شریعت بل کے متعلق چند گذارشات مئی ۱۹۹۱ء

عطاء الرحمن ثاقب شریعت بل ،متن ،تبصرہ، جائزہ جون ۱۹۹۰ء

عطاء الرحمن ثاقب شیعہ اور عقیدہ ختمِ نبوت(۲/اقساط) جنوری،فروری۱۹۹۰ء

عطاء الرحمن ثاقب علامہ احسان شہید اور فرقِ باطلہ مارچ ۱۹۹۱ء

عطاء الرحمن ثاقب علامہ احسان شہید کی یادمیں! مارچ ۱۹۹۱ء

عطاء الرحمن ثاقب غلام حیدر وائیں کا قتل...ایک وضاحت اکتوبر ۱۹۹۳ء

٭٭٭٭٭