۱۲/اکتوبر۱۹۹۹ء کو افواجِ پاکستان کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے عنانِ اقتدار سنبھالی تو اپنی تقاریر میں یہ تاثر دیا تھا کہ انہیں حادثاتی طور پر یہ ذمہ داری بہ امر مجبوری قبول کرنا پڑی ہے اوریہ کہ ان کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے اس پس منظر میں اپنے آپ کو چیف ایگزیکٹو کہلوانا پسند کیا۔ وہ نہ تو 'چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر' بنے اورنہ ہی صدارتی منصب کو چھیڑا۔ بلکہ منتخب آئینی سربراہ کے طور پر پہلے سے کارفرما جناب محمد رفیق تارڑ کو بطورِ صدر قبول کرلیا۔بعد ازاں پاکستان کی عدالت ِعظمیٰ نے ایک کیس میں جس کے ذریعے جنرل پرویز مشرف کے ماورائے آئین عہدے کو چیلنج کیا گیا تھا،انہیں تین سال کے لئے حکومت کرنے کااختیار دے دیا اور ان پرپابندی لگائی کہ اس مدت میں وہ اصلاحِ احوال کے لئے اپنی اعلان کردہ ترجیحات کو مکمل کریں اور اس مقصد کے لئے اگر کسی آئینی ترمیم کی ضرورت ہو تو آئین کے بنیادی ڈھانچے میں کسی ردّوبدل سے احتراز کرتے ہوئے کچھ ترامیم کرلی جائیں۔ اس عدالتی فیصلے میں جنرل پرویز مشرف کو اس امر کا بھی پابند کیا گیا تھا کہ وہ ۱۲/ اکتوبر ۲۰۰۲ء سے قبل قومی انتخابات بھی مکمل کروائیں۔

جنرل پرویز مشرف نے عدالت ِعظمیٰ کے اس فیصلے کو تسلیم کرنے کا اعلان کردیا۔ قوم نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کو اس تاثر کے ساتھ قبول کیا کہ تین سال بعد غیر آئینی حکومت ختم ہوجائے گی اور انتخابات کے بعد ایک عوامی، جمہوری اور غیر فوجی قیادت ملک کو میسر آجائے گی۔ لیکن جوں جوں قومی انتخابات کی تاریخ قریب آتی چلی گئی، توں توں جنرل پرویز مشرف کے خیالات بھی تبدیل ہوتے چلے گئے۔ پہلے انہوں نے بھارت سے کشیدگی کو جواز بنا کر وطن عزیز کے منتخب صدر کو ان کی مرضی کے بغیر عہدئہ صدارت سے فارغ کرکے صدارت کی کرسی بھی خود سنبھال لی اور اب باقاعدہ سیاسی میدان میں آکر آئندہ پانچ سال کے لئے پاکستان کے صدر منتخب ہونے کے متمنی بھی ہیں۔ اور وہ بھی اس طرح کہ انہیں بیک وقت منتخب شدہ عوامی صدر بھی قرار دیا جائے اور بطورِ سربراہِ افواجِ پاکستان ایک حاضر سروس جرنیل بھی تسلیم کرلیا جائے۔

جنرل صاحب نے دوہرے کردار والا صدر منتخب ہونے کے لئے ریفرنڈم کروانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ریفرنڈم ۳۰/ اپریل ۲۰۰۲ء کو برپا ہونا قرار پایا ہے۔ریفرنڈم کا عمل رواں دواں رکھنے کے لئے ۹/اپریل ۲۰۰۲ء کو وزارتِ قانون و انصاف کی جانب سے ایک باضابطہ ریفرنڈم آرڈر جاری کیا گیا۔ اس آرڈر میں واضح کیا گیا ہے کہ ۳۰/اپریل کو ریفرنڈم میں عوام سے حسب ِذیل سوال پوچھا جائے گا

"مقامی حکومت کے نظام کی بقا، جمہوریت کے قیام، اصلاحات کے استحکام اور تسلسل، فرقہ واریت اور انتہا پسندی کے خاتمے اور قائداعظم کے تصور کی تکمیل کے لئے کیا آپ صدر جنرل پرویز مشرف کو آئندہ پانچ سال کے لئے صدرِ پاکستان بنانا چاہتے ہیں؟"

اس سوال کا جواب 'ہاں' یا 'ناں' میں دینا ہوگا۔ ہاں کی اکثریت ہوئی تو جنرل پرویز مشرف آئندہ پانچ سال کے لئے منتخب قرار پائیں گے اور ان کے نئے عہدے کی میعاد اکتوبر ۲۰۰۲ء کے انتخابات کے نتیجے میں بننے والی پارلیمینٹ کے پہلے اجلاس سے شروع ہوگی۔ اس آرڈر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریفرنڈم کو کسی عدالت یا ٹربیونل کے سامنے چیلنج نہیں کیا جاسکے گا اور ریفرنڈم کے متعلق تمام تنازعات الیکشن کمیشن طے کرے گا۔ مزید یہ کہ ریفرنڈم کے سلسلے میں اگر کوئی مشکلات درپیش ہوں تو جنرل پرویز مشرف اپنی صوابدید کے مطابق جو مناسب سمجھیں، احکامات جاری کرسکیں گے اور یہ کہ ریفرنڈم کے انعقاد کے سلسلے میں چیف الیکشن کمشنر کے پاس سپریم کورٹ کے جج جیسے اختیارات ہوں گے۔ گڑ بڑ کی صورت میں یا توہین عدالت پر وہ کسی بھی شخص کو سزا دینے کے بھی مجاز ہوں گے!!

ریفرنڈم آرڈر کے اعلان کے ساتھ ہی پورے ملک کے قانونی، علمی اور دینی حلقوں میں مختلف مباحث اور سوالات اٹھائے گئے۔ قانونی حلقوں نے سوال اٹھایا کہ آئین کے تحت صدر کے انتخابات کے لئے ایک باقاعدہ طریقہ کار اور ضابطہ صراحت سے بیان کیا گیا ہے۔ موجودہ ریفرنڈم اس سارے ضابطے کی نفی کرتا ہے، اس لئے یہ اقدام سراسر غیرآئینی ہے۔ علمی حلقوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ وردی سمیت صدر کا انتخاب ملک میں ایک طویل آمریت کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہے۔ اس انداز میں اگر جنرل پرویز مشرف ایک مرتبہ صدر بنا لئے گئے تو پھر لیبیا کے کرنل قذافی، عراق کے جنرل صدام حسین اور شام کے صدر جنرل حافظ الاسد کی طرح انہیں تادمِ مرگ صدر رہنے سے کوئی نہیں روک سکے گا۔

دینی حلقوں کی جانب سے اس عمل کے اسلامی تشخص پر مباحث سامنے آئے۔ ریفرنڈم کے حامی مولوی حضرات نے نہ صرف اسے عین اسلامی قرار دیا بلکہ خلافت ِراشدہ کی سنت ہونے کی سند بھی عطا کردی۔ جبکہ ریفرنڈم مخالف دینی حلقوں کا یہ موقف سامنے آیا کہ گھر کی چوکیداری کیلئے بھرتی کئے جانیوالا چوکیدار اگر مالک مکان ہی کی دی ہوئی بندوق اسی پر تان کر پورے گھر پر قبضہ کرلے اور مکان کا مالک ہونے کا دعویٰ کرنے لگے تو کسی دینی ضابطے کے تحت ایسے چوکیدار کو قانونی اور شرعی تحفظ نہیں دیا جاسکتا۔

اس کے برعکس جنرل پرویز مشرف اور ان کے ساتھیوں نے بہ اصرار، لاکھوں عوام کے سامنے ریفرنڈم کو آئین کے عین مطابق قرار دیا اور قوم کو یہ یقین دلانے کے لئے پورے ملک میں بڑے بڑے جلسے کئے کہ حکومت کی نیت بالکل صاف ہے اور جنرل پرویز مشرف صدر منتخب ہونے کے لئے آئین کے مطابق پاکستان کے عوام سے رجوع کررہے ہیں جو کہ ایک عین جمہوری عمل ہے۔

اس موقعے پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کا مطالعہ دلچسپی سے خالی نہ ہوگا۔ آئین کے آرٹیکل ۴۱ میں صدر پاکستان کی انتخابی اہلیت اور صدارتی چناؤ کاطریقہ بیان کیا گیا ہے جو مختصراً یوں ہے :

٭ آرٹیکل ۴۱... ذیلی دفعہ (1) میں کہا گیا ہے کہ صدر ہر حال میں مسلمان ہونا چاہئے،اس کی عمر ۴۵ سال سے زائد ہونی چاہئے اور لازم ہے کہ وہ قومی اسمبلی کا رکن منتخب ہونے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

٭ آرٹیکل ۴۱... ذیلی دفعہ (3) میں کہا گیا ہے کہ صدر کو الیکٹورل کالج منتخب کرے گا جو دونوں ایوانوں (قومی اسمبلی اور سینٹ) اور چاروں صوبائی اسمبلیوں کے ارکان پر مشتمل ہوگا۔

٭ آرٹیکل ۴۳... ذیلی دفعہ (1) میں صراحت کی گئی ہے کہ صدر پاکستان، حکومت کی ملازمت والا نہ تو کوئی منفعت بخش عہدہ اپنے پاس رکھے گا اور نہ ہی کسی ایسی پوزیشن پر قائم رہے گا جس میں حق خدمت کے طور پر اسے معاوضہ ملتا ہو۔

٭ آرٹیکل ۴۸میں واضح کردیا گیا ہے کہ صدرِ پاکستان، وزیراعظم یا کابینہ کی ہدایات کے مطابق کام کرے گا۔

اب آئیے خود ریفرنڈم سے متعلق آئینی صورتحال کی طرف۔ آرٹیکل ۴۸ کی ذیلی دفعہ (6) ریفرنڈم کے انعقاد سے متعلق ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ اگر کسی بھی وقت صدر اپنی صوابدید کے مطابق یا وزیراعظم کے مشورہ کی روشنی میں اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ کسی قومی اہمیت کے معاملے پر عوامی رائے کا لیا جانا ضروری ہے تو وہ مذکورہ معاملے کو ایک سوال کی صورت میں عوام کے سامنے ریفرنڈم کے ذریعے لائے گا۔ یہ سوال ایسا ہوگا جس کا جواب 'ہاں' یا 'ناں' میں دیا جاسکتاہو۔

آئین کی مذکورہ بالا دفعات سے صدر پاکستان کی انتخابی اہلیت اور چناؤ کا جو طے شدہ طریقہ سامنے آتا ہے، اس کے نمایاں نکات حسب ِذیل ہیں:

(1) وہ قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کی اہلیت رکھتا ہو۔

(2) صدر کا انتخابی حلقہ صرف اور صرف الیکٹورل کالج ہے۔

(3) حکومت میں ملازمت اور صدارت بیک وقت اکٹھی نہیں ہوسکتیں۔

آئین کے آرٹیکل ۶۳ میں نااہلیت کے وہ اقسام گنوائی گئی ہیں جن کی موجودگی میں کوئی شخص قومی اسمبلی کا انتخاب لڑنے کے لئے نااہل قرار پاتا ہے۔ ان اقسام کی تفصیل خاصی طویل ہے۔ اس مضمون میں صرف متعلقہ حصے نقل کئے جارہے ہیں جو حسب ِذیل ہیں:

٭ آرٹیکل ۶۳ڈی، جو شخص حکومت ِپاکستان کی ملازمت میں ہو، اور اپنے عہدے سے مفاد حاصل کر رہا ہو۔ماسوائے ان عہدوں کے جن کی چھوٹ آئین میں دی گئی ہے۔

(نوٹ: آئین میں دی گئی چھوٹ کا ذکر ذیلی دفعہ 'O' میں موجود ہے۔ جس کے مطابق حکومت کے جز وقتی ملازمین، نمبرداروں اور صرف قومی خاکساروں وغیرہ کو نااہلیت سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے)

اب آئیے صدر کے انتخاب کے طریقے کی طرف... آئین میں بالکل واضح طور پر تحریر کردیا گیا ہے کہ صدر براہِ راست عوام کے ووٹوں یا ہاں کہنے سے منتخب نہیں ہوسکتا۔ بلکہ عوام براہِ راست اس انتخاب میں حصہ لینے کا اختیار ہی نہیں رکھتے۔ یہ فریضہ آئین نے قومی اسمبلی ، سینٹ اور چاروں صوبوں کی اسمبلیوں کے معزز ارکان کو سونپا ہے کہ وہ جس شخص کو مناسب سمجھیں، پاکستان کا صدر منتخب کریں۔ اس طرح صدر کے لئے تیسری اہلیت بھی بالکل صاف ہے یعنی کوئی ایسا شخص صدر منتخب نہیں ہوسکتا جو حکومت پاکستان کا باقاعدہ ملازم ہو۔ اور ذیلی دفعہ K کے مطابق اسے ملازمت سے باعزت طور پر الگ ہوئے کم ازکم دو سال نہ گزر چکے ہوں۔

آئین کی متعلقہ دفعات کے مطالعے اور تجزیے سے دو باتیں روزِ روشن کی طرح سامنے آجاتی ہیں:

(1) یہ کہ آئین میں دی گئی ریفرنڈم کی سہولت کو جواز بنا کر صدارتی نامزدگی حاصل نہیں کی جاسکتی۔ بلکہ یہ اختیار صرف کسی قومی اہمیت کے معاملے میں قوم کی رائے لینے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر صوبائی اختلافات کے پس منظر میں یہ سوال کہ کالا باغ ڈیم بنایا جانا چاہئے یا نہیں؟ یا پھر یہ سوال کہ کشمیر کا مسئلہ حل کرنے کے لئے کسی تیسرے ملک کی ثالثی قبول کرلی یا جائے یا نہیں؟ یا پھر قبائلی علاقوں کو صوبائی درجہ دے دیا جائے یا نہیں؟ وغیرہ وغیرہ

(2) یہ کہ جنر ل پرویز مشرف چونکہ حکومت ِپاکستان کے تسلیم شدہ حاضر سروس ملازم ہیں اور بطورِ 'جنرل' تنخواہ اور دیگر مراعات کا مفاد حاصل کررہے ہیں اور اپنی جرنیلی آئندہ بھی برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ اس لئے آئین کی صراحت کے مطابق وہ صدر بننے کے سلسلے میں مکمل طور پرنااہل ثابت ہوتے ہیں۔ اور ریفرنڈم کی سہولت بھی ان کی اس نااہلیت کا مداوا نہیں کرسکتی۔

حکومت کی جانب سے کہا جارہا ہے کہ ریفرنڈم ایک آئینی روایت ہے اور جنرل پرویز مشرف اس آئینی روایت کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ ہر ذی شعور شہری یہ جانتا ہے کہ قانونی اور آئینی روایات کو صرف قانونی اور آئینی اصولوں اور آداب ہی کی روشنی میں آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔

ریفرنڈم کی روایت کو عالمی تناظر میں دیکھا جائے تو جو صورت حال سامنے آتی ہے وہ بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے ؛ ۱۹۲۳ء میں جنوبی افریقہ کمیشن چارٹر کے خاتمے پر جنوبی یوریشیا میں ریفرنڈم کروایا گیا اور سوال پوچھا گیا کہ وہ ساؤتھ ایشین کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ تو لوگوں نے نہیں کی حمایت میں ووٹ ڈالے، جس کے نتیجے میں جنوبی روڈھیشیا کو برطانوی کالونی کا درجہ حاصل ہوگیا... ۱۹۶۲ء میں الجیریا میں اس سوال پر ریفرنڈم ہوا کہ وہ فرانس سے آزادی حاصل کرنا چاہتے ہیں یا نہیں؟... ۱۹۹۳ء میں نیوزی لینڈ میں اس سوال پر ریفرنڈم منعقد ہوا کہ انتخابات کے رائج الوقت طریقے میں تبدیلی کرنا چاہئے یا نہیں؟ ...۱۹۶۷ء میں آسٹریلیا میں قومی تشخص کی تبدیلی کے سوال پر ریفرنڈم کرایا گیا... ۱۹۸۷ء میں فلپائن اور ۱۹۹۱ء میں رومانیہ میں قومی سلامتی سے متعلق سوالات پر ریفرنڈم منعقد ہوئے۔

پاکستان میں ۱۹۶۴ء میں جنرل محمد ایوب خان نے اور ۱۹۸۴ء میں جنرل محمد ضیا ء الحق نے اپنی آمرانہ پوزیشن کو قانونی اور آئینی طور پر صدارت کے سانچے میں ڈھالنے کے لئے ریفرنڈم کروائے اور اب جنرل پرویز مشرف تقریباً و یسے ہی حالات میں خود کو صدر منتخب کروانے کے لئے ریفرنڈم کا سہارا لے رہے ہیں۔ ریفرنڈم کی عالمی اور پاکستانی صورتِ حال سے یہ حقیقت آئینے کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ پوری دنیا میں قومی نوعیت کے مسائل پر عوامی رہنمائی حاصل کرنے کے لئے ریفرنڈم کروائے گئے جبکہ پاکستان میں تمام کے تمام ریفرنڈم قومی کے بجائے ذاتی مفاد میں یعنی ایک فردِ واحد کو صدر منتخب کروانے کے لئے منعقد کروائے گئے۔

جنرل ضیاء الحق نے اپنی صدارتی ریفرنڈم کو آئینی بنانے کے لئے ایک قدم اور بھی اٹھایا اور اپنے زیر نگرانی غیر جماعتی بنیادوں پر منتخب کروائے گئے ارکانِ اسمبلی سے آئین کے آرٹیکل ۴۱ میں ایک ذیلی دفعہ '۷'شامل کروائی۔ جس میں کہا گیا تھا کہ ۹ دسمبر ۱۹۸۴ء کے ریفرنڈم کے نتیجے میں جنرل محمد ضیاء الحق پاکستان کے صدر منتخب ہوگئے ہیں اور وہ آئندہ پانچ سال کے لئے بطورِ صدر کام کریں گے اور اس صورتِ حال پر آئین کے آرٹیکل ۴۳ یا کسی دوسرے آرٹیکل یا کسی بھی دیگر قانون کا اطلاق نہیں ہوگا۔ یہ ذیلی شق پاکستان کے آئین میں ۲/ مارچ ۱۹۸۵ء کو شامل کی گئی۔

ریفرنڈم کے متعلق یہ ذیلی شق عدلیہ کی نظر میں کیا حیثیت رکھتی تھی؟، اس کی وضاحت کے لئے دو مقدمات کا حوالہ کافی قرار دیا جاسکتا ہے۔ این ایل آر ۱۹۹۱ سول کیسزمیں ایک اعلیٰ عدالت نے مندرجہ ذیل ریمارکس دیے :

"ریفرنڈم والی آئینی ترمیم ایسی تھی جو تاریخ کے بہاؤ اور قانون کی کتب سے سی۱۳۰ طیارے کے حادثے کے ساتھ ہی محو ہوگئی۔"(صفحہ ۷۰۹ )

اسی طرح پاکستان کی سپریم کورٹ نے این ایل آر ۱۹۹۳ ایس سی جے، صفحہ ۱۵۴ پرریفرنڈم کے ذریعے صدر منتخب ہونے کے عمل کو حسب ِذیل الفاظ میں مسترد کیا ہے:

"آئینی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک نامزد شخص (یعنی جنرل محمد ضیاء الحق) کو صدر گردانا گیا۔"

عدالت ِعظمیٰ نے اس فیصلے میں'گردانا گیا' کے جو الفاظ استعمال کئے ہیں۔ صاحبانِ فکر و نظر ان الفاظ کی تہوں میں پوشیدہ معنی سے بخوبی آگاہ ہیں۔

جہاں تک ریفرنڈم ۲۰۰۲ء کے قانونی اور آئینی ہونے کا تعلق ہے۔ اس بارے میں سپریم کورٹ کے روبرو کم از کم چھ درخواستیں زیر سماعت ہیں۔ جن کا فیصلہ عدالت ِعظمیٰ کا فل بنچ اپنے ضمیر، آئین، قانونِ ضرورت اور پی سی او کے تحت اُٹھائے ہوئے حلف کی روشنی میں کرے گا۔ زیرالتوا مقدمات کے بارے میں عدالتی رویوں پر قبل از وقت کوئی رائے دینا قانونی آداب کے منافی ہے۔ کسی مقدمے کا فیصلہ سامنے آجانے پر فیصلے کی خوبیوں اور خامیوں پر مدلل اور مثبت اظہارِ خیال کیا جاسکتا ہے۔ لہٰذا سپریم کورٹ میں زیر سماعت معاملات سے صرفِ نظر کرتے ہوئے ریفرنڈم کی شفافیت پر کچھ گفتگو ہوجائے تو کوئی مضائقہ نہ ہوگا۔

جنرل محمد ایوب خان اور جنرل محمد ضیاء الحق نے جس انداز میں ریفرنڈم برپا کروائے، قوم کی نظر میں ان کی حیثیت کبھی بھی ایک مذاق سے زیادہ نہیں رہی۔ جنرل ایوب خان نے ۹۳ فیصدی سے زائد جبکہ جنرل ضیاء الحق نے ۹۷ فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل کئے تھے۔ خود جنرل پرویز مشرف اپنے ریفرنڈم جلسوں میں مذکورہ دونوں ریفرنڈموں کو ایوب خان اور ضیاء الحق کے بیٹوں کی موجودگی میں غیر شفاف اور منافقانہ قرار دے چکے ہیں۔ ایک غیر آئینی عمل اگر غیر شفاف بھی ہو تو اس کا اعتبار کبھی قائم نہیں ہوسکتا۔ بلکہ ایک مستقل تضحیک اس کا مقدر بن جایا کرتی ہے۔

شفافیت کے حوالے سے بھی ریفرنڈم ۲۰۰۲ء کے سلسلے میں نافذ کئے جانے والا ریفرنڈم آرڈر مطالعے کے لئے خاصا دلچسپ مواد مہیا کرتا ہے۔ اس آرڈر کے نمایاں پہلو حسب ِذیل ہیں:

1) ۱۸ سال کا ہر شہری جس کے پاس شناختی کارڈ ہوگا، ووٹ ڈالنے کا اہل ہوگا۔

2) ہر شہری پورے پاکستان میں کہیں بھی ووٹ ڈال سکے گا۔ اپنے رہائشی حلقے میں ووٹ ڈالنے کی پابندی نہیں ہوگی۔

3) ریفرنڈم کا سوال اُردو میں ہوگا۔ صوبہ سندھ میں یہ سوال سندھی میں لکھنے کی بھی اجازت ہوگی۔

4) مسلح افواج کے افراد، بیرونِ ملک پاکستانی، جیلوں میں بند قیدی اور مخصوص سرکاری ملازم بذریعہ ڈاک جواب بھجوا سکیں گے۔

5) کسی ووٹر لسٹ پر نام کا اندراج نہ ضروری ہوگا، نہ کوئی ووٹر لسٹ پولنگ سٹیشن پر موجود ہوگی۔

6) بوگس ووٹنگ کی روک تھام صرف سرکاری نامزد کردہ اہلکاروں ہی کے ذمہ ہوگی۔

(ریفرنڈم مخالف سیاسی جماعتوں یا عوامی نمائندوں کے اعتراض اور پذیرائی کا کوئی موٴثر طریقہ آرڈر میں موجود نہیں ہے۔)

7) پولنگ بوتھ زیادہ سے زیادہ اور عوامی جگہوں پر بنائے جائیں گے۔(ایک خبر کے مطابق ان جگہوں میں ٹی وی سٹیشن، سیر گاہیں، تماشاگاہیں، ریلوے اسٹیشن ، بس سٹاپ اور چڑیا گھر بھی شامل ہیں)

ریفرنڈم آرڈر کے مذکورہ بالا لوازمات پر الیکشن کی بدعنوانیوں سے واقفیت رکھنے والا کوئی بھی شخص ہنسے بغیر نہیں رہ سکتا۔ مجوزہ طریقہ کے تحت کوئی بھی شخص مختلف جگہوں پر بآسانی کئی کئی بار ووٹ ڈال سکتا ہے۔ اگر بوگس ووٹوں کی روک تھام کے سلسلے میں حکومت کی طرف سے یہ دلیل دی جائے کہ ہر ووٹر کے انگوٹھے پر اَن مٹ سیاہی کا نشان لگایا جائے گا تو اس پر یقین اس لئے نہیں کیا جاسکتا کہ ہر قومی الیکشن میں یہ تجربہ کیا جاتا ہے اور ہمیشہ ناکام رہتا ہے اور اس بات کا کون ضامن ہے کہ اَن مٹ سیاہی واقعی اَن مٹ ہوگی اور پھر سرکاری اہلکاروں کو کیا پڑی ہے کہ وہ بوگس ووٹنگ کو روکنے کے لئے اتنی زیادہ سخت گیری کا مظاہرہ کریں اور اپنی نوکریوں کو خطرے میں ڈال لیں۔

جہاں مرضی جاکر ووٹ ڈالنے کی اجازت سے خواتین کے معاملے میں جی بھر کر دھاندلی کی جاسکتی ہے۔ پاکستان کی خواتین کی اکثریت اسلامی اصولوں کی روشنی میں شناختی کارڈ پر اپنی تصاویر لگوانے سے گریز کرتی ہیں اور دیہات میں تونوے فیصدی سے زیادہ خواتین کے شناختی کارڈ تصاویر کے تکلف سے مبرا ہیں۔ ایک ناظم، کونسلر، پولیس کا سپاہی یا نمبردار تمام خواتین کے کارڈ جمع کرکے شناختی کارڈ نہ رکھنے والی خواتین اور بوگس ووٹ ڈالنے والی پیشہ ور عورتوں کے ذریعے جہاں چاہے اور جتنے چاہے ووٹ ڈلوا سکتا ہے۔ شناختی کارڈ کے مطابق پہچان کا سنجیدہ اور موٴثر نظام موجود نہ ہونے کے سبب مردوں کے ووٹ بھی دھڑا دھڑ پول کئے جاسکتے ہیں اور اگر ووٹ کی پرچی کے دوسری طرف شناختی کارڈ کا نمبر درج نہ کرنے کی بھی چھوٹ موجود ہو( جیسا کہ ریفرنڈم آرڈر سے ظاہر ہورہاہے) تو پھر کسی ووٹر کی حاجت ویسے ہی نہیں رہتی اور ووٹ پول کرنے کا تمام تر فریضہ پولنگ سٹیشنوں پر مقرر اہلکار از خود سرانجام دے سکتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وائس آف جرمنی نے اپنی نشریاتی سروس میں یہ پیشین گوئی تک کردی ہے کہ جنرل پرویز مشرف ، جنرل ایوب خان اور جنرل ضیاء الحق سے زیادہ ووٹ حاصل کریں گے اور یہ بات بھی خارج از امکان نہیں ہے کہ وہ پاکستان بھر کے رجسٹرڈ ووٹروں کی کل تعداد سے بھی زیادہ ووٹ لے جائیں۔ جس الیکشن میں صرف ایک امیدوار ہو، صرف ایک بیلٹ بکس مہیا کیا جائے۔ مدمقابل قوتوں کا انتخابی عمل میں سرے سے کوئی کردار نہ ہوبلکہ انہیں اس عمل سے باہر رکھنے کا بطورِ خاص اہتمام کیا گیا ہو۔ کسی دوسرے امیدوار کو سامنے آنے کی اجازت نہ ہو۔ کاغذات نامزدگی نہ ہوں۔ امیدوار کی نااہلیت پر اعتراض دائر کرنے کا قانونی حق حاصل نہ ہو۔ کوئی انتخابی فہرست پیش نظر نہ ہو۔ کوئی الیکشن ٹربیونل نہ ہو۔ جہاں وزیر مواصلات کے حکم کے مطابق ... اس وقت تک کوئی گاڑی، بس روانہ نہ ہوپائے جب تک سب مسافر ووٹ نہ ڈال لیں اور جس الیکشن کو کسی عدالت میں چیلنج نہ کیا جاسکتا ہو، اس الیکشن میں وائس آف جرمنی کی پیشین گوئی پوری ہوجانا کچھ عجب نہیں بلکہ عین ممکن دکھائی دیتا ہے!!

چلتے چلتے چند باتیں اسلام اور ریفرنڈم کے حوالے سے ...

جنرل مشرف کے حق میں 'فی سبیل اللہ' ریفرنڈم مہم چلانے اور ان کے جلسوں میں کثرت سے اپنی جماعت کے پرچم لہرانے والے ایک نام نہاد دینی رہنما نے دعویٰ کیا ہے کہ ریفرنڈم عین اسلامی عمل ہے۔ جبکہ ایک اور مولانا نے جنہیں ریفرنڈم ہی کے مبارک مہینے میں وزارت سے نوازا گیا ہے، یہ فرمایا ہے کہ خلافت راشدہ کے دوران بھی ریفرنڈم ہوا کرتا تھا۔

اس سے قبل بھی جنرل ضیاء الحق کے دور میں جب ان کی حکومت کو نظریہٴ ضرورت کے تحت قانونی بنانے کی جنگ اعلیٰ عدالتوں میں لڑی جارہی تھی، اچانک یہ نکتہ اٹھا دیا گیا تھا کہ 'نظریہٴ ضرورت' عین اسلامی ہے لہٰذا اسے آئینی دفعات پر فوقیت حاصل ہے۔ نظریہٴ ضرورت کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کی بحث عدالت تک بھی جاپہنچی۔ سپریم کورٹ کے ۹ معزز ججوں پر مشتمل فل بنچ کیس کی سماعت کر رہا تھا۔ ان سب نے نظریہٴ ضرورت کو ریاستی ضرورت کا نظریہ قرار دے کر جنرل ضیاء الحق کے حق میں فیصلہ کردیا۔ اس فیصلے میں باقی جج صاحبان کے فیصلے سے اتفاق کرتے ہوئے ایک فاضل جج جسٹس افضل چیمہ نے مزید صراحت یہ کی کہ یہ نظریہ کوئی مغربی نظریہ نہیں ہے بلکہ عین اسلامی نظریہ ہے اور اس کا جواز تو قرآنِ حکیم سے ثابت ہے۔ جسٹس چیمہ نے اپنے فیصلے میں قرآن کی کچھ آیات بھی نقل کیں۔ اس طرح نظریہٴ ضرورت یا ریاستی ضرورت کے نظریے کو عین اسلامی ہونے کا شرف بھی حاصل ہوگیا۔

یہ بات بعید از قیاس نہیں ہے کہ ریفرنڈم ۲۰۰۲ء کی آئینی حیثیت سے متعلق مقدمہ کی سماعت کرنے والے ۹ معزز ججوں کے فل بنچ کے سامنے ریفرنڈم کے اسلامی یا غیر اسلامی ہونے کا سوال بھی اٹھ کھڑا ہو اور مذکورہ بالا دونوں بزرگوں کی مدد سے حکومتی وکلا ریفرنڈم کی دینی حیثیت کو اس مستحکم طریقے سے دلائل کے ساتھ ثابت کردیں کہ مخالف قانون دان منہ دیکھتے رہ جائیں اور صدارتی ریفرنڈم نہ صرف آئینی بلکہ اسلامی بھی قرار پاجائے اور یار لوگ اس کے ساتھ ایک تقدیس کا پہلو بھی ٹانک دیں۔ شاعر نے شاید ایسی ہی صورتِ حال کے پیش نظر دین سے نابلد سیاست دانوں پر مندرجہ ذیل الفاظ میں اظہارِ حیرت کیا تھا:
نہ جانے کس لئے پیر سیاست      دلوں میں بد گما نی ڈالتے ہیں ؟
مقدس ، ریفرنڈم کا عمل ہے       فرشتے ووٹ اسمیں ڈالتے ہیں !!


اسلام میں اجماع اور معاہدات کی پاسداری ایک قانونی فریضے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اسلام میں سود اپنی تمام تر اشکال و اقسام سمیت حرام ہے۔ بہت سے لوگوں نے سودی قرضوں کو اس بنیاد پر چیلنج کیا کہ قرض دینے والے ادارے اوربنک وغیرہ کی طرف سے سود کی وصولی کو غیر قانونی اور غیر اسلامی قرار دیاجائے۔ لیکن عدلیہ نے بے شمار مقدمات میں اس موقف کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا اور قرار دیا کہ یہ سود دونوں فریقین کے درمیان بہ رضا و رغبت ایک معاہدے کی بنیاد پر وصول کیا جارہا ہے اور چونکہ معاہدہ کرتے وقت بھی فریقین کو اسلامی قوانین کا علم تھا، اس لئے اب وہ اپنے معاہدے کے پابند ہیں۔

اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین بھی ایک قومی معاہدے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس کے مطابق حکومت ایک طے شدہ دستور کے مطابق تمام معاملات چلانے کی پابند ہے اور اس سے کسی بھی انحراف کو عدالت کے ذریعے غیر قانونی قرار دلوایا جاسکتا ہے۔ اس لحاظ سے بھی ریفرنڈم کو اسلامی عمل قرار دے کر آئین کی گرفت سے باہر نکالنا قرین انصاف نہیں ہے۔ اس کے علاوہ یہ حقیقت بھی ہر شخص پر واضح ہے کہ ۱۹۷۳ء کا آئین ایک ایسا دستور ہے جس پر اسمبلی میں موجود تمام قومی اور علاقائی جماعتوں اور آزاد نمائندگان نے بلا جبر و اِکراہ دستخط کئے تھے۔ اور آج تک قومی حلقوں میں یہ بات بہ اصرار کہی جارہی ہے کہ اس متفقہ آئین کا تحفظ کیا جانا چاہئے۔ اس نقطہ نظر سے بھی دیکھیں تو کہا جاسکتا ہے کہ پوری پاکستانی قوم چونکہ اس آئین پر متفق ہے، اس لئے اس دستاویز کو قانونی اور اسلامی لحاظ سے قومی 'اجماع' کی طاقت بھی میسر ہے۔ پاکستان کی اعلیٰ ترین عدالتیں آئین کی اسلامی روح اور ضوابط کی بارہا توثیق و تصدیق کرچکی ہیں۔ اس لئے آئین میں موجود صدارتی انتخاب کے طریقے کو ایک طرح سے غیر اسلامی اور اسی آئین میں دیئے گئے ریفرنڈم کے انداز کو اسلامی قرار دے کر صدارتی الیکشن سے روگردانی اسلامی اصولوں کے معیار پر پسندیدہ قرار نہیں دی جاسکتی۔

جنرل پرویز مشرف کو ریفرنڈم کے حوالے سے تقریباً تمام قابل ذکر دینی جماعتوں، وکلا کی پاکستان بھر میں تمام منتخب تنظیموں اور اہل علم وصحافت کی مخالفت کا سامنا ہے اور وہ اس سلسلے میں اظہارِ حیرت اور اظہارِ ناراضگی بھی عوامی اجتماعات میں فرما چکے ہیں۔ لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ ان تینوں دانشور حلقوں کی بڑی اکثریت ریفرنڈم کو جمہوریت ، ملک، قوم اور خود جنرل پرویز مشرف کے لئے نقصان دہ سمجھتی ہے اور تو اور فوجی حکومت کی عمومی طور پر حمایت کرنے والے دانشور بھی جنرل پرویز مشرف کو ریفرنڈم کے فیصلے پر نظرثانی کامشورہ دے رہے ہیں۔

بھارتی جارحیت اور ہندو ذہنیت کے پیش نظر فوج کے بارے میں خصوصی طور پر نرم گوشہ رکھنے والے ممتاز کالم نگار عبدالقادر حسن نے جنرل ضیاء الحق کے ریفرنڈم پر اپنے کالم میں یہ بھید بھرا جملہ لکھا تھا کہ یہ ریفرنڈم صبح ۱۱ بجے تک منصفانہ تھا اور ۱۱ بجے کے بعد آزادانہ ہوگیا تھا۔ محترم ارشاد احمد حقانی جیسے دانشور نے عبدالقادر حسن کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے موٴرخہ ۱۱/اپریل کے کالم 'حرفِ تمنا' میں لکھا ہے کہ جنرل پرویزمشرف کا ریفرنڈم صبح سات بجے ہی سے آزادانہ ہوگا کیونکہ یہ ایک مادر پدر آزاد الیکشن ہوگا۔ انہوں نے آگے چل کر لکھا ہے کہ

"توقع تو یہ تھی کہ جنرل مشرف حقیقی اور مثبت معنوں میں اپنے پیش رو فوجی حکمرانوں سے بہتر روایات قائم کریں گے لیکن افسوس کہ بعض حوالوں سے وہ ان کے ناقابل رشک ریکارڈ کو بھی پیچھے چھوڑتے جارہے ہیں۔"

٭٭٭٭٭