• جون
1988
غازی عزیر
اس مشہور روایت کو امام ابوالفرج ابن الجوزی رحمۃ اللہ علیہ نے "حسن بن عطیہ عن ابی عاتکہ عن انس رضی اللہ عنہ" کے طریق سے یوں ذکر فرمایا ہے:

«انبانا محمد بن ناصر قال انبانا محمد بن على بن ميمون قال انبانا محمد بن على العلوى قال انبانا على بن محمد بن بيان قال حدثنا احمد بن خالد المرهبى قال حدثنا محمد بن على بن حبيب قال حدثنا العباس بن اسماعيل قال حدثنا الحسن بن عطية الكوفى عن ابى عاتكة عن انس قال قال رسول اللهﷺ : اطلبوا العلم ولو بالصين»
  • مارچ
  • مئی
1988
غازی عزیر
ایک عزیز دوست لکھتے ہیں:

"اقامت کے جواب میں "اقامه الله وادامها" کہنا کیا صحیح احادیث سے ثابت ہے؟ ۔۔۔ہم دیکھتے ہیں کہ اکثر اہل حدیث حضرات اس پر عامل ہیں لیکن حال ہی میں ایک اہل حدیث عالم سے گفتگو کے دوران یہ سنا کہ یہ کہنا صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔ کیا آپ برائے مہربانی اس مسئلہ پر تفصیل سے روشنی ڈالیں گے؟۔۔جزاکم اللہ، والسلام"
  • جنوری
1995
غازی عزیر
مسلم یو نیورسٹی علی گڑھ سے شائع ہو نے والا اُردو ماہنا مہ "تہذیب الاخلاق "مجریہ ماہ مئی 1988ء را قم کے پیش نظر ہے ۔شمار ہ ہذا میں جنا ب مولوی شبیر احمد خاں غوری صاحب (سابق رجسٹر ارامتحانات و فارسی بورڈ سرشتہ تعلیم الٰہ آباد یو ،پی) کا ایک اہم مضمون زیر عنوان "اسلام اور سائنس "شائع ہوا ہے آں موصوف کی شخصیت بر صغیر کے اہل علم طبقہ میں خاصی معروف ہے آپ کے تحقیقی مقالات اکثر برصغیر کے مشہور علمی رسا ئل و جرا ئد کی زینت بنتے رہتے ہیں آں محترم نے پیش نظر مضمون کے ایک مقام پر بعض انتہائی "ضعیف " اور ساقط الاعتبار احادیث سے استدلال کیا ہے جو ایک محقق کی شان کے خلا ف ہے چنانچہ رقم طراز ہیں ۔
  • جنوری
2000
غازی عزیر
ایک استفتاء میں سائل کہتا ہے کہ ''ان دنوں ہم ابلاغ عامہ کے تمام ذرائع کی نشریات میں بکثرت عیسی سال ۲۰۰۰؁ء کی تکمیل اور تیسرے ہزار سالہ عہد کی ابتداء کی تقریب کی مناسبت سے بہت سی باتیں اور کارروائیاں ملاحظہ کرتے ہیں۔ یہودیوں اور عیسائیوں وغیرہ میں سے کفار اس تقریب کی بہت خوشیاں منا رہے ہیں اور اس موقع کو امید کی کرن تصور کرتے ہیں۔
  • فروری
1985
غازی عزیر
تاریخِ اسلام کے ابتدائی دور سے ہی کسی نہ کسی شکل میں کچھ گروہ، دین کی تخریب کاری اور امتِ مسلمہ میں انتشار و افتراق کے ذمہ دار رہے ہیں۔ اس گروہ کے مختلف طبقات میں سے ہمیں دو طبقے ایسے نظر آتے ہیں جنہوں نے ادعائے اسلام کے باوجود اسلامی تعلیمات کو شدید مجروح کیا اور اپنی مشقِ ستم کا نشانہ بنایا ہے۔ ان میں سے ایک طبقہ "اہل تشیع" یا "شیعہ" کے نام سے معروف ہے۔ اور دوسرا "اہل تصوف" یا "صوفیاء" کے نام سے۔
  • مارچ
1985
غازی عزیر
امیر المومنین حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کے متعلق خمینی کے جو افکار ہیں وہ بھی قابل ذکر ہیں۔ذیل میں ان کی تحریر سے چند اقتباسات نقل کئے جارہے ہیں:
"ایسے حاکم کو عامۃ الناس پر تدبیر مملکت اور تنفیذ احکام کے وہ تمام اختیارات حاصل ہوں گے۔جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور امیر المومنین حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ   کو حاصل تھے۔خصوصاً بوجہ اس فضیلت اور علو مرتبت [1] کے جو اول الذکر کو رسول خدا اور ثانی الذکر کو امام ہونے کی حیثیت سے حاصل تھا۔"(الحکومۃ الاسلامیہ للخمینی ترجمہ مولانا محمد نصر اللہ خاں ص117) اورفرماتے ہیں کہ:"اللہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جملہ اہل ایمان کا ولی بنایا ہے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی  یہ روایت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے ہر شخص پرحاوی [2]ہے۔"آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد امام(حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  )  اہل ایمان کے ولی ہیں۔دونوں کی ولایت کا مطلب یہ ہے کہ ان کے شرعی احکام جملہ اہل ایمان پر نافذ ہیں۔ولایۃ وقضاۃ کا تقرر بھی انہی کے ہاتھ میں ہے اور حالات کے تقاضے کےمطابق ان کی نگرانی اور معزولی بھی انہی کے دارئرۃ اختیار میں ہے۔"(الحکومت الاسلامیہ للخمینی ص119)
  • اپریل
1985
غازی عزیر
آیت اللہ خمینی  کے عقائد و افکار کی ایک ہلکی سی جھلک آپ نے ملاحظہ فرمائی ، اب اندرون و بیرون ملک ان کا کیا کردار ہے ، اس کی طرف بھی ذرا سی توجہ فرمائیں ۔ بقول ماہنامہ الفرقان لکھنؤ:
’’ ایران کے سرکاری مہمان خانہ بزرگ ( استقلال ہوٹل ) میں ٹھہرے ہوئے بیرونی مہمان اس قسم کے بیتر بالعموم دیکھتے ہیں جن پر لکھا ہوتاہے :
’’ سنتحد وسنت لاحم حتي نسترد من ايدي المقصبين اراضينا المقدسة القدس والكعبة والجولان ‘‘
’’ یعنی ہم متحد ہوں گے او رجنگ آزما ہوں گے یہاں تک کہ غاصبوں کے قبضے میں سے اپنی مقدس زمینیں یعنی بیت المقدس ، کعبہ اور گولان واپس لے لیں ۔ ‘‘ ( ماہنامہ الفرقان لکھنؤ مجریہ ماہ ستمبر 1983 )
روزنامہ ’’ جسارت‘‘ کراچی میں جماعت اسلامی پاکستان کے مشہور اہل قلم و رکن جناب خلیل حامدی صاحب کا ایک مکتوب شائع ہوا تھا جس کا اقتباس پیش خدمت ہے
  • جنوری
1992
غازی عزیر
غار جبل الثور کے دہانہ پر رونما ہونے والے معجزات کا جائزہ

عام طور پرمشہور ہے کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تبارک وتعالیٰ کی جانب سے ہجرت کا اذن مل گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت کے آغاذ میں اپنے رفیق سفر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ جبل الثورکے غار میں تین رات تک پوشیدہ رہے
  • اکتوبر
1990
غازی عزیر
ابلیس کے جس کی اصل جن ہے،کےلغوی معنی پر ر وشنی ڈالتے ہوئے ابو یعلیٰ ؒ فرماتے ہیں:
"جن یعنی مستور اصلاً،استتار،سے مشتق ہے۔جن سے جنین یعنی وہ بچہ جو ماں کے رحم میں ہو اور نظر نہ آئے،اور مجنون الفاظ نکلے ہیں کیونکہ پاگل کا خبال عقل مستور ہوتا ہے۔ 
اس طرح "بہشت" کو "جنت" بھی اس لئے کہاجاتا ہے کہ وہ مستور ہے اور ہماری نظریں اسے دیکھنے سے قاصر ہیں۔
عام طور پر یہ بات مشہور ہے کہ"ابلیس" پہلے فرشتوں میں انتہائی عابد،پرہیز گار،عالم،اور مجتہد بلکہ دربارالٰہی کا مقرب ترین فرشتہ تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی کرنئ کرنے کی وجہ مسے مردود ٹھہرا۔بعض لوگ اسے معلم الملکوت طاؤس الملائکۃ،خازن الجنت،اشرف الملائکہ ،رئیس الملائکہ اور نہ جانے کیا کیا بتاتے ہیں لیکن فی الواقع ملائکہ میں اس کی فضیلت تودرکنار بنیادی طور پر اس کا فرشتہ ہونا بھی انتہائی مشکوک بات ہے۔
  • مئی
1990
غازی عزیر
طبرانی حاکمؒ اور آجری ؒ کی ان تینوں سندوں میں عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم موجود ہے جو انتہائی مجروح راوی ہے امام احمد بن حنبل ؒ ،ابن المدینی ،بخاریؒ ،ابو داؤد،نسائی،ابو حاتمؒ،ابو زرعہؒ، ابن سعد ؒ ، جو زجانی ؒ عقیلیؒ، ذہبیؒ،ہثیمیؒ، اور ابن حجر عسقلانی ؒ وغیرہ نے اسے ضعیف کہا ہے۔ابن معین ؒ فرماتے ہیں۔اُ کی حدیث کچھ بھی نہیں ہوتی ۔علامہ  ذہبیؒ عثمان الدارمی ؒ کے حوالے سے فرماتے ہیں کہ یحییٰ ؒ نےفرمایا وہ ضعیف ہے ۔"ایک اور مقام پر علامہ ذہبیؒ بیان کرتے ہیں کہ "عبدالرحمٰن بن زید واہ یعنی کمزور ہے۔ابن خزیمہؒ کا قول ہے "یہ ان میں سے نہیں ہے۔جس کی حدیث کوا ہل علم حجت جانتے ہیں۔اور اس کا حافظہ خراب ہے۔طحاوی ؒ فرماتے ہیں۔اس کی حدیث علمائے حدیث کے نزدیک انتہائی ضعیف ہوتی ہے۔ساجی ؒ نے اسے منکر الحدیث " بتایا ہے ابو نعیم ؒ اور حاکم ؒ فرماتے ہیں اپنے والد سے موضوع احادیث روایت کرتا ہے۔
  • اپریل
1985
غازی عزیر
ابو البشر حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ قرآن کریم میں کچھ اس طرح بیان ہوا ہے ،سورۃ البقرۃ میں ارشاد ہوا ہے۔

﴿ وَقُلنا يـٰـٔادَمُ اسكُن أَنتَ وَزَوجُكَ الجَنَّةَ وَكُلا مِنها رَ‌غَدًا حَيثُ شِئتُما وَلا تَقرَ‌با هـٰذِهِ الشَّجَرَ‌ةَ فَتَكونا مِنَ الظّـٰلِمينَ ﴿٣٥﴾ فَأَزَلَّهُمَا الشَّيطـٰنُ عَنها فَأَخرَ‌جَهُما مِمّا كانا فيهِ وَقُلنَا اهبِطوا بَعضُكُم لِبَعضٍ عَدُوٌّ وَلَكُم فِى الأَر‌ضِ مُستَقَرٌّ‌ وَمَتـٰعٌ إِلىٰ حينٍ ﴿٣٦﴾... سورة البقرة
  • جولائی
1988
غازی عزیر
حدیث کی تحقیق

اب اس باب کی باقی ماندہ روایات کے تمام طریق اسناد اور ان کے جملہ رواۃ کا محدثین و ائمہ جرح و تعدیل کے نزدیک مرتبہ و مقام کا جائزہ بھی لیتا چلوں جو حضرات علی بن ابی طالب ، ابن مسعود، ابن عباس، ابوسعید الخدری، جابر اور ابن عمر رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں۔
  • دسمبر
1999
غازی عزیر
اعتکاف رمضان المبارک کا ایک اہم عمل ہے۔جس کے مسائل اکثر لوگ پوچھتے رہتے ہیں بعض مساجد کی انتظامیہ معتکف حضرات کی سرگرمیوں سے شاکی بھی ہوتی ہے۔ذیل میں مسجد کے انتظام وانصرام سے وابستہ ایک صاحب نے تفصیلی طور پر چند چیزوں کے بارے میں علماء سے استفسار کیا ہے کہ ان امور کی قرآن وسنت کی روشنی میں شرعی حیثیت کی وضاحت کی جائے۔ان استفسارات میں سے راقم کی نگاہ میں اہم نکات صرف یہ ہیں:
1۔کیا مسجد میں چھوٹے بڑے حتیٰ کہ غیر روزہ دار بچوں کا  جمع کرنا جائز ہے؟
2۔کیامعتکف(اعتکاف کرنے والے) کے لیے ان بچوں کے ساتھ مشغول ہونا درست ہے؟
3۔کیا تمام اہل خاندانکا کسی تقریب کے مثل مسجد میں جمع ہوکر کھانا پینا درست ہے؟
4۔بچوں کا مسجد میں شوروغوغا کرنا اور اپنی چیخ پکار سے نمازیوں اور اعتکاف کرنے والوں کو اذیت دینا کیسا ہے؟
5۔معتکفین کا اپنے اہل خانہ کے ساتھ دیر تک گفتگو بلکہ گپ شپ  میں مصروف رہنا کیا ہے؟
6۔ایسے بچوں کا مسجد میں لانا جو وہاں  پیشاب کردیتے ہوں ،کیسا ہے؟
7۔معتکف کے لیے بچوں کو ابتدائی اردو یا قرآن وغیرہ کادرس دینا کیسا ہے؟
8۔بچوں کے ساتھ پیارومحبت کرنا کیسا ہے؟
9۔معتکف کے لیے معلمی،خیاطی یا جلد سازی کرنے کا کیا حکم ہے؟
  • اکتوبر
1984
غازی عزیر
امام غزالی اور علمِ قرآن:

امام غزالی کو قرآن کریم سے کس قدر شغف رہا ہے، اس بات کی وضاحت کے لیے ذیل میں چند مثالیں پیش کی جا رہی ہیں۔

قرآن کریم میں ایک آیت ہے:
  • اکتوبر
1984
غازی عزیر
(قسط 4)

ذیل میں امام غزالی کے کچھ تصوف آمیز اقوال اور ان پر بعض اکابرین کی آراء نقل کی جا رہی ہیں:

امام غزالی کی ایک اہم کتاب جس کی نسبت کے متعلق کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں۔ "المنقذ من الضلال" ہے۔ اس کتاب میں امام غزالی فرماتے ہیں:
  • جنوری
1987
غازی عزیر
اس مضمون کی روایات حضرات علیؓ، ابن عباسؓ او رجابرؓ سے مختلف الفاظ کے ساتھ مروی ہیں، جسےشیعہ حضرات خلیفة الرابع حضرت علی ابن ابی طالبؓ کے فضائل و مناقب میں بہت شدومد کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ذیل میں اس مضمون کی تمام روایات اور ان کےتمام طرق کا علمی جائزہ پیش کیاجاتا ہے، تاکہ مذکورہ حدیث کا مقام و مرتبہ واضح ہوجائے۔ واللہ المستعان!
  • مارچ
1987
غازی عزیر
ملّا علی قاری حنفی (م1014ھ)نے حدیث ''اَنَا مَدِینَۃُ العِلمِ وَعَلِی بَابُھَا'' کو اپنی''موضوعات کبیر''میں ذکر کیا ہے، آپ فرماتے ہیں:''اسے ترمذی نے اپنی جامع میں نقل کرکے لکھا ہے ، یہ حدیث منکر ہے۔'' سخاوی کہتے ہیں: '' اس کی صحت کی کوئی وجہ موجود نہیں۔'' یحییٰ بن معین فرماتے ہیں، ''یہ بالکل جھوٹ ہے، اس کی کوئی اصل نہیں۔'' ابوحاتم اور یحییٰ بن سعید القطان کی بھی یہی رائے ہے۔ ابن الجوزی نے اسے موضوعات میں نقل کیا ہے۔ ذہبی وغیرہ نے اسے موقوف قرار دیاہے۔ ابن دقیق العید کہتے ہیں: ''یہ حدیث ثابت نہیں او ریہ بھی کہا جاتا ہے کہ یہ باطل ہے........ الخ''1
  • فروری
1987
غازی عزیر
حضرت جابرؓ کی روایت ، جس کے آخر میں ''فمن اراد الدار فلیات الباب'' کے الفاظ مروی ہیں، کا طریق اس طرح ہے:''انبأنا اسمٰعیل بن احمد السمرقندی قال انبأنا اسمٰعیل بن مسعدة قال انبأنا حمزة بن یوسف قال انبأنا ابواحمد بن عدی قال حدثنا العنمان ابن بکر ون البلدی و محمد بن احمد بن المؤمل و عبدالملک بن محمد قال سمعت جابر بن عبداللہ قال سمعت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوم الحدیبیة وھو اخذ بصبغ علی.......................... انا مدینة العلم..................... الخ''
  • اکتوبر
1992
غازی عزیر
"اتقوا فراسة المؤمن، فإنه ينظر بنور الله,

"مومن کی فراست سے ڈرتے رہو کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے د یکھتا ہے"

نمبر 4۔حضرت ابو ہریرۃ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی مرفوع حدیث کاجائزہ:
  • اپریل
1992
غازی عزیر
(إتقوا فراسة المؤمن فإنه ينظر بنور الله )
(مومن کی فراست سے ڈرتے رہو،کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے نور سے دیکھتا ہے)
قرآن کریم کی آیت ﴿ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْمُتَوَسِّمِينَ ﴿٧٥﴾...الحجر  کی شرح میں بیان کی جانے والی اس حدیث نے علمائے شریعت اور عوارف ہردو طبقات میں بہت شہرت حاصل کی ہے۔آیت مذکورہ  میں لفظ"(متوسمین)" کی تفسیر میں امام ترمذی ؒ بعض اہل علم حضرات سے نقل فرماتے ہیں کہ اس سے مراد(متفرسین) ہے۔
  • جنوری
1993
غازی عزیر
پیش نظر مضمون راقم نے جناب حکیم محمداجمل خان صاحب شکراوی (مدیر 'مجلّہ اہلحدیث' گڑ گاؤں) کے ایماء پر آج سے تقریباً 13 سال قبل اپنی طالب علمی کے زمانہ میں مرتب کیا تھا لیکن دفتر 'مجلّہ' کی بدنظمی کے باعث کاغذات کے انبار میں کہیں دَب کر شائع نہ ہوپایا اور نہ ہی باوجود طلب کرنے کے واپس نہ مل سکا تھا۔ چند ماہ قبل پرانے کاغذات کی ذاتی فائل کی ورق گردانی کے دوران اتفاقاً 'مجلّہ اہلحدیث' کوبھیجے جانے والے مضمون کے مسودہ کے چند اوراق دستیاب ہوئے جن کو نظرثانی اور
  • جولائی
1995
غازی عزیر
تسویۃ الصفوف کا معنی:۔
"تسویۃ الصفوف"کا معنی امام نووی رحمۃ اللہ علیہ  یو ں فرما تے ہیں ۔
"تسویۃالصفوف،یعنی صفوں کو برا بر اور سیدھی کرنے سے مراد "اتمام الاول فالاول " صفوں میں جو خلا یا شگا ف ہوں،انہیں بند کرنا اور نماز کے لیے صف میں کھڑے ہو نے والوں کی اس طرح محاذات (برا بری)ہے کہ کسی فرد کا سینہ یا کو ئی دوسرا عضو اس کے پہلو میں کھڑے دوسرے نمازی سے آگے نہ بڑھنے پا ئے۔اسی طرح جب تک پہلی صف پوری نہ ہو ،دوسری صف بنانا غیر مشروع ہے اور جب تک اگلی صف مکمل نہ ہو جائے کسی نمازی کا پچھلی صف میں کھڑے ہو نا بھی درست نہیں ہے۔(5)حافظ بن حجر  عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ  اور علامہ شمس الحق عظیم آبادی  رحمۃ اللہ علیہ  فر ما تے ہیں ۔
  • اکتوبر
1994
غازی عزیر
(تقریباًدو ہفتہ قبل ایک ہینڈ بل نظر سے گذرا تھا جس میں "تیمم کرنے کا طریقہ " درج تھا۔ یہ طریقہ چونکہ قرآن و سنت کے صریح اور واضح احکا م کے خلا ف تھا لہٰذا "الدین النصیحة  " کی اتباع میں تقسیم کنندہ کو متنبہ کرنا ضروری سمجھا گیا ۔۔لیکن انتہائی افسوس کا مقام ہے کہ سیدھی سادی بات کو سمجھنے کے بجا ئے قرآن و سنت کے مقابلہ میں برصغیر کے چند معروف علماء کے اقوال کو بطور سند پیش کیا گیا فإنا اللہ وإنا إلیه راجعون ۔۔۔اس سلسلہ کی آخری کو شش اور اتمام حجت کے طور پر یہ مختصرمضمون قلمبند کر رہا ہوں ۔شاید کہ بعض بھا ئیوں کو عبرت اور قبول حق کی تو فیق ہو جا ئے ۔۔۔مرتب)تقسیم شدہ ہینڈ بل کی عبارت حسب ذیل ہے۔
  • مئی
  • جون
1995
غازی عزیر
ہندوستان  وپاکستان سے آنے والے حجاج کرام کے پاس فریضہ حج کی ادائیگی اور زیارت مقامات مقدسہ کی رہنمائی کرنے والی کتب ہوتی ہیں۔ان میں سے بیشتر کتب میں مسنون طریقہ نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  کو چھوڑ کرانتہائی ضعیف بلکہ کبھی کبھی موضوع روایات کوجمع کیا ہوا دیکھ کر انتہائی تعجب اور قلق ہوتاہے ،زیر نظر مضمون اسی سلسلہ کی ایک اصلاحی کوشش ہے۔
عام طور پرمشہور ہے کہ جس حج کا"یوم عرفہ" جمعہ کے دن پڑے،وہ حج"حج اکبر" کہلاتا ہے۔اور اس ایک"حج اکبر" کا ثواب ستر عام حج سے بڑھ کرہوتاہے۔لہذا اس حج میں شرکت کے بہت بڑی سعادت وخوش نصیبی تصور کیا جاتا ہے۔ماہ ذوالحجہ کے ہلال کی روئیت کے اعلان کے مطابق  اگر یوم عرفہ بروز جمعہ پڑتا ہے تو سعودی عرب میں مقیم تارکین وطن کی اکثریت اس میں شرکت کے لیے  کوشاں وبے قرار ہوجاتی ہے۔اسی طرح بیرون ملک سے تشریف لانے والے حجاج کی تعداد میں بھی خاصہ اضافہ ہوجاتاہے۔
وہ روایت جس میں"حج اکبر" کی مزعومہ فضیلت کا ذکر ہے،ان شاء اللہ آگے پیش کی جائے گی۔فی الحال اس بات کی تعین کرنا مقصود ہے کہ احادیث نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  میں حج اکبر کس چیز کو کہا گیا ہے؟کس حج کا اجر مقام افضل وارفع بتا یا گیا ہے؟نیز وہ حج جس کا"یوم عرفہ" ہفتہ کے عام دنوں میں پڑے اور وہ حج جس کا"یوم عرفہ" جمعہ کے دن پڑے۔ان کے فضائل میں کیا اور کس درجہ فرق ہے؟
احادیث نبوی  صلی اللہ علیہ وسلم  کے تقریباً ہر مشہور مجموعہ(مثلاً صحیح بخاری رحمۃ اللہ علیہ ،صحیح مسلم  رحمۃ اللہ علیہ ،جامع ترمذی رحمۃ اللہ علیہ ،سنن ابو داود رحمۃ اللہ علیہ ،اور مسند احمد  رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ) میں "حج اکبر" کا ذکر موجود ہے۔لیکن جہاں  جہاں بھی اس کا ذکر وارد ہواہے،وہاں اس سے مراد "یوم نحر" ہے  نہ کہ وہ جو عام طور پر مشہور اور زیر مطالعہ مضمون میں ہمارا ہدف تنقید ہے۔
  • نومبر
1994
غازی عزیر
زیر عنوان حدیث کو امام ابن ابی حاتمؒ اور ابن مردویہ ؒ نے قرآن کریم کی آیت ﴿إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ .... ﴿٤٥﴾...العنكبوت
(ترجمہ :بیشک نماز فحش باتوں اور منکرات سے روکتی ہے)
کی تفسیر میں بطریق (محمد بن هارون المخرزمي الفلاس حدثنا عبد الرحمن بن نافع ابو زياد حدثنا عمر بن ابى عثمان حدثنا الحسن عم عمر أن بن الحصين قال : سئل النبى صلى الله عليه وسلم عن قول الله تعالى:﴿ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ﴾قال فذكره
(یعنی حضرت عمران بن الحصین رضی اللہ  تعالیٰ  عنہ   روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم   صلی اللہ علیہ وسلم  سے کسی شخص نے اللہ تعا لیٰ کے اس ارشاد کہ نماز بے شک تمام فحش باتوں اور منکرا ت سے روکتی ہے کہ متعلق سوال کیا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم  نے فر مایا :پھر یہ حدیث بیان کی )روایت کیا ہے مشہور مفسر قرآن امام ابن کثیر ؒ نے اپنی تفسیر (6)میں اور ابن عروہؒ نے کو کب الدراری (3)میں اس حدیث کو وارد کیا ہے لیکن اس حدیث کی سند میں کئی امور محل نظر ہیں پہلی چیز یہ کہ آئمہ کے نزدیک حضرت عمران بن الحصین ؒسے حضرت  حسن بصریؒ کا سماع مختلف فیہ ہے اگرچہ امام بزار ؒنے اپنی "مسند "(4) میں اور امام حاکم ؒ نے اپنی مستدرک علی الصحیحین "(5)میں حسن بصری ؒکے عمران بن الحصین ؒ سے سماع کی صراحت کی ہے لیکن علامہ مار دینی ؒ فر ما تے ہیں ۔
  • اپریل
1989
غازی عزیر
اس کے آگے محترم ڈاکٹر صاحب نے نفسِ مضمون سے ہٹ کر، کذب کی اقسام، کذب بصورتِ اکراہ، توریہ، قانونی مشیر، طبیب اور زہر و تریاق کی غیر متعلق [1]بحثوں کو چھیڑ کر خلطِ مبحث کرنا چاہا ہے، ہم غیر ضروری طوالت سے بچنے کے لیے اس حصہ پر کلام کرنے سے قصدا گریز کرتے ہیں۔ پھر ڈاکٹر صاحب فرماتے ہیں:
"زیرِ بحث، حدیث کے مطعون راوی عہدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم سے کئی نسلوں بلکہ کئی صدیوں بعد کے لوگ ہیں، اگر آئندہ خوش قسمتی سے اُن سے پہلے کے راویوں (صحابہ رضی اللہ عنہم، تابعین رحمۃ اللہ علیہم، تبع تابعین رحمۃ اللہ علیہم وغیرہ) کی کتابیں دستیاب ہو جائیں (اور الحمدللہ ہو رہی ہیں) اور ان میں یہ حدیث بھی مل جائے تو ظاہر ہے کہ متاخر زمانے کے کسی ضعیف یا جھوٹے راوی نے بھی اس حدیث کی روایت کی ہو تو اس سے اصل حدیث کی صحت متاثر نہ ہو سکے گی۔"
  • مارچ
1989
غازی عزیر
(ماہنامہ محدث کے دو (2) قریب شماروں[1] میں راقم الحروف کا ایک مضمون زیرعنوان "حدیث، " أطلبوا العلم ولو بالصین" بالاقساط شائع ہوا تھا۔ مضمون ہذا پر عصرِ حاضر کے ایک فاضل محقق محترم جناب ڈاکٹر محمد حمیداللہ صاحب (پیرس) حفظہ اللہ نے حدیث، " أطلبوا العلم ولو بالصین" (کے اسانید) کی تحقیق" کے عنوان کے تحت تعاقب فرمایا ہے جو ماہنامہ "محدث" لاہور کے تازہ شمارہ [2]میں شائع ہوا ہے۔ ذیل میں آں محترم کے اس تعاقب کے بعض پہلو کو، جو قابل جواب یا وضاحت طلب محسوس ہوئے ہیں انہیں ترتیب دے کر پیش کر رہا ہوں)
اوپر بیان کیا جا چکا ہے کہ فاضل تعاقب نگار محترمی ڈاکٹر صاحب نے تعاقب کا عنوان اس طرح مقرر فرمایا ہے: "حدیث " أطلبوا العلم ولو بالصین"  (کے اسانید) کی تحقیق" مگر پورے تعاقب کو پڑھ کر راقم کی حیرانی کی کوئی انتہا نہ رہی کیونکہ پورے تعاقب میں حدیث مذکورہ کی اسانید کی تحقیق تو کجا سرے سے کہیں ان کا تذکرہ تک موجود نہیں ہے اور نہ ہی آں محترم نے راقم الحروف کے سابقہ مضمون کی کسی عبارت یا روایت پر کوئی نقد و جرح یا بحث کی ہے۔ البتہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آں محترم نے اپنے تعاقب کی پوری عمارت چند شبہات احتمالات اور مفروضوں کی بنیاد پر کھڑی کی ہے اور انہیں اسانید کی تحقیق سے ممنون کیا ہے۔ اس کی وضاحت ان شاءاللہ آگے پیش کی جائے گی۔ کاش محترم ڈاکٹر صاحب زیر مطالعہ حدیث پر کوئی ٹھوس علمی بحث پیش فرماتے یا ان نقائص کی نشاندہی فرماتے۔ جو آں محترم نے راقم الحروف کے سابقہ مضمون میں محسوس فرمائیں۔
  • جنوری
1996
غازی عزیر
مجلس التحقیقی الاسلامی لاہور کا مؤقر علمی مجلہ ماہنامہ "محدث" مجریہ ماہ سوال/ ذوالقعدہ 1410ھ بمطابق مئی/جون 1990ء پیش نظر ہے۔ کتاب و حکمت کے تحت سلسلہ وار شائع ہونے والی نواب صدیق حسن خان رحمہ اللہ کی مشہور اردو تفسیر "ترجمان القرآن" کی جاری قسط میں "رعد" اور "صاعقہ" کی تفسیر و معانی بیان کرتے ہوئے ایک حدیث یوں نقل کی گئی ہے:
  • مارچ
1996
غازی عزیر
بعض روایات میں آیا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھتے اور اس سے فارغ ہوتے تو اپنے داہنے ہاتھ سے سر پر مسح فرماتے، اور یہ دعا معمولی لفظی اختلاف کے ساتھ وارد ہوئی ہے جیسا کہ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ، اپنی کتاب الاذکار میں ابن السنی رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب سے حضرت انس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اس طرح نقل فرماتے ہیں:
  • اگست
1989
غازی عزیر
شیعہ مبلغین اپنی مجالس وعظ میں بڑی شدومد کے ساتھ یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  مجھ سے ہیں اور میں اُن سے ہوں۔"آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا اس امر کی دلیل ہے  کہ حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  تمام صحابہ کرام  رضوان اللہ عنھم اجمعین  سے افضل وبرتر ہیں۔کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کے متعلق ایسا فرما کر انھیں اپنے نفس سے قراردیا ہے۔جب کہ یہ سعادت اور مقام ومرتبہ کسی دوسرے صحابی کا مقدر نہ  بن سکا۔"[1]
شیعہ علماء کے ان تمام دعاوی کا جائزہ ان شاء اللہ آگے پیش کیا جائے گا۔
  • جولائی
1990
غازی عزیر
(ج)حضرت آدم علیہ السلام کی وسیلہ اختیار کرنے والی حدیث کے آخر میں (عربی)(یعنی اگر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہو تے تو میں تم کو بھی پیدا نہ کرتا )وارد ہے جو عقائد سے متعلق ایک اہم ترین مسئلہ ہے چونکہ اسے لیے کو ئی متواتر نص موجود نہیں ہے لہذا کتاب اللہ اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کی صحت ثابت کرنا محال ہے اس حدیث کو مختلف لوگ مختلف الفاظ اور مختلف مضامین کے ساتھ بیان کرتے ہیں شعیہ حضرات اور باطنیہ فرقہ کے لوگوں کا دعویٰ ہے کہ :
  • جنوری
1988
غازی عزیر
اب مولانا عبدالحئی مرحوم کی دوسری بیان کردہ حدیث پیش ہے جو کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے یعنی:

«أَوْحَى اللَّهُ إِلَى عِيسَى عَلَيْهِ السَّلَامُ يَا عِيسَى آمِنْ بِمُحَمَّدٍ وَأْمُرْ مَنْ أَدْرَكَهُ مِنْ أُمَّتِكَ أَنْ يُؤْمِنُوا بِهِ فَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ آدَمَ وَلَوْلَا مُحَمَّدٌ مَا خَلَقْتُ الْجَنَّةَ وَلَا النَّارَ)

اسے حاکم رحمۃ اللہ علیہ نے اپنی مستدرک میں وارد کیا ہے اور فرمایا ہے کہ: "یہ صحیح الاسناد ہے۔
  • نومبر
1987
غازی عزیر
"حقیقت محمدیہ" اور "نور نبوی" کی تحقیق سے قبل ضروری ہے کہ پہلے اس کر کے پس منظر یعنی تخلیق کائنات کی ابتداء کے متعلق قدیم فلاسفہ کا نظریہ بیان کر دیا جائے، جو مختصرا اس طرح ہے:

بدأ في الخلق هو الهباء (أي الذرات) وإن أول موجود وجد هو العقل الأول وسموه (العقل الفعال) ، وأنه عن هذا العقل الأول نشأ العالم العلوي السماوات والكواكب ثم العالم السفلي. . إلخ.
  • مئی
1987
غازی عزیر
شادی بیاہ کی تقریبات او راس کے خود ساختہ لوازم و رسوم نے دور حاضر میں جس بڑے پیمانے پر معاشرتی بُرائی کی صورت اختیار کرلی ہے، اس کا شدید احساس ہر صاحب نظر اور ملک و ملّت کے بیشتر دردمند حضرات کو ہے۔آپ کو اپنے ہی علاقہ میں متوسط طبقہ کے ایسے بے شمار گھر مل جائیں گے جہاں مسلمان بیٹیاں او ربہنیں شادی کے بغیر صرف اس لیے بیٹھی اپنی عمریں ضائع کررہی ہیں کہ ان کے والدین اور سرپرست اپنی معاشی
  • جون
1987
غازی عزیر
لفظ ''ولیمہ'' ''ولم'' سے مشتق ہے۔ ''ولم'' یا ''أولم'' کامعنی عربی لغت میں ''مأدبة'' ہوتا ہے۔ جسے اردو زبان میں ''دعوت طعام'' انگریری میں "Feast" یا "Banquet" کہتے ہیں۔1 ولیمہ کی تعریف بیان کرنےمیں علماء مختلف الآراء ہیں، بعض کہتے ہیں کہ ہر خوشی کی تقریب (خواہ شادی بیاہ ہو یا ختنہ و عقیقہ وغیرہ) پر دعوت طعام ولیمہ کہلاتی ہے، بعض کہتے ہیں کہ ولیمہ صرف طعام العرس کے لیے خاص ہے اور بعض کہتے ہیں ، طعام
  • جولائی
1987
غازی عزیر
 9۔آخری علت یہ ہے کہ سرور و خوشی اور فرحت و تزویج کے مواقع پر دعوت طعام کرنا انبیاء علیہم السلام کا شیوہ او ران کی سنت رہی ہے۔ چنانچہ بادشاہ حبشہ نجاشی کے کلام سے مستفاد ہوتا ہے، جسے طبری نے سیر میں اس طرح نقل کیا ہے:
  • جولائی
1998
غازی عزیر
حضرت ابوقتادہ سےمروی ہے:
'' قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أقيمت الصلاة فلاتقومو ا حتى ترونى"
'' رسول الہ ﷺ نےفرمایا کہ جب نماز کےلیے اقامت کہی جائے توجب تک مجھے نہ دیکھ نہ لو، کھڑے نہ ہواکرو،،
بعض روایات میں قد خرجب کےالفاظ بھی وار د ہیں ۔
امام ترمذی ﷫ اس حدیث کو'' حسن صحیح ،، قرار دیا ہے ۔
حافظ ابن حجر عسقلانی اس حدیث کےالفاظ لاتقوموا کی شرح میں فرماتےہیں :''اس کھڑے ہونےکی ممانعت مذکور ہے،، ۔اور اگلے قول حتی ترونی کی متعلق فرماتےہیں :''اس میں امام کودیکھنے پرکھڑے ہونےکاحکم وارد ہے۔ یہ حکم مطلق ہےاوراقامت کےکسی مخصوص جملے کےساتھ مقید نہیں ہے،،
  • اگست
1993
غازی عزیر
ڈاکٹر ناصر بن عبد الکریم العقل حفظہ اللہ کی شخصیت بلاد عرب میں کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔آں محترم عقیدہ پر تخصیص کی حیثیت سے خاصے معروف ہیں ۔بلا شبہ اس موضوع پر پوری بصیرت رکھتے ہیں ۔کئی کتب کے مؤلف اور محقق بھی ہیں ۔

پیش نظر کتابچہ بھی آپ کی مشہور تصنیف کا اردو ترجمہ ہے جو کہ اہل السنت والجماعت کے عقائد سے متعلق ہیں ۔
  • فروری
1986
غازی عزیر
تمام مستند احادیث اور روایات کے مطالعہ سے یہ بات وثوق کی حد تک پہنچ جاتی ہےکہ عہد نبویؐ اور خلفائے راشدینؓ کے ادوار خلافت میں تمام صحابہؓ و تابعینi کا اس سنت پر عمل رہا ہے، بعد کے ادوار میں بھی تمام اہل علم او رعامل بالحدیث طبقہ میں اس سنت پر سختی کے ساتھ عمل کیا جاتا رہا ہے، نیز اس پر خود رسولﷺ کا عمل کرنا اور آج تک اس پر تواتر کے ساتھ عمل ہوتے چلے آنا بذات خود اس کی مشروعیت کی واضح دلیل
  • اپریل
1986
غازی عزیر
عقیقہ صرف بکری، مینڈھا اور دنبہ سے ہی کیا جانا چاہیے جیساکہ اوپر ذکر کیا گیا ہے۔بھینس ، گائے اور اونٹ ذبح کیے جانے کے متعلق کووی صحیح او رقابل اعتماد حدیث موجود نہیں ہے۔لہٰذا اس مسئلہ میں اکثر علمائے سلف و خلف، ائمہ حدیث اور مجتہدین کا عمل اور فتویٰ یہی ہے کہ بھیڑ،یا بکری یا دُنبہ کے علاوہ کسی دوسرے جانور سے عقیقہ کرنا سنت مطہرہ سے ثابت اور صحیح نہیں ہے۔عقیقہ میں اونٹ ذبح کرنے کے متعلق حضرت
  • مئی
1986
غازی عزیر
اگر ذبح کرنے والا شخص عقیقہ کے متعلق صرف نیت کرلے اور ''بسم اللہ اللہ اکبر'' پڑھ کر ذبح کرڈالے او رمولود کا نام نہ لے تو بھی عقیقہ ہوجائے گا۔
عقیقہ کے گوشت کی تقسیم اور استعمال
عقیقہ کے گوشت کی تقسیم و استعمال کے متعلق جو ذبیحہ اضحیہ کے احکام ہیں، وہی ذبیحہ عقیقہ کے بھی ہیں۔ یعنی اس میں سے خود اہل خانہ کھائیں،
  • جنوری
1986
غازی عزیر
یہ مضمون لکھنے کا داعیہ جناب مولانا محمد یوسف لدھیانوی صاحب کا ایک فتویٰ پڑھ کر پیدا ہوا۔ جو آں موصوف نے ، ماہناہ ''اقراء ڈائجسٹ'' کراچی کے مجریہ ماہ جولائی 1985ء میں''دینی مسائل کا فقہی حل'' کے مستقل عنوان کے تحت، ایک مستفتی کا جواب دیتے ہوئے تحریر فرمایا، انہوں نے لکھا ہے کہ:''جن جانوروں کی قربانی جائز ہے ان سے عقیقہ بھی جائز ہے۔بھینس بھی ان جانوروں میں شامل ہے۔اسی طرح جن جانوروں میں
  • مارچ
1986
غازی عزیر
عمرو بن شعیب اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں:''ان النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم امر بتسمیۃ المولود یوم سابعہ ووضع الاذٰی عنہ والعق''''نبی ﷺ نے مولود کا نام اس کے ساتویں دن رکھنے، اس کی تکلیف دور کرنے اور عقیقہ کرنے کا حکم فرمایا''اس حدیث کو شارح صحیح مسلم امام نووی  نے اپنی مشہور کتاب ''الاذکار'' او رامام ابن تیمیہ نے ''صحیح الکلام الطیب'' میں بھی نقل کیا ہے۔بعض دوسری احادیث میں بھی
  • نومبر
1999
غازی عزیر
شیخ محمد ناصر الدین البانی رحمہ اللہ کو ان کے علمی مشاغل نے کبھی اتنی مہلت نہ دی کہ وہ خود اپنی سوانح لکھ پاتے، البتہ ان کے بعض تلامذہ (مثلا ً شیخ مجذوب، شیخ علی خشان اور شیخ محمد عید عباسی وغیرہم) نے ’’موجزۃ عن حیاۃ الشیخ ناصر الدین‘‘ کے عنوان سے آپ کا ترجمہ لکھا ہے، ان کے علاوہ شیخ محمد بن ابراہیم شیبانی نے ’’حیاۃ الألبانی و آثارہ و ثناء العلماء علیہ‘‘ نامی ترجمہ لکھا جو ۹۲۹ صفحات پر محیط ہے
  • اکتوبر
1989
غازی عزیر
شیعہ حضرات کے دعاوی اور اُن کے جوابات :

شیعہ حضرات کا ایک دعوی ہے کہ "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اپنے نفس سے قرار دے کر انھیں تما م صحابہ کر م رضوان اللہ عنھم اجمعین پر فضیلت و بر تری بخشی ہے ۔" ان زعما ء کے جو ب میں شارح تر مذی ؒ علامہ عبد الرحمٰن مبارک پو رؒی فر ما تے ہیں ۔
  • دسمبر
1988
غازی عزیر
﴿قُل لِّلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ ... ٣٠﴾...النور
"اور آپ مومنوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔"
قرآن کریم کی یہ آیت اصحاب سماع کے تسامح اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی صریح مخالفت پر دلیل ہے۔ اس آیت کے آگے ارشاد ہوتا ہے:
﴿وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ... ٣٠﴾...النور"اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔"
لیکن جو شخص پہلے حکمِ ربانی کی مخالفت کا ارتکاب کرے۔ اس کے لئے دوسرے حکم کی خلاف ورزی بالفعل عین ممکن ے۔ پس یہ امور انسانوں کے لئے باعث تزکیہ نفس کیونکر ہو سکتے ہیں؟ جو ان برائیوں میں مبتلا ہو چکا  ہو، اس کے لئے راہِ نجات صرف یہ ہے کہ:
﴿وَتُوبُوا إِلَى اللَّـهِ جَمِيعًا أَيُّهَ الْمُؤْمِنُونَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ﴿٣١﴾...النور
"اور اے مومنو! (اگر تم سے احکام میں کوتاہی ہو گئی ہو تو) تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو، تاکہ تم فلاح پا سکو۔"
اس نظر میں جو خطرات اور مفردات پوشیدہ ہیں ان کے پیش نظر بعض تابعین نے فرمایا ہے:
"میں کسی نو عمر زاہد کے متعلق جس کے پاس امرد لڑکا بیٹھتا ہو سات گنا زیادہ ڈرتا ہوں۔"
  • دسمبر
1989
غازی عزیر
موضوع زیر بحث کا سلسلہ کا دوسرا سوال یہ ہے  کہ کیا کسی غیر مسلم اور غیر اہل کتاب کا جھوٹا کھانا پینا کسی مسلم کے لئے جائز ہے یا نہیں؟
اس سوال کا جواب یہ ہے کہ کسی غیر مسلم اور غیر اہل کتاب کا جھوٹا کھانے پینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے بشر ط یہ ہے کہ وہ کھانا یا اشیاء مشروب حلال اشیاء سے تیار کیاگیا ہو،جس برتن میں اسے پکایا اور رکھا گیا ہو وہ  دونوں پاک ہوں۔ یا کم از کم ان برتنوں کی نجاست کا علم نہ ہو۔جس غیر اہل کتاب شخص نے اسے کھایا پیا ہو وہ ظاہری وہ ظاہری نجاست حقیقی سے پا ک ہو۔ نیز بظاہر اس جھوٹے کھانے یا مشروب میں کوئی نجاست پڑی ہوئی نظر نہ آتی ہو۔اس حلت کی دلیل یہ ہے کہ ہرنبی آدم کا لعاب دہن بلا تفریق رنگ ونسل وبلا امتیاز دین ومذہب طاہر وپاک ہے
  • نومبر
1989
غازی عزیر
پس منظر:

واقعہ یہ ہے کہ تمام خلیجی عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب میں اپنے بہت سے پاکستانی بھائیوں سے ملاقات کے دوران یہ چیز علم میں آئی کہ غیر مسلم اشخاص بالخصوص غیر اہل کتاب (مثلا ہندو ۔سکھ ۔چینی ۔بدھ مت۔اور لادین وغیرہ) کے ساتھ کھاناکھانا شرعاً درست نہیں ہے۔
  • جنوری
1990
غازی عزیر
استدراک

("پاکستان کے ممتاز مفکر وعالم دین "جناب ڈاکٹر اسار احمد صاحب کے کسی غیر اہل کتاب شخص کے ساتھ یاان کے ہاتھ کا پکا ہوا کھا نا کھا نے کی ممانعت بیان کرنے کے سلسلے میں ایک مدلل اور تحقیقی مضمون اس سے قبل بعنوان "غیر اہل کتاب کے ساتھ کھانا کھانے کا مسئلہ "گزشتہ محدث کے دوشماروں میں شائع کیا جا چکا ہے
  • مئی
1989
غازی عزیر
چند ضروری معروضات

ماھنامہ"محدث"لاھور کا تازہ شمارہ پیش نظر ہے۔اس شمارہ میں محترم مولانا عبد السلام کیلانی صاحب،حفظہ اللہ کا ایک فتویٰ( ماہنامہ محدث لاہور ج19 عدد نمبر7 ص 30-34 بمطابق ماہ رجب سئہ 1409ھ)"غیرمسلم،غیرکتابی باورچی کےتیارکردہ کھانے کاحکم"کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔
  • اکتوبر
1998
غازی عزیر
قرآن وسنت ، شریعت کے دو بنیادی مآخذ ہیں۔ دین کی اساس انہی دو چیزوں پر قائم ہے اگرچہ حکم الٰہی ہونے کے اعتبار سے دونوں بجائے خود ایک ہی شے ہیں ،لیکن کیفیت وحالت کے اعتبار سے جدا ہیں ، مگر اس کے بادجود ان دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جاسکتا ۔ دونوں چیزیں دین کے قیام کے لیے یکساں طور پر ضروری اور اہم ہیں ۔ ان کے درمیان ردح اور قالب جیسا تعلق ہے افاداتِ فراہی کے ترجمان جناب خالد مسعود اپنے ایک مضمون ''احکام رسول کا قرآن مجید سے استنباط'' کے زیر عنوان لکھتے ہیں:

''یہ ایک مسلمہ امر ہے جس میں کوئی مسلمان شک نہیں کر سکتا کہ نبی ﷺ کے ارشادات شریعت کے احکام کی ایک مستقل بنیاد ہیں خواہ قرآن سے مستنبط ہوں یا نہ ہوں ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ حضوؐر کے دیئے ہوئے احکام کتابِ الٰہی ہی سے مستنبط ہوتے تھے جیسا کہ متعدد احکام کے ضمن میں خود آپ نے تصریح فرمائی اور قرآن میں بھی ا س پر نصوص موجود ہیں''
  • نومبر
1998
غازی عزیر
قرآن کی روشنی میں باعتبارِ مضمون،احادیث کی قسمیں
امام شافعی نے احادیث وسنن کی باعتبار مضمون قرآن صرف تین قسمیں بیان کی ہیں:
1۔"وہ جو بعینہ قرآن کریم میں مذکور ہیں
2۔وہ جو قرآن کے مجمل احکام کی تشریح کرتی ہیں
3۔وہ جن کا ذکر بظاہر قرآن میں نہ تفصیلا موجود ہے اور نہ اجمالا"(38)
آخر الذکر اس تیسری قسم کے متعلق امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ نے علماءکرام کے چار اقوال نقل کیے ہیں  کا تذکرہ ان شاءاللہ آگے ہوگا۔
امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی سنے کی تین قسمیں ہی بیان کی ہیں،جو حسب ذیل ہیں:
"1۔وہ سنتِ متواترہ جو ظاہر قرآن کے خلاف نہ ہو بلکہ اس کی مفسر ہو مثلا نمازوں کی تعداد،یا زکوٰۃ کا نصاب یا حج کے ارکان وغیرہ۔اس طرح کے دوسرے احکام سنت ہی سے معلوم ہو سکتے ہیں اور علماءِ اسلام کا ان کے بارے میں اجماع ہے،یہ قرآن کا تتمہ اور تکملہ ہیں۔پس جو ان کی حجیت کا انکار کرتا ہے،وہ علم دین کا انکار کرتا ہے،رکن اسلام کو منہدم کرتا ہے اور اسلام کا حلقہ اپنی گردن سے اتار پھینکتا ہے۔
2۔ایسی سنت متواترہ جو قرآن کی تفسیر نہیں کرتی،نہ ظاہر قرآن کے خلاف ہو،لیکن ایسے حکم کو بتاتی ہے جو قرآن میں صراحتَہ مذکور نہیں ہے،جیسے زانی کے لیے(جبکہ شادی شدہ ہو)سنگسار کی سزا یا نصابِ سرقہ کی تعیین۔تمام سلف امت اس قسم کی سنت پر بھی عمل ضروری سمجتے ہیں،سوائے خوارج کے
  • جنوری
1999
غازی عزیر
ذیل میں ہم اس قسم کی بعض احادیث اور ان کے مخالف قرآن ہونے کی حقیقت پر تبصرہ پیش کرتے ہیںؒ
حضرت ابراہیم علیہ السلام کے کذبات ثلاثہ کی حقیقت
قرآن کریم میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق ارشاد ہوتا ہے:
" وَاذْكُرْ فِي الْكِتَابِ إِبْرَاهِيمَ ۚ إِنَّهُ كَانَ صِدِّيقًا نَّبِيًّا ﴿٤١﴾"(130)
یعنی "حضرت ابراہیم علیہ السلام انتہائی راست باز نبی تھے" لیکن ایک صحیح حدیث میں مروی ہے " لَمْ يَكْذِبْ إِبْرَاهِيمُ عَلَيْهِ السَّلَام إِلَّا ثَلَاثَ كَذَبَاتٍ" (131) یعنی "حضرت ابراہیم علیہ السلام نے صرف تین مواقع پر جھوٹ سے کام لیا تھا" بظاہر یہ حدیث قرآن سے متصادم نظر آتی ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ زیر مطالعہ حدیث قرآن سے کس طرح متعارض نہیں ہے کیونکہ اس روایت میں جو تین کذب مذکور ہیں ان میں سے دو وقائع کا تذکرہ تو خود قرآن میں موجود ہے
  • دسمبر
1998
غازی عزیر
........ ذیل میں قرآن سے زائد احکام پرمشتمل چند احادیث کی مثالیں پیش کی جاتی ہیں : 
1 ۔ قرآن میں شراب کوحرام قرار دیا گیا ہےلیکن لفظ خمر سےبظاہر شراب کی اتنی ہی مقدار حرمت ثابت ہوتی ہےجونشہ آور ہو، چنانچہ ارشاد ہوتاہے: 
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللَّهِ وَعَنِ الصَّلَاةِ ﴾( 97) 
یعنی ’’ شیطان تویوں چاہتا ہے کہ شراب اورجوئے کےذریعے سےتمہارے آپ میں عداوت اوربغض واقع کردے اور اللہ تعالیٰ کی یاد اورنماز سےتم کوباز رکھے،،.......
لیکن حدیث میں اس پریہ زائد حکم بیان کیاگیا ہے کہ جس چیز کی زیادہ مقدار نشہ آور ہواس کی قلیل مقدار بھی حرام ہے،’’ ماأسكر كثيره فقليله حرام ،، ( 98 )
  • مارچ
1990
غازی عزیر
محدثین کی نظر میں

(مکرمی ومحترمی! سلام مسنون۔

عرض یہ ہے کہ ہمارے علاقہ میں ایک عرصہ سے جمعرات کو مغرب کی نماز کے بعد کسی ساتھی کے مکان پرکچھ ہندوستانی وپاکستانی مسلمان جمع ہوتے ہیں
  • جنوری
2003
غازی عزیر
محقق علماء کے نزدیک کسی مسلمان میت کو مسجد کے اندر لاکر اس پر نمازِ جنازہ پڑھنا نہ شرعاً منع ہے اور نہ ہی مکروہ۔ جمہور فقہا یعنی امام شافعیؒ، امام احمد بن حنبلؒ، (ایک روایت کے مطابق) امام مالکؒ، امام اسحقؒ، امام ابوثورؒ، امام داودؒ اور تمام محدثین اسی بات کے قائل ہیں، اگرچہ بعض فقہا، مثلاً امام ابوحنیفہؒ ،امام مالکؒ، ابن ابی ذئبؒ اور ہادویہ وغیرہ، سے اس کی کراہت منقول ہے۔
  • فروری
2003
غازی عزیر
1. نسخ حدیث کا دعویٰ

امام ابن قیم جوزیؒ فرماتے ہیں کہ ''امام طحاویؒ نے حضرت ابوہریرہؓ کی حدیث کو اپنا مسلک بنایا ہے جبکہ حضرت عائشہؓ کی حدیث دوسرے مسلک کی ترجمان ہے۔ پس فرماتے ہیں کہ نبی ﷺ کا سہیل بن بیضاؓء کی نمازِ جنازہ مسجد میں پڑھانا منسوخ ہے،
  • اکتوبر
1996
غازی عزیر
"نسخ" کی لغوی تعریف
لغت میں "نسخ" کے دو معنی ہیں۔ ایک معنی ہیں "ازاله" یعنی زائل کر دینا، اسی سے یہ محاورہ مستعمل ہے: "نسخت الشمس الظل" یعنی سورج نے سایہ کو زائل کر دیا۔ دوسرے معنی میں نقل کرنا یا تحویل، جیسا کہ محاورہ ہے: "نسخت الكتاب" یعنی میں نے کتاب نقل کر لی گویا ناسخ یعنی نقل کرنے والے نے منسوخ کو یعنی جس سے اس نے نقل کی، ختم کر کے رکھ دیا یا اسے کوئی اور شکل دے دی۔ اسی طرح بولا جاتا ہے: "مناسخات في المواريث" یعنی وارث سے دوسرے کو مال منتقل کرنا اور "نسخت ما في الخلية من العسل والنحل الى أخرى"(1)
"نسخ" کی اصطلاحی تعریف
نسخ کی اصطلاحی تعریف کے بارے میں علماء کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے۔ علامہ زین الدین عراقی و سخاوی رحمہما اللہ فرماتے ہیں:
"اصطلاحا هو رفع الشارع الحكم السابق من احكامه بحكم من احكامه "(2)
"اصطلاح میں اس کا مفہوم یہ ہو گا کہ شارع علیہ السلام نے پہلے کوئی حکم دیا، پھر بعد میں دوسرا حکم دے کر اس پہلے حکم کو ختم یا زائل کر دیا"
پھر اس کی مزید وضاحت فرماتے ہوئے لکھتے ہیں:
"والمراد بارتفاع الحكم قطع تعلقه بالمكلفين والا فالحكم قديم لا يرتفع "(3)
یعنی "حکم کے رفع ہونے سے مراد مکلفین کا اس حکم سے تعلق کٹ جانا ہے ورنہ قدیم حکم رفع نہیں ہو گا"
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "نسخ هو بيان انتهاء الحكم"(4) یعنی "انتہاء حکم کے بیان کو نسخ کہتے ہیں" آں رحمہ اللہ نے ایک اور مقام پر نسخ کو "رفع الحکم"(5) سے تعبیر کیا ہے۔
آمدی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:
"النسخ عبارة عن خطاب الشارع المانع من استمرار ما ثبت من حكم خطاب شرعى سبق" (الاحکام للآمدی ج3 ص 155)
یعنی "نسخ شارع کا وہ خطاب ہے جس کے ذریعہ سابقہ خطاب شرعی سے ثابت حکم کا استمرار ختم کر دیا جاتا ہے"
علامہ ابن حزم اندلسی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہے:
"یہ کہنا کہ ایک حکم نے دوسرے حکم کو منسوخ کر دیا صحیح نہیں ہے بلکہ اس کی زیادہ صحیح تعبیر یہ ہو گی کہ ایک حکم کے بعد دوسرا حکم نازل ہوا"(6)
  • جنوری
1998
غازی عزیر
حدیث لا وصية لوارث کی تحقیق
جناب رحمت اللہ طارق صاحب نے 1962ء میں ایک کتاب بعنوان "تفسیر منسوخ القرآن" ترتیب دی تھی جو بڑی تقطیع کے تقریبا 906 صفحات پر محیط ہے۔ اس کتاب میں آں جناب نے یہ جداگانہ موقف اختیار کیا ہے کہ قرآن کریم میں کوئی حکم یا آیت سرے سے منسوخ ہی نہیں ہے۔ اس ضمن میں آنجناب نے بزعم خود کبار ائمہ و محدثین مثلا امام ابن حزم ظاہری، امام ابن کثیر، امام نووی، امام ابن حجر عسقلانی اور قاضی شوکانی وغیرہم رحمہم اللہ کی اغلاط کی نشاندہی کی ہے اور اپنے اس موقف کی تائید میں اکثر و بیشتر تفسیر المنار، ابومسلم اصفہانی، امام رازی، فناری (اصول و منطق کے عالم، 834ھ) اور سرسید احمد خان وغیرہم کی کتب پر ضرورت سے زیادہ اعتماد و انحصار کیا ہے۔ اس کتاب میں آں موصوف نے اپنی عام روش کے مطابق ورثاء کے حق میں بھی فرضیت وصیت کے بارے میں جمہور علمائے امت کی رائے سے اختلاف کیا ہے اور حدیث "لا وصية لوارث" کی 34 سندوں کے رواۃ پر صرف جارحین کے اقوال جرح
  • اکتوبر
1995
غازی عزیر
لغوی اعتبار سے کسی چیز کی خفیہ طور پر اور جلدی اطلاع دینا "وحی" کہلاتا ہے۔ چونکہ اس میں اخفاء کا مفہوم شامل ہوتا ہے۔ اس لیے آئمہ لغت کے نزدیک کتابت،رمزواشارہ اور خفیہ کلام سب "وحی" کی تعریف میں آتا ہے۔ لیکن "وحی" کا اصطلاحی مفہوم، اس لغوی معنی کی نسبت خاص ہے۔ شرعی اصطلاح سے میں وحی سے مراد اللہ عزوجل کا اپنے منتخب انبیاء کو اخبار واحکام منجانب اللہ تعالیٰ ہی ہیں۔
  • فروری
1989
غازی عزیر
اپنے مسلم معاشرہ میں یہ بات عام طور پر کہی اور سنی جاتی ہے کہ:
"جنت ماں کے قدموں کے نیچے ہے۔"
بعض علماء واعظین اور خطباء بھی "(ألجنة تحت أقدام الأمهات)" (جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے) کا تذکرہ اپنی تصانیف اور پُر نصائح وعظ و تقاریر میں بلاتکلف کرتے نظر آتے ہیں گویا یہ اَمرِ ثابت ہو حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ یہ مرذج و مشہور الفاظ کسی جید اور قابلِ اعتماد اسناد کے ساتھ مرفوعا ثابت ہی نہیں ہیں۔ اس موضوع کی جتنی روایات ذخیرہ احادیث میں موجود ہیں۔ شارحینِ حدیث نے ان کا کیا معنی و مطلب متعین کیا ہے اور ان روایات کا محدثین کے نزدیک کیا مقام و مرتبہ ہے۔ یہ واضح کرنے کے لئے یہ مختصر مضمون ہدیہ ناظرین ہے۔
  • جنوری
1989
غازی عزیر
ہندوستان و پاکستان سے تشریف لانے والے اکثر حجاج و زائرین اور مملکت سعودیہ میں مقیم برصغیر سے متعلق تارکین وطن کی اکثریت کو عموما یہ کہتے ہوئے سنا گیا ہے کہ جو شخص مسجدِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں چالیس (40) نمازیں کسی بھی نماز کو قضا ہوئے بغیر (مسلسل) باجماعت پڑھ لے تو اس کے لیے جہنم، عذاب اور نفاق سے براءت کا پروانہ لکھ دیا جاتا ہے۔ حج اور مقاماتِ مقدسہ کی زیارت کی رہنمائی کرنے والی بعض اردو کتابوں میں بھی مسجد نبوی میں چالیس نمازیں مسلسل پڑھنے کا ذکر بتاکیدِ شدید ملتا ہے۔ لہذا ہر مرد و زن حتی المقدور اس بات کی کوشش کرتا ہے یہ تینوں بیش قیمت پروانے اس کو بہرصورت حاصل ہو جائیں۔ اس مقصد کے لیے مدینۃ منورۃ کے بیشتر زائرین وہاں ایک ہفتہ قیام کا التزام کرتے ہیں تاکہ مسجد نبوی میں چالیس (40) نمازیں باجماعت ادا کرنے کی شرط پوری کر کے اس پروانہ نجات کو حاصل کر سکیں۔ اگر کسی عذر کی وجہ سے ان کی کوئی نماز چھوٹ جاتی ہے تو مزید ایک ہفتہ اس کی تکمیل کے لیے وہاں قیام کیا جاتا ہے۔
  • نومبر
2009
غازی عزیر
ماہ نامہ آفاق، لاہور کا شمارئہ اپریل ۲۰۰۹ء ہمارے پیش نظر ہے جس میں مذکورہ بالا عنوان سے ایک مضمون شائع ہوا ہے۔مضمون کا ایساعنوان تمام اسلامی مکاتب ِفکر کے نزدیک محل نظر ہے، جس سے ہرممکن اجتناب کرنا ضروری ہے۔ ہم صاحب ِمضمون کے عقیدہ پر شک نہیں کرتے مگر یہ بتانا ضروری سمجھتے ہیں کہ کچھ آداب اور اصطلاحات ہوتی ہیں جن کوملحوظ رکھناانتہائی ضروری ہوتا ہے:
  • جون
1986
غازی عزیر
ختنہ (Circumcision)کا لغوی معنی ''قلفہ'' یعنی عضو تناسل کے اگلے حصہ کی جلد، جس کو انگلش (Prepuce)میں کہتے ہیں، کاٹ کر علیحدہ کرنا ہے۔ عام اصطلا ح میں یہ لفظ جلدکے اس حصے کے لیے بولا جاتا ہے جو حشفہ (Glans Penis)کے نچلے حصہ میں سمٹی ہوئی ہوتی ہے،جسے وہاں سے کاٹ کر جسم سے جدا کیا جاتا ہے۔ ختنہ ایک معمولی عمل جراحی ہے، کسی آلہ یا معدنی سلائی کی مدد سے حشفہ کے اوپر کی تمام جلد کو آگے کی
  • جولائی
1986
غازی عزیر
اکثر اسلامی ممالک میں ختنہ پیدائش کےبعد سات سے لے کر تیرہ سال تک مختلف عمروں میں کیا جاتا ہے مکة المکرمہ میں، جہاں رسم ختنہ کو ''طہار'' کہا جاتا ہے، بچوں کا ختنہ تین سے سات سال کی عمر میں ہوجاتا ہے۔بعض کے نزدیک ولادت کے بعد ساتویں دن ختنہ کروانا مستحب اور زیادہ افضل ہے۔ ان کی دلیل حضرت جابر ؓ کی یہ روایت ہے:''عق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم عن الحسن والحسن و ختنھما لسبعة ایام''
  • ستمبر
1987
غازی عزیر
’’کیا جنت میں رسول اللہ ﷺ کا نکاح حضرت مریم﷤ سے ہوگا؟‘‘
 کچھ عرصہ قبل ایک مخلص دوست ( محترم جناب سید احمد قادری صاحب) نے بنگلو ر(بھارت) سے شائع ہونے والے اُردو ہفت روزہ ’’عروج ہند‘‘ ج3 شمارہ 1 مجریہ 4 جنوری 1987ء کے صفحہ نمبر 11 کی عکسی نقول راقم کو دی تھی۔ اس صفحہ پر ’’مذہبی سوالات‘‘ کے عنوان سے سوال و جواب کا ایک مسقل کالم ہوتا ہے ، جس میں مسجد بنگلور کے امام و خطیب جناب شعیب اللہ خان صاحب مختلف دینی سوالات کے جوابات تحریر فرماتے ہیں۔ محولہ بالا شمارہ میں کسی شخص نے جناب شعیب اللہ خان صاحب کو اُن کی غلطی کی طرف نہایت مخلصفانہ طور پرمتوجہ کرتے ہوئے اُن کے اس قول کی دلیل کامطالبہ کیا تھا کہ : ’’جنت میں رسول اللہ ﷺ کا نکاح حضرت مریم﷤ سے ہوگا۔
  • ستمبر
1998
تخصیص عام اور تقید مطلق کو عموما '' زیادہ علی الکتاب '' بھی کہا جاتا ہے۔ چونکہ بقول حافظ ابن حجر عسقلانی وحافظ ابن قیم ﷫ وغیرہ.......متقدمین کی اکثریت تحصیص پر نسخ کا شبہ ہوا ہے لیکن ''تخصیص'' اور ''نسخ'' دو مختلف نوعیت کی چیزیں ہیں۔

سنت متواترہ سے عموم قرآن کی تخصیص جائز ہونے کے بارے میں جمہور علماء کے مابین کوئی اختلاف رائے پایا جاتا ہے چنانچہ حافظ ابن حجر عسقلانی ﷫ فرماتےہیں: