• جنوری
1985
تابش مہدی
آئینہ رو برو کیجئے
پھر کوئی نقد فرمائیے
اک ذرا سی خوشی کے لیے
  • جون
1984
تابش مہدی
کالے ہو یا اُ جلے پتھر
ہوتے ہیں کب کس کے پتھر
پتھر سے امید عبث ہے