• مارچ
  • اپریل
1976
عارف عبدالمتین
ترے خیال کو دل میں بسا کے لایا ہوں میں ایک ذرّے میں صحرا چھپا کے لایا ہوں
ترے کرم کی نہایت ہے یہ کہ تیرے حضورؐ میں اپنے آپ کو خود سے بچا کے لایا ہوں
میں دیکھتا تھا کبھی جس میں اپنی ذات کا عکس اس آئینہ کی میں کِرچیں اُٹھا کے لایا ہوں