• مئی
  • جون
1973
طاہر شادانی
دیا اپنے غلاموں کو شکوہِ قیصری تُو نے       کیا شاہوں کو آگاہِ مقامِ بندگی تُو نے
سکھائے تُو نے محکوموں کو آداب جہانبانی       مرے آقا ﷺ بدل ڈالا مزاج خسروی تُو نے
تو آیا باغِ عالم کے لئے ابرِ کرم بن کر      چمن زارِ محبت کو عطا کی تازگیُو نے
  • مارچ
0
طاہر شادانی
پیکرِ لازوال عبدیت     آپ ہی ہیں کمالِ عبدیّت
آپ ہی کے ظہور سے قائم     آبروئے جمالِ عبدیّت
آپ کے دم سے بن گئی ہے گہر     بے حقیقت سفالِ عبدیّت