• مارچ
  • اپریل
1976
خالد بزمی
فتح مکّہ پہ پیشِ سرورِ ﷺ دیں آئے جب بانیانِ فتنہ و کیں
ان میں جو جس قدر بھی سرکش تھا آج اتنی ہی خم تھی اس کی جبیں
سب کا انجام صاف ظاہر تھا لمحۂ آخریں تھا ان کے قریں
  • مارچ
  • اپریل
1974
خالد بزمی
آپ ﷺ کے بابِ کرم پر ہو گیا جو بار یاب      اس کے دل سے مٹ گیا ہر اضطرار و اضطراب
آپ ﷺ کے باعث ملی ہے دو جہاں کو روشنی      آپ ﷺ کے مرہون ہیں یہ ماہتاب و آفتاب
آپ ﷺ کی اِک ضربتِ باطل شکن سے مٹ گئے     نائلہ، عزےٰ، منات ولات سب مثلِ حباب
  • جولائی
1976
خالد بزمی
صورت میں بشر، سیرت میں ملک            اک فرش نشیں اور زیب فلک
اس رُخ کی ضیا کا کیا کہنا                   ماتھے سے خجل ہیرے کی دُلک
چہرے سے چاند بھی شرمائے               سُورج دیکھے تو جائے ڈھلک