• اگست
1984
راسخ عرفانی
کلام حق کی وضاحت حدیث ختم رسل ؐ!
چراغِ راہِ شریعت حدیث ختم رسلؐ!
حسین طرز تکلم ،دھنک دھنک جملے
  • فروری
1982
راسخ عرفانی
ڈوبتے دل کا تموج میں سہارا تو ہے
مری سوچوں کے سمندر کا کنارا تو ہے
میں تو بیتاب ہوں گرداب میں قطرے کی طرح
  • جنوری
  • فروری
1980
راسخ عرفانی
تو ذوالجلال ہے تو خدائے قدیر ہے               یکتا ہے ، لا شریک و علیم و بصیر ہے
تو صیف لکھ رہا ہوں تیرے کمال کی              طاری دل و دماغ پہ کیف صریر ہے
گرداب حاثات میں گھر  کر بھی اے خدا      دل ہے کہ تیرے ذکر سے راحت پذیر ہے
شاہ دو زیر منعم و محکوم و حکمراں                    جو شخص بھی ہے تیرے ہی در کا فقیر ہے
  • جون
1971
راسخ عرفانی
نجومِ شب کو جگائو کہ روشنی کم ہے        شرر شرر کو بتاؤ کہ روشنی کم ہے
کوئی بھی بزم میں پہچانتا نہیں ہم کو         فروغِ ربط بڑھاؤ کہ روشنی کم ہے
ابھی لہو کے چراغوں پہ اکتفا کر لو         ابھی زبان پہ نہ لاؤ کہ روشنی کم ہے
  • مارچ
  • اپریل
1976
راسخ عرفانی
لے کے آجائے اگر بخت سلیماں کوئی آپ ﷺ سے بڑھ کے معزز نہ ہو انساں کوئی
طاعتِ حضرتِ سرکارِ دو عالم کے بغیر ہو نہیں سکتا کبھی صاحبِ ایماں کوئی
بحرِ زخّار کو کوزے میں سموئے کیونکر کیسے تعریف لکھے اُن کی سخنداں کوئی
  • ستمبر
  • اکتوبر
1979
راسخ عرفانی
ضوفشاں مشعل توحید ہے ماشاء اللہ انجمن ہمسر خورشید ہے ماشاء اللہ
شافع ؐ روز قیامت کا دمکتا چہرہ میرے اشعار کی تمہید ہے ماشاء اللہ
دل ہیں شاداب کہ الحاد کا فسوں ٹوٹا دن تو کیا شب بھی شب عید ہے ماشاء اللہ
  • نومبر
1976
راسخ عرفانی
جس نے نبیؐ سے پیار کیا قلب و جاں کے ساتھ          بخشا فروغ حق نے اسے عزوشاں کے ساتھ
ناچیز ہوں اگرچہ تفاخر ہے بخت پر                نسبت ہے مجھ کو خاتم پیغمبراں کے ساتھ
چومے تھے اس نے پائے مقدس حضورؐ کے                 الفت ہے اس بنا پر مجھے کہکشاں کے ساتھ
  • جولائی
  • اگست
1977
راسخ عرفانی
ہونٹوں پہ تذکرہ ہے رسالت مآب ﷺ کا
ہر سانس ہم نفس ہے شمیمِ گلاب کا
دیدارِ مصطفےٰ ﷺ کی تمنا لئے ہوئے
  • ستمبر
1971
راسخ عرفانی
تکوین کائنات کا عنوان کہیں انہیںؐ        معراجِ حسنِ محفلِ امکاں کہیں اُنہیںؐ!
نوعِ بشر ہے جن کے تعلق سے سر بلند       برحق ہے یہ کہ عظمتِ انسان کہیں انہیںؐ!
کرتے ہیں فخر جن کی غلامی پہ تاجدار          حیران ہیں کس زبان سے سلطان کہیں انہیںؐ!