0
عبدالسلام فتح پوری
دنیا میں حافظِ قرآن تو بہت ہیں لیکن حافظِ نماز بہت کم دیکھنے میں آئے ہیں۔ ان میں سے ایک حضرت مولانا عبد اللہ صاحب کلسویؒ بھی تھے، جو ۱۱ جنوری ۱۹۷۱؁ بروز پیر کی صبح سے چند گھنٹے پہلے ہمیں ہمیشہ کے لئے داغ مفارقت دے گئے۔ انا لله وانا الیه رٰجعون۔

یہ حقیقت ہے کہ ایسے عالم باعمل کے اُٹھ جانے سے جو خلا پیدا ہو چکا ہے وہ مشکل سے ہی پورا ہو گا۔ چند ہی سالوں میں ہم سے علم و عمل کے بیش بہا موتی،
  • مئی
2003
عبدالسلام فتح پوری
جامعہ لاہور الاسلامیہ، مجلس التحقیق الاسلامی، ماہنامہ محدث اور ان کے ذیلی ادارہ جات علم و تحقیق کے میدانوںمیں اس وقت سے سرگرمِ عمل ہیں جب ان اداروں کے روحِ رواں اور بانی مبانی مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی ۱۹۶۸ء میں جامعہ اسلامیہ، مدینہ منورہ سے تحصیل علم کے بعد وطن واپس لوٹے۔ آپ نے اپنے علمی و تحریکی ذوق کی تکمیل کے لئے مختلف مدنی فضلاء کی معاونت و مشارکت سے مجلس التحقیق الاسلامی کی بنا ڈالی جس کی طرف سے ۱۹۷۰ء میں ماہنامہ محدث نے اپنے سفرکا آغاز کیا۔
  • مئی
1987
عبدالسلام فتح پوری
''وفاق المدارس السلفیہ پاکستان '' کی اہمیت ظاہر و باہر ہے۔ گورنمنٹ پاکستان نے اس کے آخری امتحان کو ایم۔اے کے مساوی تسلیم کیاہے۔ تاہم اس کی سند کی معیاری حیثیت عملاً اسی وقت تسلیم کروائی جاسکتی ہے، جبکہ اس آخری امتحان سے قبل کے تین امتحانات مساوی میٹرک، ایف۔اے اور بی ۔ اے کی اسناد کا اجراء بھی کیا جائے او رجس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ تمام اہلحدیث مدارس کےان چاروں تعلیمی مراحل یعنی میٹرک،