• جنوری
1996
بدیع الدین راشدی
ابھی استاذ الاساتذہ شیخ الحدیث مولانا سلطان محمود صاحب محدث جلال پور پیروالہ رحمة اللہ علیہ کی جدائی کا غم تازہ ہی تھا کہ اچانک مورخہ 8-جنوری بروز پیر برادر مکرم الشیخ عبداللہ ناصر رحمانی حفظہ اللہ نے فون پر اطلاع دی کہ شیخ العرب والعجم زبدة المحدثین العالم الربانی اور دنیائے اسلام کے ممتاز عالم دین علامہ سید بدیع الدین راشدی، طیب اللہ ثراہ وجعل الجنة منواہ، بھی ہمیں داغ مفارقت دے کر اپنے خالق حقیقی سے جا ملے ہیں۔ انا لله وانا اليه راجعون
  • مئی
  • جون
1973
بدیع الدین راشدی
جب کسی جج کے پاس کوئی مقدمہ پیش ہو تو وہ پہلے یہ دیکھتا ہے کہ آیا کسی نافذ شدہ قانون کی بنا پر مقدمے کا فیصلہ ہو سکتا ہے۔ اگر کسی قانون کا اطلاق ہوتا ہو۔ تو وہ قانون پر فیصلہ کر دیتا ہے۔ لیکن اگر قانون اس مقدمے کا فیصلہ کرنے کے لئے کافی نہ ہو تو پھر جج انصاف کے اصول تلاش کرتا ہے یعنی قانون میں جو خلا ہو اس کو انصاف سے پُر کرتا ہے۔ اور کسی انصاف کے اصول کی بنا پر فیصلہ کر دیتا ہے۔
  • اپریل
1987
بدیع الدین راشدی
حضرت مولانا سید ابومحمد بدیع الدین راشدی صاحب، صدر جمعیت اہل حدیث (صوبہ سندھ)نے مورخہ 4۔ اپریل 1987ء کو پریس کلب حیدر اباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جس کا متن درج ذیل ہے۔.......................... (ادارہ)جماعت اہل حدیث ایک ایسی جماعت ہے، جو رسول اکرم ﷺ کے دور سے چلی آرہی ہے۔ اس جماعت کا دستور صرف اور صرف کتاب و سنت ہے۔ ہر دور میں اس جماعت نے انہی دو چیزوں کا
  • جنوری
1978
بدیع الدین راشدی
میں نے ایک مضمون میں تجویز پیش کی تھی کہ صرف اس قدر قانون بنا دیا جائے کہ عدالتیں قرآن و سنت کی پابند ہوں گی اور کوئی ایسا قانون نافذ نہ ہوگا جو کتاب وسنت کے منافی ہو تواس طرح کتاب و سنت مکمل طور پر نافذ ہوجائیں گے، اسلامی قانون وضع کرنے کی نہ ضرورت ہے نہ وضع کرنے کا کسی کو اختیار حاصل ہے۔ عدالتیں خود کتاب و سنت کی بنا پر فیصلہ کریں گے اورمقدمات کے فیصلے کتابوں میں موجود ہیں جوعدالتوں کی امداد کریں گے۔