• ستمبر
2012
یوسف انور
عقیدۂ ختم نبوت ہر مسلمان پرواجب ہے ۔ اُمّتِ مسلمہ کی اجتماعیت اسی عقیدے سے وابستہ ہے۔ اگر کوئی شخص ختم نبوت کی نفی کرتا ہے یا اس میں کمی بیشی کا مرتکب ہوتا ہے تو گویا وہ اسلام کی خوبصورت عمارت میں نقب زنی کرتا ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا اِرشاد ہے :
﴿وَلـٰكِن رَ‌سولَ اللَّهِ وَخاتَمَ النَّبِيّـۧنَ......٤٠﴾..... سورة الاحزاب
  • دسمبر
2013
یوسف انور
علماے اہل حدیث کا سرفہرست کردار

ہر سال 7؍ستمبر کا دن جب آتا ہے تو 1974ء کے اس روز کے قومی اسمبلی کے فیصلے جس کے مطابق قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا تھا کی مناسبت سے اخبارات و جرائد میں بعض حضرات اس کی تفصیلات قلم بند کرتے ہیں لیکن تعصّب کی بنا پر محض ایک مکتبِ فکر کی خدمات کو تحریر میں لاتے ہیں،
  • اپریل
2011
یوسف انور
ماہ ِمارچ پہلے ہی بڑی تلخ یادیں لے کر آتا ہے،لیکن اس بار مزید اِضافے کے ساتھ شهر الحزنبن کر بھی آیا۔ موت ایک ایسی حقیقت ہےکہ جس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ۔ عربی کے کسی شاعر نے سچ ہی کہا ہے ؏
لوکان في الدنیا بقاء لِساکن             لکان رسول الله ﷺ فیها مخلدًا
  • فروری
2007
یوسف انور
راقم كے والد مرحوم حاجى عبدالرحمن پٹوى علماے كرام كے بے حد معتقد تهے، علما كى خدمت و تكريم اور ميزبانى ان كا روزمرہ معمول تها- ہمارے غريب خانہ پرمختلف اوقات ميں جو علماء و صلحا مہمان رہے، ان كى فہرست طويل تر ہے جن ميں سے بعض كے اسماے گرامى كچھ اس طرح ہيں : صوفى محمد عبداللہ اوڈانوالہ، حافظ محمد عبداللہ محدث روپڑى، مولانا عبدالمجيديزدانى،
  • نومبر
2009
یوسف انور
پچھلے سال مجلس احرار کی آخری نشانی مولانا مجاہد الحسینی نے سیرتِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم پر لکھی جانے والی اپنی تازہ تالیف کی تقریب ِرونمائی یہاں ایک ہوٹل میں منعقد کی جس کے مہمانِ خصوصی ہمارے فاضل دوست پروفیسر عبد الجبار شاکر تھے۔ اس خوبصورت تقریب میں ہر طبقہ زندگی سے اہل علم اور ممتاز حضرات مدعو تھے۔
  • ستمبر
2013
یوسف انور
اگست 1947ء میں تقسیم ملک کےوقت متحدہ ہندوستان کے صوبہ پنجاب کے ضلع لاہور کےمتعلق قیاس آرائیاں یہی تھیں کہ یہ ساراضلع پاکستان میں شامل ہوگا لیکن ہوا یہ کہ ضلع کی تحصیل قصور کے چار تھانے: کھیم کرن، گھڑیالہ، ولٹوعہ اور پٹی شرقی پنجاب میں شامل کردیے گئے۔ ان تھانوں میں سے 'پٹّی' ایک بڑا با رونق قصبہ تھا،آبادی او رپھیلاؤ کےلحاظ سے بھی وسعت رکھتا تھا، پرانے اور نئے شہر کے دو بڑے بازار کاروباری مراکز تھے۔