• فروری
  • مارچ
1995
عارف جاوید
خلیج کی حالیہ تباہ کن جنگ سے پیشتر عالم اسلام میں سعودی عرب کے بعد کویت ہی ایسا وہ ملک تھا جس کی صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اس کے سنجیدہ وحساس دل اہل خیر بھی سالہا سال سے دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی اعانت،اسلامی جہاد اور دعوتی سرگرمیوں کی تائید وحمایت میں سر گرم عمل نظر آتے رہے ہیں۔انہوں نے کویت میں پٹرول کی وجہ سے  رونما ہونے والی خوشحالی کےبعد اپنی دولت کو تعیش کرنے کی نذر کرنے کی بجائے صحیح مصارف میں خرچ کرنے کی غرض سےمتعدد اسلامی،فلاحی اور رفاحی ادارے قائم رکھے تھے۔تاکہ اسلامی کاز کے مفید پروگراموں کو منظم طریقے سے چلایا جاسکے۔کویت پرعراق کے غاصبانہ قبضے کے بعد نامساعد حالات کے پیش نظر اگرچہ ان اداروں کی کارکردگی قدرے متاثر ہوئی،لیکن دینی جذبہ سے سرشاراہل دل ان پُر خطر حالات میں بھی اپنی ذمہ داریوں سے بطریق احسن عہدہ برآہونے کی ممکنہ کوششوں میں مصروف رہے اور اب جب کہ رحمت خداوندی سے کویت کی عراقی پنجہ استبداد سے آزادی مل چکی ہے۔اور عراق کو عبرت ناک شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔تو ان اداروں نے بھی اپنا کام پھر سے نئے ولولوں اور تازہ دینی جذبوں کےساتھ  بھر پور انداز میں شروع کردیا ہے۔