• نومبر
2000
شبلی نعمانی
اسلام میں سینکڑوں ،ہزاروں بلکہ لاکھوں علماء فضلا، مجتہدین آئمہ فن اور مدبرین ملک گزرے لیکن مجدد یعنی ریفارمر بہت کم پیدا ہوئے۔ایک حدیث ہے کہ ہرصدی میں ایک مجدد پیدا ہو گا ۔ اگر یہ حدیث صحیح مان لی جائے تو آج تک کم از کم 13مجددپیدا ہونے چاہئیں لیکن اس حدیث کے صادق آنے کے لیے جن لوگوں کو مجددین کا لقب دیا گیا ان میں سے اکثر معمولی درجہ کے لوگ ہیں یہاں تک کہ علامہ سیوطی رحمۃ اللہ علیہ  بھی اس منصب کے امیدوار ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں نے مجدد کے رتبہ کا اندازہ نہیں کیا۔مجدد یاریفارمرکے لیے تین شرطیں ضروری ہیں۔
1۔مذہب یا علم یا سیاست (پالیٹکس ) میں کو ئی مفید انقلاب پیدا کردے ۔
2۔جو خیال اس کے دل میں آیا ہو کسی کی تقلید سے نہ آیا ہو بلکہ اجتہادی ہو۔
3۔جسمانی مصیبتیں اٹھائی ہوں جان پرکھیلا ہو سر فروشی کی ہو۔
یہ شرائط قدماءمیں بھی کم پائے جاتے ہیں اور ہمارے زمانہ میں تو ریفارمر ہونے کے لیے صرف یورپ کی تقلید کافی ہے تیسری شرط اگر ضروری قرار نہ دی جائے تو امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ  امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ  ،امام رازی رحمۃ اللہ علیہ  شاہ ولی رحمۃ اللہ علیہ  صاحب اس دائرے میں آسکتے ہیں لیکن جو شخص ریفارمرکا اصلی مصداق ہو سکتا ہے وہ علامہ ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  ہیں ۔ہم اس بات سے واقف ہیں کہ بہت سے امور میں امام غزالی رحمۃ اللہ علیہ  وغیرہ کو ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ  پر ترجیح ہے۔لیکن وہ امور مجددیت کے دائرے سے باہر ہیں مجددیت کی اصلی خصوصیتیں جس قدر علامہ کی ذات میں پائی جاتی ہیں اس کی نظیر بہت کم مل سکتی ہے۔۔۔ اس لیے ہم اس عنوان کے ذیل میں علامہ موصوف کے حالات اور ان کی مجددیت کی خصو صیات لکھنا چاہتے ہیں۔