• نومبر
2009
عطاء اللہ جنجوعہ
اہل مغرب نے آئینِ الٰہی کو پس پشت ڈال کر آسمانی ضابطۂ حیات کو عوام کی اکثریت کا تابع بنادیا جبکہ مشرق نے اہلِ مغرب کی غلامی کو ترقی کازینہ سمجھ کر قبول کرلیا اور اسلاف کی سیاست سے روگردانی کرلی۔ علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے مشرق و مغرب کا موازنہ کرتے ہوئے اظہار خیال کیا:
  • جون
2009
عطاء اللہ جنجوعہ
خلافت میں خلیفہ کا تعین عوام کی بجائے اہل حل وعقدکرتے ہیں اور خلیفہ کے تعین کے لئے یہ اقدام 'بیعت خاصہ' کہلاتا ہے جو خلیفہ کی تعیناتی کے ساتھ اس کی اطاعت کی بیعت بھی ہوتی ہے جس کی توثیق و عہد بعد میں عامتہ المسلمین کی 'بیعت ِعامہ' کی صورت ہوتی ہے۔ لیکن خلیفہ کے درست تعین کا حقیقی دارومدار کسی بھی خارجی ودیگر منفعت کی بجائے دین الٰہی کے نفاذ کے لئے اَصلح ترین فرد کی صورت ہوتا ہے۔
  • اپریل
2007
عطاء اللہ جنجوعہ
محسنِ انسانیت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش ربیع الاوّل میں ہوئی جس کے معنی ہیں'موسم بہار کی پہلی بارش'۔جس طرح بارش سے مردہ زمین سرسبز و شاداب ہوجاتی ہے، اسی طرح آپؐ کی تشریف آوری سے مردہ دِلوں کو تروتازگی نصیب ہوئی۔ ظلم و جور کرنے والے عدل و انصاف کے داعی اور کفر و شرک کی تاریکی میںغرق رہنے والے شمع ِ توحید کے پروانے بن گئے۔