• مارچ
  • اپریل
1976
سلیم تابانی
اسلام کے سطح بین دشمن عموماً یہ پروپیگنڈا کرتے رہتے ہیں کہ اسلام چونکہ ایک جارحانہ مذہب ہے اس لئے اس کی عمومی دعوت کو کامیابی سے ہمکنار ہونے میں کچھ زیادہ دقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور دوسرے مذاہب کے مقابلے میں یہ قلیل عرصہ میں اقصائے عالم میں پھیل گیا۔ اس سراسر معاندانہ اور متعصبانہ اعتراض کے اگرچہ آج تک بہت کافی اور شافی جوابات دیئے جا چکے ہیں
  • جون
1976
سلیم تابانی
مولانا ابوبکر غزنوی کا شمار موجودہ دور کے ان علما اور دانشوروں میں ہوتا تھا جن کی نظر مسائل کےفطری پہلو کےساتھ عملی پہلو پر بھی ہوتی ہے اور جو دینی مصلحتوں سے آگاہ ہیں۔ہر چند اس دور میں علماء کی کمی نہیں اور جدید اصطلاحی دانشوروں کی قلت کا احساس بھی نہیں ہوتا لیکن ایسے حضرات کی ہمیشہ کمی رہی ہے اور اب تو قحط کی سی کیفیت ہے جو علم وفضل کے ساتھ نکتہ رس طبیعت بھی رکھتے ہوں
  • مارچ
1971
سلیم تابانی
ان کے والدین کو ان سے شدید محبت تھی، خصوصاً ان کی والدہ خناس بنت مالک نے مالدار ہونے کی وجہ سے اپنے جگر گوشے کو نہایت ناز ونعم سے پالا تھا۔ وہ اپنے زمانہ کے لحاظ سے عمدہ سے عمدہ پوشاک پہنتے اور لطیف سے لطیف خوشبو استعمال کرتے تھے۔ حضرمی جوتا جو اس زمانے میں صرف امرا ء کے لئے مخصوص تھا وہ ان کے روزمرہ کے کام آتا تھا اور ان کے وقت کا اکثر حصہ آرائش و زیبائش میں بسر ہوتا تھا۔