• دسمبر
1999
طاہرہ بشارت
(((نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  کی اصل حیثیت تو اللہ کے رسول  صلی اللہ علیہ وسلم  ہونے کی ہے۔اور آپ کے طرز عمل میں سب سے گہرارنگ وحی کی صورت میں اللہ سے رہنمائی لینے اور اس کو عمل میں لانے کا ہے۔اس اعتبار سے جب ہم مسلمان نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کے مختلف کرداروں کا جائزہ لیتے ہیں تواسی بنیادی حقیقت پر ایمان رکھنے کی وجہ سے ہر معاملے کو اللہ کی طرف سے ہدایت کے سپرد کرکے مطمئن ہوجاتے ہیں۔اور ان زمینی حقائق کی جستجو میں نہیں پڑتے جو اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کے طور پر تمام امور دنیا میں جاری کررکھی ہے۔کہ وہ ہرکام کی تکمیل عموماً واقعاتی بنیادوں اور وسیلوں کے ذریعے ہی کرتاہے۔
ایمان واعتقاد کے لیےتو اسی رویہ کی ضرورت ہے لیکن اگر حیات مبارکہ سے اس دور کے واقعات کی درست انجام دہی کے واقعاتی حقائق بھی تلاش کرلیے جائیں تو اس طرح آپ کے طرز عمل کی تشریح مزید آسان اور اس کی افادیت دو چند ہوجاتی ہے۔ہمارا اعتقاد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کا اسوہ مبارکہ آپ کی ہر حیثیت(قاضی،حاکم،سپہ سالار وغیرہ) میں مسلمانوں کے لیے راہ ہدایت اور ذریعہ نجات ہے۔زیر نظر مضمون میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم  کی ایک حیثیت کا مختصر مطالعہ پیش کا کیا گیا ہے۔(حسن مدنی)))