• دسمبر
1989
شاہ بلیغ الدین
طریقہ طعام:
اُمت مسلمہ کو بہت سا علم امہات المومنین سے ملا۔خاص طور پر حضرت عائشہ   رضی اللہ تعالیٰ عنہا  ،حضرت حفصہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا ،اور حضرت امہ سلمہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے۔سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غذا کھانے پینے کے طریقے اور اس سےتعلق سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پسند یا نا پسند کے بارے میں بھی اُمت کو بہت سی باتیں اُمت کی ماؤں سے معلوم ہوئیں الشفاء میں قاضی عیاض ؒ نے حضرت عائشہ  رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کی ایک روایت بیان کی ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں۔حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی کھانا پیٹ بھر کر نہیں کھایا۔اس میں کیا مصلحت تھی۔اس بارے میں حضرت مقدام بن معدی کرب  رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی ایک روایت ملتی ہے ۔ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم  ہے۔اولاد آ دمؑ نے پیٹ سے بڑھ کر بڑا کوئی برتن  نہیں بھرا۔حالانکہ آدمی کے لئے چند لقمے کافی ہیں۔جو اس کی زندگی باقی رکھ سکتے ہیں۔بہتر ہے کہ وہ اپنی بھوک کے تین حصے کرے۔ایک تہائی غذا کےلئے ایک تہائی پانی کے لئے اور ایک تہائی سانس لینے کے لئے چھوڑدے۔نیند کی زیادتی در اصل کھانے پینے کی زیادتی کی وجہ سے ہوتی ہے اس سے مرض بڑھتا ہے۔اور آدمی مکروفریب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔
  • جون
1989
شاہ بلیغ الدین
حضرت طفیل بن عمر ودوسی رضی اللہ عنہ

وہ مشہور شاعر بھی تھے اور قبیلے کے سردار بھی!دونوں ہی باتیں ایسی تھیں کہ ان کا بڑا مان تھا۔مان بھی ایسا کہ دور دور کے لوگ انھیں ہاتھوں ہاتھ لیتے۔اور عزت سے بٹھاتے تھے۔یہ جنوب کے رہنے والے تھے یعنی علاقہ یمن کے لیکن جب بھی مکہ جاتے اُن کی بڑی آؤ بھگت ہوتی۔
  • نومبر
2012
شاہ بلیغ الدین
صحیح بخاری میں نبی کریمﷺ کا فرمانِ گرامی مروی ہے کہ ''وہ پہلا لشکر جو مدینہ قیصر [قسطنطنیہ] کا جہاد کرے گا، اُس کو معاف کردیا گیا ہے۔'' بہت سے علما مثلاً حافظ ابن حجر عسقلانی، حافظ ابن کثیر، حافظ بدر الدین عینی اور شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ ﷭ وغیرہم نے یزید بن معاویؓہ کو اس پہلے لشکر کا سالار اور اس سعادت کا مستحق بتلایا ہے جس نے مدینہ قیصر پر حملہ کیا ۔