• نومبر
2010
آباد شاہ پوری
کسی بھی قول کے مستند ہونے کے لئے راویوں کا سلسلۂ اسناد متصل ہونا ازبس ضروری ہے اور یہ اتصالِ سند کسی حدیث کے صحیح ہونے کی پہلی شرط ہے۔سند میں یہ انقطاع اگر ظاہری ہو یعنی کسی مرحلہ پر راویوں کا سلسلہ منقطع ہو تو اس کو عام علمابھی جان سکتے ہیں۔ تاہم بعض راویانِ حدیث سند کے مخفی عیب؍انقطاع کو دانستہ یا نادانستہ طور پر چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔
  • جولائی
2010
آباد شاہ پوری
'اَکال الامم'سے موسوم ہندو مت کی سر زمین برصغیر پاک و ہند میں مسیحیت کی تاریخ کافی قدیم ہے،تاہم اس کی یہاں پرابتدا کا تعین مشکل امر ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمیں کوئی بھی باوثوق اور مستند تاریخی مصادر ومآخذ دستیاب نہیں جن سے ہندوستان میں عیسائیت کی ابتدائی آمد اور اوّلین بانی کلیسا کا قطعی تعین ہو سکے ۔
  • نومبر
2010
آباد شاہ پوری
'محدث' جنوری ۲۰۱۰ء میں مشہور سعودی داعی شیخ سلمان بن فہد العودہ کی تحریر 'افعل ولا حرج' کا اُردو ترجمہ شائع ہوا تھا جس میں موصوف نے عصر حاضر میں حجاجِ کرام کی مشکلات اور مسائل کو سامنے رکھتے ہوئے شریعت میں موجود عمومی سہولیات اور رخصتوں کو کتاب وسنت کی نصوص پر غلبہ دیتے ہوئے حج کے اُمور میں بہت سی پابندیوں کو اُٹھا دینے کا عندیہ دیاتھا۔
  • مارچ
  • اپریل
1976
آباد شاہ پوری
رسول اللہ ﷺ کو کس مقصد کے لئے اللہ تعالیٰ نے مبعوث فرمایا اس کا ذکر مختصر مگر نہایت بلیغ الفاظ میں سورۂ احزاب میں ہوا ہے۔ ارشاد ہوا ہے یٰٓاَیُّھَا النَّبِیُّ اِنَّا اَرْسَلْنٰکَ شَاھِدًا وَّمُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا وَّدَاعِیًا اِلَی اللّٰہِ وَسِرَاجًا مُّنِیْرًا۔ یعنی بحیثیت رسول آپ ﷺ کے پانچ اوصاف ہیں۔ آپ ﷺ (نوعِ انسانی پر) گواہ ہیں، بشارت دینے والے ہیں، ڈرانے والے ہیں، اللہ کی طرف بلانے والے ہیں اور چراغِ روشن ہیں۔
  • اکتوبر
2010
آباد شاہ پوری
نبی کریم 1اُمت کے جمیع طبقات کے لئے اُسوئہ حسنہ اور نمونہ ہیں۔ آپ کے معاشی معمولات میں مسلمانوں کے لئے بیش قیمت رہنمائی موجود ہے۔ بعض اوقات ہم لوگ منقول حقائق کی جستجو کی بجائے ایک مثالی تصور اپنے ذہن میں قائم کرکے اس کے مطابق دلائل کی تلاش شروع کردیتے ہیں۔
  • اگست
2010
آباد شاہ پوری
آج ہر طرف بے دینی اور مادہ پرستی کا دور دورہ ہے، اسلام کی تعلیم حاصل کرنے والے تو کجا ، اس پر عمل کرنے والوں کو بھی 'کٹھ ملا' کہہ کرکھلے عام پھبتی کسی جاتی ہے۔ اُنہیں بزعم خود 'طالبان' باور کیا جاتا اور دہشت گردی کے محرک نہ سہی تو ان کے مؤید ضرور شمار کیا جاتا ہے۔ یہ رِیت کوئی نئی نہیں بلکہ ہر دور میں اہل ایمان سمیت انبیا ورسل کو بھی ایسی ایذارسانیوں کاسامنا رہا ہے۔
  • نومبر
2010
آباد شاہ پوری
اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے اس لیے ہر انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی زندگی کا ہر لمحہ اس کی رضا کے مطابق گزارے اور اس کا تقرب حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے۔تاہم اللہ تبارک وتعالیٰ نے بعض ایسے خوبصورت مواقع بھی عطا کیے ہیں جس میں اس کی عبادت کا اجر عام دنوں سے بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے ۔
  • مئی
  • جون
1973
آباد شاہ پوری
شبے دیباچۂ، صبحِ سعادت        زدولت ہائے روز افزوں زیادت
سوادِ طُرہّ اَش خجلت دہِ نور       بیاضِ غرہّ اَش نورٌ علیٰ نور
مسیمش جعدِ سنبل شانہ کردہ         ہو ایش اشکِ شبنم وانہ کردہ
  • اگست
1971
آباد شاہ پوری
جناب آباد شاہ پوری صاحب کا یہ مقالہ ان کی ایک زیر طبع کتاب ''سوشلزم اور اسلامیان روس'' کا ایک باب ہے۔ اس باب میں انہوں نے مستند کتابوں اور خود یہودی مآخذ کے حوالے سے ثابت کیا ہے کہ سوشلزم کا نہ صرف تانابانا یہودیوں نے بنا تھا۔ بلکہ روس، یورپ اور امریکہ میں سوشلسٹ تحریک کے علمبرداروں اور رہنماؤں کی بھاری اکثریت بھی یہودیوں ہی پر مشتمل تھی، آباد شاہ پوری ایک اہلحدیث علمی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں اور آج کل ملک کے مشہور ماہنامے اردو ڈائجسٹ میں مدیر و معاون ہیں۔ (ادارہ)
  • ستمبر
1971
آباد شاہ پوری
صنعتی انقلاب سے یورپ کا اقتصادی نظام جو زرعی بنیادوں پر قائم تھا، تلپٹ ہو گیا تھا۔ عقلیت پرستی اور لبرلزم کی تحریک نے یورپ کے عیسائی معاشرے کی مذہبی و اخلاقی بنیادوں کو متزلزل کر ڈالا۔ انقلاب فرانس نے اس کے سیاسی نظام کو ہلا کر رکھ دیا۔ نظام جاگیرداری پر استوار مطلق العنان بادشاہتیں ہر جگہ ڈولنے لگیں، صنعتی انقلاب اپنے جلو میں گوناگوں خرابیاں لے کر آیا۔
  • جون
2010
آباد شاہ پوری
ہمارا دور ابھی تک زمانۂ سائنس کی جمع کا دور ہے اور جوں جوں اُجالا بڑھتا جارہا ہے توں توں ایک ذہین خالق کے دست ِ قدرت کی نیرنگیوں کا زیادہ سے زیادہ انکشاف ہوتا جارہا ہے۔ ڈارون سے ۹۰برس بعد ہم حیرت انگیز انکشافات کرچکے ہیں۔ سائنس کی عاجزانہ اسپرٹ اور علم کی چکی میں پسے ہوئے ایمان کے ساتھ ہم اللہ کی معرفت کے مقام کے بہت قریب پہنچ چکے ہیں۔
  • اکتوبر
2010
آباد شاہ پوری
اگرچہ دونوں کا تعلق عربی زبان سے ہے، لیکن دونوں میں فرق ہے۔ عام لغت عربی زبان کے تمام الفاظ سے بحث کرتی ہے جبکہ قرآنی لغت کا تعلق صرف ان الفاظ سے ہوتا ہے جو قرآنِ مجید میں استعمال ہوئے ہوں۔ ضروری نہیں کہ قرآنِ مجید میں عربی کے تمام الفاظ ہی مستعمل ہوں،اس لیے لغت ِقرآنی کا موضوع محدود ہے۔یعنی صرف ان الفاظ کی تشریح و تعبیر جو قرآن حکیم کی ۱۱۴؍ سورتوں میں واردہوئے ہیں۔