• دسمبر
1970
عبدالرؤف
اسلام نے ترکہ ''وراثت'' ''صدقہ و زکوٰۃ'' وغیرہ نظام کے ذریعہ یہ ثابت کر دیا ہے درجاتِ معیشت میں گو تفاوت ہے مگر ایک ساتھ زندگی گزارنے کا حق سب کو یکساں ہے آج اگر کوئی رات کی روٹی اور جسم کے کپڑا کے لئے محتاج ہے اور کوئی ہزارہا یا لکھو کہا کا مالک ہے تو یہ محض اس لئے ہے کہ حق معیشت کی جو ذمہ داری کتاب و سنت نے ہم پر ڈالی ہے، اسے ہم نے نظر انداز کر دیا ہے۔ صدقات واجبہ عشر و زکوٰۃ کی ادائیگی آج مسلمانوں میں بند ہے۔
  • جولائی
  • اگست
1979
عبدالرؤف
مقالہ نگار یہ سیدھا سادھا مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ تعلیمی جہاد کے کسی محاذ پر بھی نظریاتی لگن کے بغیر مثبت نتائج کی آس لگائے رکھنا جنت الحمقاء میں بسنے کے مترادف ہے۔ نظریاتی لگن کا واضح شعور او را س کی پیہم تعمیل تعلیمی دنیاکے تمام مدارج کے لیے ضروری ہے تعلیمی قیادت کے فکروعمل پر اس کی واضح چھاپ تو قطعی لازمی ہے۔ پاکستان کی تعلیمی تاریخ کے مختلف ادوار کا تجزیاتی حوالہ دیتے ہوئے ڈاکٹر عبدالرؤف یہ تلخ حقیقت مزید واضح کرتے ہیں
  • ستمبر
2008
عبدالرؤف

عدل مصدرہے، اس کا مادہ ع د ل ہے، اس مادے میں برابری اور مساوات وانصاف کا مفہوم ہے۔

لسان العرب میں ہے:

''عدل، إنہ مستقیم وھو ضدّ الجور، العدل: من أسماء اﷲِ ھو الذي لایمیل بہ الھوٰی، العدل الحکم بالحق''

  • دسمبر
2014
عبدالرؤف
بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ قیامت کے دن ان کے نام کے ساتھ ان کے آباء کا نام لیا جائے گا یا اُن کی ماؤں کا؟... اس بارے میں بکثرت سوالات کے پیش نظر قدرے تفصیل حاضر خدمت ہے۔
  • نومبر
  • دسمبر
1979
عبدالرؤف
نفاذ شریعت میں متعدد عملی اقدامات کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ عملی اقدامات سےمراد ایسی موزوں تدبیریں ہیں جن سے شرعی احکام کی تعمیل میں سہولت ہوتی ہے اور ان کی خلاف ورزی کے امکانات کا قبل از وقت سدباب ہوتا ہے۔موثر عملی اقدامات کے بغیر نفاذ شریعت کی انقلابی تحریک کا ثمر آور ہونا محال ہے۔

عملی اقدامات کے دو واضح مقاصد: نفاذ شریعت کے لیے بنیادی عملی اقدامات کے دو واضح مقاصد یہ ہیں:
  • مئی
2006
عبدالرؤف
بہت سے لوگ سوال کرتے ہیں کہ قیامت کے دن لوگوں کو ان کے والد کے نام سے بلایا جائے گا یا والدہ کے نام سے ؟ استاذِ محترم شیخ الحدیث حافظ ثناء اللہ مدنی حفظہ اللہ کے فتـاویٰ ثنائیـہ مدنیـہ میں بھی یہ سوال موجود ہے اوراُنہوں نے اس کا مختصر سا جواب دیا ہے کیونکہ فتاویٰ کا عام طور پریہی اُسلوب ہے۔