• جنوری
1981
انور طاہر
ایک مسلمان بیعت اور ''امانت'' کو ووٹ، شورائیت کو رائے شماری کے مترادف قرار دینے اور کثرت رائے کو معیار تعلیم کرنے کے بعد جمہوریت کی دیگر قباحتوں کو قبول کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے کیونکہ دیگر قباحتیں جمہوریت کے اِس درخت کی شاخیں ہیں جو رائے شماری اور کثرت رائے کی جڑوں پر قائم ہے۔ جب کثرت رائے ہی فیصلے کا معیار ٹھہرتی ہے تو بنیادی بات ہے کہ رائے عامہ کی حمایت حاصل کرنے کے لئے جماعت سازی  گی
  • مارچ
  • اگست
1981
انور طاہر
اسلام کے دینِ کامل ہونے میں تو کسی مسلمان کو کوئی شک نہیں۔ لیکن جب بھی اسلام کے سیاسی نظام (خلافت و امت) کے حوالے سے عصر حاصر میں مقبول سیاسی نظام (جمہوریت) کی نفی کی جاتی ہے تو اپنی مسلمانی پر فخر کرنے والوں کے چہرے سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ یہ سوالیہ نشان دراصل دشمنوں کی اس کوشش کی کامیابی کی علامت ہے۔ جو انہوں نے مسلمانوں کو اسلام سے متصادم نظریات تسلیم کرانے کے لئے کی ہے۔
  • جون
1981
انور طاہر
سلام کے دینِ کامل ہونے میں تو کسی مسلمان کو کوئی شک نہیں۔ لیکن جب بھی اسلام کے سیاسی نظام (خلافت و امت) کے حوالے سے عصر حاصر میں مقبول سیاسی نظام (جمہوریت) کی نفی کی جاتی ہے تو اپنی مسلمانی پر فخر کرنے والوں کے چہرے سوالیہ نشان بن جاتے ہیں۔ یہ سوالیہ نشان دراصل دشمنوں کی اس کوشش کی کامیابی کی علامت ہے۔ جو انہوں نے مسلمانوں کو اسلام سے متصادم نظریات تسلیم کرانے کے لئے کی ہے۔ جس کے نتیجے میں دورِ حاضر کے مسلمان اسلام کو دین کامل قرار دینے کے باوجود شعوری یا غیر شعوری طور پر ان تصورات پر کامل یقین کو بھی جزوِ ایمان سمجھ بیٹھے ہیں، جن پر ایمان لانے کے بعد اسلام کی اساس (توحید و رسالت) کم از کم عمل کی جان نہیں بنتی۔