• جنوری
  • فروری
1980
محمد حسین کلیم
پاکستان کے مسلمان شہر ی کیا چاہتے ہیں ۔ اسلام یا جمہوریت ؟
’’اسلام‘‘ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا بھیجا ہوا نظام ہے ۔ اس میں ہر اس شعبہ زندگی کے لیے  ہدایات موجود ہیں جوایک مسلم کو پیدائش سے لے کر وفات تک پیش آسکتا ہے ۔ اس کا اپنا معاشی نظام بھی ہے اور اقتصادی بھی سیاسی نظام بھی ہے اور معاشرتی بھی ۔ غرضیکہ اسلام ایک  مکمل نظام حیات ہے یہی وجہ ہے کہ جب پاکستان میں ’’سو شلزم  ہماری معیشت ‘‘ کا نعرہ لگایا گیا تو اس سر زمین میں علمائے کرام  نے بالاا تفاق واشگاف الفاظ میں سو شلزم کے کفر ہونے کا فتویٰ صادر فرمایا ۔ یہ بالکل بجا تھا اور بر وقت بھی۔
لیکن مجھے اس بات پر بہت جبرت ہے کہ ان علمائے کرام و زعمائے عظام نے ’’جمہوریت ہماری سیاست ‘‘ پر کیوں نہ اعتراض فرمایا۔ نہ صرف یہ کہ اس پر اعتراضص نہیں کیا  بلکہ خود بھی جمہوری ملک  ‘‘ جمہوری نمائندے ‘‘ فوجی حکومت ‘‘و غیرہ وغیرہ نعرے لگارہے  ہیں اور بیانات دے رہے ہیں کسی بھی مکتب فکر کے عالم دین نے جہاں تک میری معلومات ہیں اس کے خلاف آواز نہیں اٹھائی ۔ 
میں ان لوگوں سے اب ادب ہو کر یہ پوچھنے کی جسارت کرتا ہوں کہ اگر سو شلز م کے معاشی نظریات کی اسلام میں پیوند کاری جائز نہیں تو کیا اسلامی سیاست میں جمہوریت کی پیوند کاری جائز ہے ؟ اگر اسلام کا اپنا معاشی نظام ہے اور اسے مار کسی نظریات سے بھیک مانگنے کی قطعا ضرورت نہیں تو اسلام کا اپنا سیاسی نظام بھی ہے اسے یورپی  طرز سیاست یعنی جمہوریت سے دریوزہ گری کی بالکل ضرورت نہیں ۔ اور اسلام کا  سیاسی نظام ہے خلافت