• جولائی
2008
سلیم منصور خالد
جب سے انگریز بہادرنے اس خطے پر قبضہ جمایا ہے، تب سے ہمیں وہی چیز پسند آتی ہے جسے انگریز یا انگریزی سے نسبت ہوتی ہے۔ دیگر باتیں تو ایک طرف، ہمارے ہاں اپنی ذاتی پہچان کے حوالے 'دستخط' تک انگریزی ہی میں ثبت کرنا تہذیب و شائستگی قرار پائے۔ کچھ یہی حال تعلیم کا ہے۔ کبھی تعلیمی معیار کی علامت عیسائی مشنری تعلیمی ادارے تھے،
  • اگست
2008
سلیم منصور خالد
ہم بھی ایک عجب عہد میں سانس لے رہے ہیں کہ پسے اور مصیبت میں پھنسے ہوئے فرد بلکہ معاشرے ہی کو نصیحت کے درس دیے جاتے ہیں اور ظالم کے ظلم پر بات کرنے کو مصلحت کے خلاف یا شاید انتہا پسندانہ سوچ قرار دیا جاتا ہے۔ مغرب کے مخصوص دہشت پسندانہ ماحول اور مسلم دنیا کی استبدادی فضائوں میں سانس لینے والے 'ناصحین اور سیانے' لوگ یہ کہتے ہیں: