• مئی
1972
عبدالغفار اثر
دسمبر ۷۱ء میں سقوطِ ڈھاکہ کا المیہ وقوع پذیر ہوا۔ اس میں شک نہیں کہ مسلمان جیسی عظیم، فاتح شرق و غرب اور توحید پرست قوم کے لئے یہ واقعہ ہائلہ، حادثہ جانکاہ ہے۔ لیکن جب کوئی اس کے حقیقی اسباب و علل پر غور کریگا تو اسے ماننا پڑے گا کہ یہ در حقیقت کسی مسلمان کی شکست نہیں بلکہ یہ اسلام دشمن اور کفر پرست طاقتوں کی نئی اور پرانی چالوں پھر دین فروشوں، ملت کے غداروں اور طاغوتی ایجنٹوں کی سازشوں کا نتیجہ ہے
  • جون
1971
عبدالغفار اثر
نام نہاد ترقی یافتہ اقوام کی تقلید میں ہمارے ہاں جس تعلیم و تہذیب کا دور دورہ ہے اور نوجوان نسل جس طرح اس کا شکار ہو رہی ہے۔۔ اس نے اسلامی تہذیب و تمدن اور مشرقی روایات کو ایسی بری طرح سے ڈائنا سیٹ کیا ہے کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی، چند سالوں میں دیکھتے ہی دیکھتے ہماری سوسائٹی یورپ کی ذہنی غلام ہو گئی ہے۔
  • دسمبر
1970
عبدالغفار اثر
ہم ملت کے ہر درد، بہی خواہ مسلمان اور دین پسند جماعتوں کی توجہ اس امر کی طرف منعطف کرانا اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ جہاں سوشلزم، ظالمانہ سرمایہ داری، غیر اسلامی نظریات اور دیگر قباحتوں کے خلا  ف اپنی سرگرمیاں مرکوز کر رہے ہیں وہاں ملک میں بڑھتی ہوئی عریانی، فحاشی، بے راہ روی، ننگے مناظر کی اعلانیہ نمائش اور شرمناک تشہیر و اشاعت کے خلاف بھی ایک متحدہ محاذ بنا کر اس کے قرار واقعی انسداد اور قلع قمع کے لئے میدان عمل میں نکل آئیں۔
  • مئی
1971
عبدالغفار اثر

﴿وَقالَ الرَّ‌سولُ يـٰرَ‌بِّ إِنَّ قَومِى اتَّخَذوا هـٰذَا القُر‌ءانَ مَهجورً‌ا ٣٠﴾.. سورة الفرقان

یہ بات کس قدر المناک اور باعثِ تعب ہے کہ قرآنِ کریم جیسی جامع و مانع اور فصیح و بلیغ کتاب ہمارے پاس ماجود ہے اس کی فصاحت و بلاغت کے غیر مسلم بھی معترف ہیں لیکن اس کے باوجود اس کی تعلیم و تدریس کے سلسلے میں اس کے شایانِ شان اہتمام نہیں کیا گیا۔

  • اگست
1971
عبدالغفار اثر
ملتِ اسلامیہ کے عظیم فرزندو!

کاش کوئی ایسا آفاقی آلہ نشر الصوت ہوتا جس کے ذریعے وطنِ عزیز کی ہر بلندی و پستی، ہر کوہ و دامن اور ہر بستی و قریہ تک یہ آواز پہنچائی جا سکتی کہ اے ہوشمندو! خدا کے لئے سنبھلو! وہ دیکھو! صورِ اسرافیل پھونکا ہی جانے والا ہے اور قیامت سے پہلے قیامت آیا ہی چاہتی ہے،
  • جنوری
  • فروری
1971
عبدالغفار اثر
قوموں کے عروج و زوال کے سلسلہ میں اس امر سے زیادہ واضح تر کوئی حقیقتِ کبریٰ نہیں کہ علم و دانش اور ادب و حکمت کے بغیر انسایت عظمےٰ، کبھی سربلند اور سرفراز نہیں ہو سکتی اور پھر مسلمان قوم جس کا مزاج اور جس کا اوڑھنا بچھونا، چلنا پھرنا، اٹھنا بیٹھنا، بڑھنا پھولنا حتیٰ کہ جینے اور مرنے کا مرکز و محور علم ہی ہے۔