• اکتوبر
1996
صوبیدار لطیف اللہ
توبہ کا مفہوم
توبہ کے اصل معنی رجوع کرنے اور پلٹنے کے ہیں۔ بندہ کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ سرکشی سے باز آ گیا، طریق بندگی کی طرف پلٹ آیا اور خدا کی طرف سے توبہ کے معنی یہ ہیں کہ وہ اپنے شرمسار غلام کی طرف رحمت کے ساتھ متوجہ ہو گیا۔ پھر سے بنظر عنایت اس کی طرف مائل ہو گیا۔(1)
جب کہا تاب العبد تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ "(رجع الى طاعة ربه)" سرکشی چھوڑ کر وہ اللہ تعالیٰ کا فرماں بردار بن گیا اور اگر تاب کا فاعل اللہ تعالیٰ ہو تو پھر معنی یہ ہو گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نادم اور شرمسار بندے کی طرف نظر رحمت فرمائی اور اس کا قصور معاف فرما دیا۔(2)
جب توبہ کی نسبت بندہ کی طرف جاتی ہے تو اس کے معنی تین چیزوں کا مجموعہ ہوتا ہے۔
اول: اپنے کئے ہوئے گناہ کو گناہ سمجھنا اور اس پر نادم و شرمندہ ہونا۔
دوسرے: اس گناہ کو بالکل چھوڑ دینا۔
تیسرے: آئندہ کے لئے دوبارہ نہ کرنے کا پختہ عزم و ارادہ کرنا۔ اگر ان تین چیزوں میں سے ایک کی بھی کمی ہوئی تو وہ توبہ نہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ محض زبان سے "اللہ توبہ" کے الفاظ بول دینا نجات کے لئے کافی نہیں جب تک یہ تینوں چیزیں  جمع نہ ہوں یعنی گزشتہ پر ندامت اور حال میں اس کا ترک اور مستقبل میں اس کے نہ کرنے کا عزم و ارادہ۔(3)
  • جنوری
1996
صوبیدار لطیف اللہ

اللہ تعالیٰ تمام کائنات کا خالق ہے اور کائنات کی ہر چیز کی روزی اسی کے دستِ قدرت میں ہے۔ قرآن مجید میں جگہ جگہ اس کا ذکر موجود ہے۔ سورة الذاریات میں ارشاد ہے:

﴿وَفِى السَّماءِ رِ‌زقُكُم وَما توعَدونَ ﴿٢٢﴾... سورة الذريات"

اور تمہارا رزق اور جس چیز کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے آسمان میں (یعنی اللہ تعالیٰ کے ذمہ میں) ہے۔ سورہ ھود میں ارشاد ہے: