• جون
2002
ظفر علی راجا
۲۰۰۲ء کے ماہ مارچ اور پھر ماہ مئی کے دوران وطن عزیز کی پاک سرزمین اپنے دو ایسے فرزندانِ جلیل کے لہو سے گل رنگ ہوئی جن کی شہادت نے اہل و فکر ونظر کو بے تاب وبے قرار کردیا۔ مملکت خدادادِ پاکستان میں امر ربی کے قیام اور تسلسل کا خواب دیکھنے والی آنکھیں اشک بار ہوگئیں اور اس ملک کے طول و عرض میں قرآن و سنت کی سرفرازی کا ارمان رکھنے والے دل مجروح ہوکر رہ گئے!!
  • مئی
2002
ظفر علی راجا
۱۲/اکتوبر۱۹۹۹ء کو افواجِ پاکستان کے سربراہ جنرل پرویز مشرف نے عنانِ اقتدار سنبھالی تو اپنی تقاریر میں یہ تاثر دیا تھا کہ انہیں حادثاتی طور پر یہ ذمہ داری بہ امر مجبوری قبول کرنا پڑی ہے اوریہ کہ ان کے کوئی سیاسی عزائم نہیں ہیں۔ جنرل پرویز مشرف نے اس پس منظر میں اپنے آپ کو چیف ایگزیکٹو کہلوانا پسند کیا۔
  • اپریل
2004
ظفر علی راجا
نائن الیون ((11/9 کے بہانے امریکہ کو مسلمان ملکوں پر چڑھ دوڑنے کا جو موقع ملا، اس سے مسلم حکمران تو سپر انداز ہو ہی رہے ہیں لیکن مسلمان ملکوں کے عوام میں مغرب (نام نہاد عالمی اتحاد) کے خلاف ردِ عمل روز بروز بڑھتا جا رہا ہے۔ سیکولر قوتوں نے اس کا توڑ یہ سوچا ہے کہ ثقافتی اثر و نفوذ کے لئے مسلم معاشروں میں کچھ بزعم خویش ترقی پسندوں کی خدمات حاصل کر لی جائیں، دوسری طرف مغرب میں آباد اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں پر سرکاری دباؤ بڑھا دیا جائے۔
  • نومبر
2003
ظفر علی راجا
جب سے نئی اسمبلیاں تشکیل پائی ہیں ، ایل ایف او کا بحران شدید سے شدید تر ہوتا جارہا ہے، متحدہ مجلس عمل اور دیگرسیاسی جماعتوں کے آئے دن حکومت سے مذاکرات کی خبریں اخبارات میں چھپتی رہتی ہیں لیکن مذاکرات کا یہ اونٹ ابھی تک کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آتا۔ ایل ایف او کیا ہے؟ اور دینی وسیاسی جماعتوں کو اسے تسلیم کرنے میں کن مشکلات کا سامنا ہے؟
  • جنوری
2004
ظفر علی راجا
2003ء میں وطن ِعزیز کو جہاں آئین اور جمہوریت کے حوالے سے گونا گوں صدمات برداشت کرنا پڑے، وہاں پاکستان میں 1980ء کی دہائی میں نافذ ہونے والے اسلامی قوانین پر بھی مغرب نواز حلقوں کی جانب سے حکومتی سطح پر نفوذ کرنے اور ان قوانین کو ختم کروانے کی مؤثر کوششیں کی گئیں ۔
  • جون
2004
ظفر علی راجا
1979ء میں پاکستان کی سرزمین پر پہلی مرتبہ باضابطہ طور پر حدود قوانین کا نفاذ کیا گیا۔ ان قوانین کی وجہ نفاذ کی وضاحت کرتے ہوئے مسودہ قانون کے آغاز ہی میں بیان کیا گیا ہے کہ ان کے نفاذ کا واحد مقصد رائج الوقت قوانین کو ان سانچوں میں ڈھالنا ہے جو قرآن و سنت نے مقرر کئے ہیں۔ ان قوانین کے تحت قرآن و سنت کی روشنی میں قذف (بہتان)، چوری، ڈاکہ، شراب نوشی، زنا اور زنا بالجبر جیسے جرائم کی تعریف کا تعین کیا گیا اور اسلامی سزائیں لاگو کی گئیں۔
  • جولائی
1996
ظفر علی راجا
گزشتہ دنوں "اسلامک ہیومن رائٹس فورم" کے ایک اجلاس میں پچاس سے زائد علماء ووکلاء اور اہل دانش حضرات نے متفقہ طور پر ایک فتویٰ جاری کیا۔ جس کا لب لباب یہ ہے کہ کوئی مسلمان عورت کسی اقراری اور مصدقہ قادیانی کی قانونی بیوی نہیں بن سکتی اور اگر کوئی مسلمان عورت کسی قادیانی کے ساتھ اسلامی نکاح پر اصرار کرتی ہے تو ایسے نکاح کی کوئی مذہبی یا قانونی حیثیت نہیں ہوگی۔ایسا عمل نہ صرف یہ کہ حدود آرڈیننس کے زمرے میں آتا ہے بلکہ"امتناع قادیانیت آرڈیننس" کے تحت بھی جرم  تصور ہوگا۔
"اسلامک ہیومن رائٹس فورم" کے اس فتویٰ کا  روئے سخن در اصل عاصمہ جہانگیر ایڈوکیٹ کی جانب تھا،عاصمہ جہانگیر صاحبہ بنیادی انسانی حقوق کی علم بردار ایک تنظیم"ہیومن رائٹس کمیشن"کی چئیر پرسن ہیں اور ایک عرصہ سے  بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کے لئے متاثرہ شہریوں کو قانونی تحفظ مہیا  کرنے کے چمپئن کے طور پر جانی پہچانی جاتی ہیں۔اس لحاظ سے ان کی جدوجہد عمومی طور پر متنازعہ نہیں رہی۔ان کی ذات اور جدوجہد کے خلاف شدید رد عمل اس وقت شروع ہوا جب پاکستان میں "قانون توہین ر سالت" کانفاذ کیا گیا اور بعد ازاں اسلامی حلقوں کی طویل قانون جنگ کے بعد توہین رسالت کی سزا موت مقرر ہوئی۔عاصمہ جہانگیر ان لوگوں میں شامل تھیں۔جنہوں نے بنیادی انسانی حقوق کےحوالے سے اس قانون کی مخالفت کی۔اس دوران میں جن لوگوں کے خلاف"قانون توہین رسالت" کے تحت مقدمات دائر ہوئے۔
  • فروری
2000
ظفر علی راجا
"محدث"کی ہمیشہ یہ کو شش رہی ہے کہ عصری مسائل پر دینی نقطہ نگاہ کو اجاگر کیا جائے اور اس سلسلے میں اٹھنے والے مختلف النوع سوالات کا شافی جواب دنیا کے سامنے پیش کیا جا ئے ۔یہی وہ بنیادی محرک ہے جس کے تحت عصر حاضر پیچیدہ مسائل کا خالص علمی  اور فکری سطح پر تجزیہ اور اس مسائل پر مختلف نقطہ ہائے نظر کا تقابلی جائزہ پیش کرنا محدث نے اپنے علمی اور صحافتی فرائض میں شامل کر رکھا ہے ہم اللہ بزرگ و برتر کےتہ دل سے شکرگزار ہیں کہ اہل علم و دانش کے ساتھ ساتھ دنیا کے گوشے گوشے میں پھیلے ہوئے محدث کے قارئین ہماری کا رکردگی کو پسند کی نگاہ سے دیکھتے ہیں
  • جولائی
2002
ظفر علی راجا
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے ایامِ گذشتہ کا منظرنامہ دیکھئے تو 'وطن عزیز کی آئینی تاریخ' اور 'حرمت ِسود' کا مسئلہ روزِ اوّل ہی سے پہلو بہ پہلو سفر کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ پاکستان کا سب سے پہلا آئین ۱۹۵۶ء میں نافذ ہوا اور دوسرا ۱۹۶۲ء میں تشکیل دیا گیا۔ ان دونوں دساتیر میں صاف اور غیر مبہم طور پر یہ بات درج تھی کہ حکومت، پاکستان کے نظامِ معیشت سے سود کی لعنت کو ختم کرنے کے لئے بھرپور مساعی کرے گی۔
  • ستمبر
  • اکتوبر
1999
ظفر علی راجا
سودی نظام کے خلاف موجودہ قانون، حکومت ، جدید معاشیات اور اسلامی شریعت کے محاذ پر ایک طویل عدالتی جنگ کئی ماہ مسلسل جاری رہنے کے بعد جولائی ۱۹۹۹ء؁ میں اختتام پذیر ہوئی۔ عرفِ عام میں اس عدالتی جنگ کو ''سود کا مقدمہ'' کا نام دیا گیا۔ لیکن جس انداز میں سپریم کورٹ کے شریعت اپلیٹ بنچ کے روبرو یہ مقدمہ لڑا گیا
  • اکتوبر
1996
ظفر علی راجا
ملزم خواتین کے حقوق اور جنسی امتیاز

مغرب نام نہاد جنسی مساوات کے نعروں کے ذریعے مردوزن کی طبقاتی کشمکش کو تو فروغ دے رہا ہے لیکن صنفی امتیازات کی فطرت کو نظرانداز نہیں کر سکتا جو اسلام نے مردوزن کے مثالی مساوی حقوق و فرائض کے باوصف الگ الگ دائرہ کار کی صورت قائم رکھی ہے۔ البتہ اسلام نے طبقاتی تقسیم سےقطع نظر مرد و زن کی شخصیت کا پہلو ضرور ملحوظ رکھا ہے۔ یعنی تقویٰ و کردار کی بنیاد پر ملت میں "شخصیت" کو بھی اہمیت دینی چاہئے۔ حسن اتفاق سے زیرِ بحث موضوع پر "وضعی قوانین" کے اندر شخصیت و کردار کی ادنیٰ سی جھلک بھی موجود ہے جو اگرچہ اردو الفاظ میں نمایاں نہیں ہو سکی لیکن متذکرہ قانون کے اندر "خاتون" کے لئے جو انگریزی لفظ "Lady" استعمال کیا گیا ہے اس کا لازمی تقاضا ہے کہ ایسی رعایت صرف شریف زادیوں کے لئے ہو۔ آوارہ عورتوں کے لئے نہیں۔ اسلامی تعلیمات میں شریف (طیبہ) اور آوارہ (خبیثہ) کے بعض فقہی احکام مختلف ہیں۔ اسی وضاحت کی روشنی میں خواتین کی عدالتوں میں حاضری کا جائزہ بصیرت افروز ہو گا۔ ان شاءاللہ (مدیر)
  • نومبر
2004
ظفر علی راجا
پاكستان كى تاريخ ميں سال ٢٠٠٤ء كو 'اسلامى تشدد پسندى' كے خلاف حكومتى سرگرمى اور مسلح مہم جوئى كے علاوہ حدود قوانين اور توہين ِرسالت سے متعلق ضوابط كے خلا ف وفاقى حكومت اور بعض مغرب زدہ اين جى اوز كى تحريك كے حوالے سے ايك خاص اہميت كا حامل قرار ديا جاسكتا ہے- اس سال كے دوران پاكستان كے قبائلى علاقوں، پاك افغان سرحد كے ساتھ ساتھ اور وطن عزيز كے اندر فوجى كارروائى ميں سينكڑوں 'اسلامى جنگجووٴں' كو 'ہلاك' كياگيا اور يہ كارروائى دمِ تحرير بهى پورے زور و شور سے جارى ہے-
  • اکتوبر
2003
ظفر علی راجا
۶؍اکتوبر ۲۰۰۳ء کو پاکستان کے پُرفضا دارالحکومت اسلام آباد پر اُترنے والی خنک سہ پہر، وطن عزیز میں دہشت گردوں کے حوالے سے ایک اہم باب کے طور پر یاد رکھی جائے گی، یہ پیر کا دن تھا۔ سیاسی اور دینی جماعت ملت ِ اسلامیہ کے سربراہ اور قومی اسمبلی کے رکن مولانا اعظم طارق اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ جھنگ سے روانہ ہوئے اور اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لئے جب اسلام آباد میں داخل ہوئے