• اکتوبر
2001
عبدالعزیز حنیف
حلق پھاڑ کر نعرے لگانا کتنا آسان ہے لیکن ان نعروں کے پس پردہ حقائق اور کار فرما خفیہ عزائم کا سراغ لگانا اور ان کا اِدراک کرنا بڑا مشکل ہے۔حقوقِ انسانی کا نعرہ بھی اسی طرح کا ایک دلکش، خوبصورت اور پر فریب نعرہ ہے جس کی چمک بڑی مسحور کن ہے اور جوبظاہرہر انسان کے عزت و احترام پر ابھارتا ہے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس نعرہ کا علمبردار کسے ہونا چاہے؟
  • نومبر
2000
عبدالعزیز حنیف
اہم معاشرتی برائی کے سد باب کی ایک جھلک

معاشرتی برائیوں میں سے بڑی برائی"مردوزن کے ناجائز تعلقات" ہیں۔سورہ بنی اسرائیل میں اس مسئلہ کی بابت احکام نازل ہوئے ہیں جس میں خالق کائنات نے ارشاد فرمایا:"زنا کے قریب مت جاؤ،یہ بے حیائی کی دعوت ہے اور نہایت برراستہ ہے"اس سے منع کرنے کی دو وجوہات ہیں:
اول:۔
یہ حیا کی ضد ہے جبکہ اسلام حیا کاعلمبردار ہے اور وہ حیا کو ایمان کا جزو عظیم قرار دیتاہے۔ جب بے حیائی کافتنہ کسی انسان کو اپنے آہنی شکنجے میں جکڑ لیتا ہے تو اس کے نتیجہ میں وہ کسی بھی قسم کے جرم کے ارتکاب میں  ہچکچاہٹ محسوس نہیں کر تا۔پیغمبر کائنات صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:
"جب حیا  کاجذبہ تمہارےاندر سے ختم ہوجائے تو پھر تم جو چاہے کرتے پھرو،تمھیں کوئی روکنے والا نہیں"
جہاں حیا کےخاتمے سے انسان کا ضمیرمردہ ہوجاتا ہے ،وہاں سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں سلب ہوجاتی ہیں۔انسان کے افعال اسکے کنٹرول سے باہر ہوجاتے ہیں۔نتیجۃً تباہی اور بربادی اسکا مقدر ٹھہرتی ہے۔
دوم:۔
وجہاس کی یہ ہے کہ قبیح فعل معاشرے میں فساد اوربگاڑ کاباعث ہے۔یہی فساد بسا اوقات قبیلوں اورقوموں کی تباہی کاپیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔