• مارچ
  • اپریل
1976
ماہر القادری
تیرا نطق وحی یزداں، تری بات شرح قرآں ترا نام دل کی تسکیں، ترا ذکر راحتِ جاں
ہوی تیری آمد آمد تو برائے خیر مقدم کہیں کھِل گئے گلستاں کہیں ہو گیا چراغاں
ہے جہانِ آب و گل میں ترے دم قدم سے رونق تو فروغِ بزم ہستی، تو بہارِ باغِ امکاں
  • اگست
2000
ماہر القادری
طاقوں میں سجایا جاتا ہوں ، آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں
تعویذ بنایا جاتا ہوں ، دھودھو کے پلایا جاتا ہوں
جزدان حریر وریشم کے ، اور پھول ستارے چاندی کے
پھر عطر کی بارش ہوتی ہے ، خوشبو میں بسایا جاتا ہوں
جس طرح سے طوطے مینا کو ، کچھ بول سکھاے جاتے ہیں
اس طرح پڑھایا جاتا ہوں ، اس طرح سکھایا جاتا ہوں
جب قول وقسم لینے کے لیے ، تکرار کی نوبت آتی ہے