• اگست
1999
خرم علی بلہوری
جماعتِ مجاہدین، جسے شہیدین سید احمد شہید رحمۃ اللہ علیہ اور شاہ اسمعیل شہید رحمۃ اللہ علیہ نے تحریکِ احیاءِ سنت صلی اللہ علیہ وسلم کے نتیجے میں آج سے 175 برس قبل منظم کیا تھا، مسلمانانِ ہند کی تاریخ کا ایک درخشاں باب ہے۔ اس دور میں جب تختِ دہلی پر انگریز اور تحتِ لاہور پر سکھ راج کی حکومت تھی، مسلمانانِ ہند کو منظم کر کے صوبہ سرحد کو اپنا مستقر بنا کر اس تحریک کے سرفروشوں نے ایک نئی سادتانِ شجاعت رقم کی۔ 1826ء سے 1864ء تک پھیلی مجاہدین کی ان سرگرمیوں اور کامیابیوں نے امتِ مسلمہ میں ایک نئی روحِ جہاد پھونک دی۔ اس جہاد کا امتیازی پہلو یہ تھا کہ مجاہدین جن کا ہندوستان بھر سے مالی اِعانت کا ایک منظم جال تھا، نے آزاد علاقوں (صوبہ سرحد کے بعض شہروں) میں اپنا ٹھکانہ بنا کر جہاد کا احیاء کیا، کیونکہ اسی صورت میں وہ جہاں غیروں کی جہادی مقاصد میں دخل اندازی سے محفوظ رہ سکتے تھے وہاں جہاد کے خاطر خواہ نتائج بھی حاصل کر سکتے تھے ۔۔ جہاد اسلام کی بلند ترین چوٹی اور امتِ مسلمہ کی عزت کی ضمانت ہے۔ امتِ مسلمہ کے ساتھ ساتھ آخری دم تک جہاد بھی باقی رہے گا۔