• ستمبر
1987
شیخ عبداللہ الحضری
1۔ مسلمان بھائی کے لیے دُعاء کرنا او راپنے لیے نہ کرنا:
یہ شرعاً جائز اور آنحضرتﷺ سے ثابت ہے۔ حضرت ابوموسیٰ ؓ فرماتے ہیں، نبی اکرمﷺ نے دعاء کی تھی:
’’اللٰھم اغفرلعبید ابی عامر اللٰھم اغفر لعبد اللہ بن قیس ذنبه‘‘ (صحیح بخاری :11؍35)
’’یا اللہ! ابوعامر عبید کی مغفرت فرما! یا اللہ، عبداللہ بن قیس کی خطائیں بخش دے۔‘‘ 
اسی طرح آپؐ کا حضرت انس ؓ کے حق میں دعاء کرنابھی آیا ہے:
’’عن انس رضی اللہ عنه قال : قالت اُم سلیم للنبی صلی اللہ علیه وآله وسلم انس خادمک، قال: اللٰھم اکثر ماله وولده و بارک له فیما اعطیته‘‘(صحیح بخاری :11؍136)
’’حضرت انس ؓ کہتے ہیں، اُم سلیم ؓ نے آنحضرتﷺ سے درخواست کی ،  ’’اللہ کے رسولؐ، انس ؓ آپ کا خادم ہے۔‘‘ تو آپؐ نے دعاء فرمائی: ’’یا اللہ ، اس کے مال اور اولاد کو زیادہ کر اور اسے دی ہوئی  نعمتوں  میں برکت عطا فرما۔‘‘