• ستمبر
2004
محمد اسحاق بھٹی
امام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ اپنے دودمانِ بلند مرتبت کے سلسلۃ الذہب کی ایسی درخشندہ کڑی ہیں جن کی ضیا پاشیاں اُفق عالم کو ہمیشہ منور رکھیں گی اور جن کے علم و ادراک کی فراوانیوں اور فضل وکمال کی وسعتوں سے کشور ِ ذہن مصروفِ استفادہ اور اقلیم ِقلب مشغولِ استفاضہ رہیں گے۔ ان کے جد ِامجد مجدالدین کو حنابلہ کے ائمہ واکابر میں گردانا جاتا تھا اور اہل علم کے ایک بہت بڑے حلقے نے ان کو مجتہد ِمطلق کے پرشکوہ لقب سے ملقب کیا ہے۔
  • اپریل
1989
محمد اسحاق بھٹی
نعرہ بازی کی سیاست یا علمی تحقیق اور تبلیغ و جہاد؟
حضرت مولانا حافظ عبدالرحمن مدنی مدظلہ العالی پاکستان کی معروف علمی شخصیات میں سے ہیں۔ آپ جامعہ لاہور الاسلامیہ میں، مدرسہ رحمانیہ، کلیۃ الشریعۃ اور وکلاء و جج حضرات کی شرعی تربیت گاہ انسٹی ٹیوٹ آف ہائر سٹیڈیز جیسی درسگاہوں کے علاوہ، مجلس تحقیق اسلامی اور "ماہنامہ محدث" لاہور کے مدیر اعلیٰ ہیں۔
موصوف جنوری کے مہینے میں سعودی عرب تشریف لائے۔ اس دوران میں، جہاں وہ مکۃ المکرمہ، ریاض اور قصیم گئے۔ وہاں مدینۃ المنورہ میں بھی جلوہ افروز ہوئے۔ مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم پاکستانی طلبہ نے ان کے اعزاز میں ایک استقبالیہ تقریب کا اہتمام کیا۔ جس میں پاکستانیوں کے علاوہ ہندی، بلتستانی اور کشمیری طلبہ بھی۔۔۔۔ باوجودیکہ سب کے سب ششماہی امتحان کی تیاری میں مصروف تھے کثیر تعداد میں شریک ہوئے۔
اس انتہائی پُروقار تقریب میں انہوں نے طلبہ سے ایک تاریخی خطاب فرمایا: جس کے چند اہم نکات پیش خدمت ہیں۔
  • اپریل
2007
محمد اسحاق بھٹی
خاندانِ عمرپور کے چشم و چراغ اور ہندوپاک میں علم حدیث کی ترویج و فروغ کے ایک عالی دماغ، مولاناعبدالغفار حسن رحمانی عمرپوری رحمۃ اللہ علیہ 93برس آٹھ ماہ کی بھرپور زندگی گزار کر جمعرات 22 مارچ کی صبح اسلام آباد میں انتقال کرگئے۔ تعلیم و تعلّم کے اعتبار سے اُنہوں نے دار الحدیث رحمانیہ، دہلی سے سند ِفراغت حاصل کی۔
  • دسمبر
2001
محمد اسحاق بھٹی
نازلةمصیبت کو کہتے ہیں اور قنوت دعا کو۔ اس لئے قنوتِ نازلہ کا معنی ہے: مصائب میں گھر جانے اور حوادثِ روزگار میں پھنس جانے کے وقت نماز میں اللہ تعالیٰ سے گریہ زاری والحاح، ان کے ازالہ و دفعیہ کی التجا کرنا اور بہ عجز و انکساری ان سے نجات پانے کے لئے دعائیں مانگنا۔
پھر مصیبتیں کئی قسم کی ہوسکتی ہیں۔
  • مئی
2000
وحید بن عبدالسلام
(3)۔سحر تخیل(وہم میں مبتلا کرنے والا جادو)
فرمان الٰہی:۔
 قَالُوا يَا مُوسَى إِمَّا أَنْ تُلْقِيَ وَإِمَّا أَنْ نَكُونَ أَوَّلَ مَنْ أَلْقَى قَالَ بَلْ أَلْقُوا فَإِذَا حِبَالُهُمْ وَعِصِيُّهُمْ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ مِنْ سِحْرِهِمْ أَنَّهَا تَسْعَى (87)
"کہنے لگے کہ اے موسیٰ علیہ السلام  ! یا تو پہلے ڈال یا ہم پہلے ڈالنے والے بن جائیں ،جواب دیا کہ نہیں،تم ہی پہلےڈالو۔اب موسیٰ علیہ السلام   کو یہ خیال گزرنے لگا کہ ان کی رسیاں اور لکڑیاں ان کے جادو کے زور سے دوڑ بھاگ رہی ہیں"
سحر تخیل کی علامات:۔
1۔منجمد چیز کو متحرک اور متحرک کو منجمد دیکھنا۔
2۔چھوٹے کو بڑا اور بڑے کو چھوٹا سمجھنا۔
3۔مختلف چیزوں کو ان کی حقیقت سے ہٹ کردیکھنا،جیسا کہ لوگوں نے دیکھا کہ رسیاں اورلکڑیاں دوڑتے ہوئے سانپ ہیں۔