• اپریل
2003
نجیب الرحمن کیلانی
چند روز قبل ایک جامع مسجدمیں قاری صاحب مغرب کے بعد درسِ حدیث دے رہے تھے کہ انہوں نے بلوغ المرام سے مندرجہ ذیل حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا:

«عن أبي برزة الأسلمي... وکان يستحب أن يوخر من العشاء، وکان يکره النوم قبلها والحديث بعدها» (متفق علیہ)
  • اکتوبر
2000
نجیب الرحمن کیلانی
چند دنوں کی بات ہے کہ نماز عصر کے بعد ایک دوست پوچھنے لگے کہ اہل کتاب یعنی یہودو نصاریٰ کی عورتوں سے نکاح کے بارے میں ذرا وضاحت کریں ۔ تفصیل پوچھنے پر انھوں نے بتا یا کہ میرا ایک دوست عرصہ بارہ سال سے جرمنی میں رہائش پذیر ہے وہاں جا کر اس نے دوسرے سال ہی ایک عیسائی عورت سے شادی کر لی تھی۔جب بھی کبھی وہ پاکستان آتا ہے تو یہی کہتا ہے کہ میں دلی طور پر اس شادی سے مطمئن نہیں ہوں۔جب کہ وہ عورت اب تک اپنے دین یعنی عیسائیت پر قائم ہے اور بچوں کو بھی عیسائیت کی طرف مائل کر رہی ہے چونکہ ان کے بچے بھی ہیں اس لیے اس عورت کو چھوڑنا ممکن نہیں رہا۔ مزید تفصیل پر معلوم ہوا کہ یہ صرف اسی کا ہی مسئلہ نہیں ہے بلکہ وہاں کے مشنری ادارے فوراً اپنی لڑکیوں کا ان مسلمانوں سے نکاح کرا دیتے ہیں جو تلاش پر روزگار کے سلسلے میں وہاں جاتے ہیں اور جب یہ مسلمان واپس آتے ہیں تو ان عورتوں کو ویسے ہی چھوڑآتے ہیں اس طرح یہ صرف نام کے ہی مسلمان رہ جا تے ہیں وگرنہ ان کی تہذیب معاشرت لین دین اکل و شرب سب کچھ عیسائیوں جیسا ہی ہوتا ہے وہ اتوار کے اتوار گرجامیں تو بےشک نہیں جاتے مگر اپنی نمازوں سے ضروربیگانہ ہو جا تے ہیں اپنی عیسائی بیویوں کے ساتھ مل کر بلا جھجک خنزیر کا گوشت بھی کھاتے ہیں اور شراب سے بھی دل بہلاتے ہیں یہ صرف جرمنی کا ہی واقعہ نہیں بلکہ گرین کارڈ اور نیشنلٹی کے چکر میں برطانیہ امریکہ الغرض دوسرے کئی ایک ممالک میں مسلمان اپنی عاقبت خراب کر رہے ہیں ۔