• جنوری
2004
عبدالوکیل علوی
جناب محمد یونس طالب الہاشمی دورِ حاضرکے ان دانشور اہل قلم میں سے ہیں جنہیں اللہ تعالیٰ نے ایسی صلاحیت اور اہلیت سے نوازا ہے جس کے ذریعہ موصوف اپنی بات کو قارئین کے دل ودماغ میںاُتارنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کو درد مند دل سے بھی نوازا ہے ، اسی درد مندی کی وجہ سے وہ ہمیشہ اُمت ِمسلمہ کی ان ممتاز شخصیات کے حالاتِ زندگی جمع کرنے میں مصروف ومشغول رہتے ہیں
  • مارچ
2000
عبدالوکیل علوی
ربّ ِکائنات کے طے شدہ منصوبے اور سوچے سمجھے پروگرام کے مطابق موت و حیات کا سلسلہ اَزل سے جاری ہے اور اَبدالاباد تک ساری رہے گا۔ وقت کا ہر لمحہ نہ جانے کتنی ہستیوں کے چراغِ حیات کو گل اور شمع زندگی کو بجھا دیتا ہے اور گلشن زندگی میں کتنے شگوفوں کو قبائے ہستی سے مزین کرتا ہے۔ موت زندگی کی سب سے بڑی حقیقت ہے۔ اس حقیقت سے کسی فرد بشر کو انکار نہیں ہے نیز ا س کے وقوع سے بھی کسی کے لئے مجالِ انکار نہیں۔
  • جولائی
1996
عبدالوکیل علوی
قحط الرجا ل کے اس دور میں کسی صاحب علم و فضل کا اٹھ جا نا "موت العا لم مو ت العالم" کا مصداق ہے ۔علم دین شریعت کا فقدان اصحا ب علم دین کے اٹھ جا نے سے ہی ہو تا ہے 1995ء میں بہت سے اصحا ب علم و فضل داربقا کی جا نب رخت سفر باندھ گئے ان کے اٹھ جا نے سے خلا پیدا ہوا ہے اسے پر کرنا بڑا دشوار اور مشکل ہے آنے والا جا نے ہی کے لیے آتا ہے ان آکر جا نے والوں میں بہت سے اوصاف و ممیزات کی مالک ایک شخصیت مولانا عبد الرحمٰن کیلا نی رحمۃ اللہ علیہ  کی ہے مو صوف 18دسمبر 1995ءسوموار کے روز اپنے ہاتھوں سے تعمیر کردہ مسجد میں نماز عشا ء ادا کرتے ہو ئے پہلی صف میں دائیں جا نب حالت سجدہ میں دا عی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔
انا الله وانا اليه راجعون 
ایسی قابل رشک موت خوش نصیبوں کو ہی نصیب ہو تی ہے باوضو  فرض نماز باجماعت پہلی صف میں دا ئیں جا نب حا لت سجدہ میں زبا ن سے رب کا ئنا ت کی روح و ثنا کے ترا نے اجتما عیت میں شریک ہر ایک کے احسان سے سبکدوش رب اکبر کی کبرا یا ئی کا ورد کرتے ہو ئے وہ گئے!!!
سُبْحَانَ اللَّهِ وَبِحَمْدِهِ ،•، سُبْحَانَ اللَّه الْعَظِيم