• اپریل
2005
شیخ سلمان بن فہد
عصر حاضر ميں متعدد اسباب ہيں جو اس موضوع پرقلم اُٹهانے كا تقاضا كر رہے ہيں :
1۔ نااہل لوگوں نے علم و قابليت كے بغير شريعت ِخداوندى كے اُصول و فروع سے مسائل كے استنباط كى جسارت شروع كردى ہے- ان كى اكثريت نے حديث كے باريك اوربڑے بڑے مسائل ميں كريد اور تعمق شروع كردياہے -
  • جنوری
2006
شیخ سلمان بن فہد
یہ ہے کہ اپنی کشتی کو انسانی معاشروں میں پائے جانے والے ظروف و حالات کے بہائو پر چھوڑ دیا جائے اور نصوص اور احکامِ شرعیہ کوعصری حالات کے تابع کردیا جائے باوجود اس کہ کہ یہ اشیا اللہ اور اس کے رسول کے حکم کے مخالف ہوں ۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ درحقیقت حالاتِ زمانہ انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ اپنے گردوپیش کے ماحول اور رسوم و رواج سے متاثر ہوئے بغیرنہیں رہ سکتا۔ وہ آس پاس کے حالات سے موافقت کرنا اور اُنہیں اپنے حال پر برقرار رکھنا پسند کرتاہے اور نہیں چاہتا کہ کوئی ایسی چیز اس کے رسوم و رواج سے متصادم ہو جسے وہ پسند نہ کرتا ہو۔
  • جنوری
2010
شیخ سلمان بن فہد
زیر نظر مضمون سعودی عرب کے نامور داعی شیخ سلمان بن فہد العودۃ کے کتابچے ''اِفْعَلْ وَلاَ حَرَج'' کا اُردو ترجمہ ہے۔ اس کتابچہ میں شیخ موصوف نے عصر حاضر میں حجاج کرام کی مشکلات اورمسائل کو سامنے رکھتے ہوئے شریعت میں موجود سہولیات اور رخصتوں کو بیان کیاہے اور موضوع سے متعلقہ آیات، احادیث، آثار و اقوالِ سلف اور معاصر علماے کرام کے فتاویٰ جات کو جمع کردیا ہے۔