• اگست
2000
علامہ یوسف قرضاوی
اجتہاد انسانی زندگی میں پیش آمدہ مسائل کے بارے میں الہامی رہنمائی کے لیے اس انتہائی ذہنی کدو کاوش کا نام ہے جس کا مدار تو کتاب وسنت ہی ہوتے ہیں لیکن مجتہد کو اس بارے میں کتاب و سنت کی واضح صریح نصوص نہ ملنے پر کتاب و سنت کی وسعتوں اور گہرائیوں میں اترنا پڑتا ہے ۔اگر غور و فکر کی گیرائی اور گہرائی شریعت کی مہیا کردہ رہنمائی کی تلاش کے لیے نہ ہوتو اسے اجتہاد کی بجائے تدبیرکہتے ہیں پھر اگر چہ نبی کو بھی نت نئے پیش آمدہ بہت سے مسائل میں اللہ کی رضا معلوم کرنے کے لیے ایسی ذہنی تگ و تازسے ضرور واسطہ پڑتا ہے لیکن چونکہ اللہ عاصم اور نبی معصوم ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے نبی کو استصواب کے ذریعے ایسی اجتہادی غلطی پر قائم رہنے سے بھی تحفظ فرمادیا ہے۔ اس لیے اصطلاح شرح میں نبی کا اجتہاد سنت و حدیث ہی کہلاتا ہے جو انسانی کا وش اجتہاد و فقہ کی بجائے شریعت کا حصہ ہے۔
چونکہ غیر نبی کے لیے اجتہاد میں انسانی تگ و تاز کایہ پہلو صحت و خطا کے احتمال سے خالی نہیں ہو سکتا اور بسا اوقات وہ الہامی ہدایت کے بجائے صرف دنیاوی تدبیر کے زمرے میں داخل ہو جاتا ہے۔اس لیے علمائے دین اس کے بارے میں بڑے محتاط ہیں اور وہ نہ تو ہرایرےغیرے کو اجتہاد کی اجازت دیتے ہیں اور نہ ہی اس بارے سابقہ ذخیرہ فقہ سے ناآشنائی کو برادشت کرتے ہیں اسی بنا پر جدید دانشور طبقہ انہیں قدامت پرستی کا طعن دیتا ہے حالانکہ۔ ع۔ ز۔ تقلید عالمان کم نظر اقتداء بررفتگان محفوظ تر، تاہم اس بارے میں اسلامی معاشرے میں موجود تقلید والحاد کے دوانتہائی رویوں سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا ۔اسی افراط و تفریط کا کا جائزہ اس مکالمہ میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔(محدث)