• جنوری
1989
امام ابن قدامہ مقدسی
اہل تصوف کے نزدیک غناء (قوالی) رقص، تواجد، دف بجانا، مزامیر سننا، ذکر و تحلیل کے نام پر اصوات منکرہ بلند کرنا اور پھر یہ دعویٰ کرنا کہ یہ تمام اشیاء قربِ الہیٰ کی انواع سے ہیں، بہت عام ہے۔ ان تمام امور کے متعلق شیخ الاسلام امام المجتہد علامہ موفق الدین ابی محمد عبداللہ ابن احمد بن محمد المقدسی الدمشقی الحنبلی رحمۃ اللہ علیه (م سئہ 620ھ) المعروف بابن قدامہ مقدسی رحمۃ اللہ علیہ کا ایک دقیع فتویٰ مختصر کتابچہ کی شکل میں استاذ زھیر الشاویش حفظہ اللہ (صاحب المکتب الاسلامی بدمشق) کی کوشش سے سئہ 1984ء میں بار سوم طبع ہوا تھا۔ اگرچہ اس سے قبل ان امور سے متعلق ہمارے بیشتر اکابرین اور علمائے حق زور قلم صرف کر چکے ہیں، بالخصوص امام حافظ جمال الدین ابوالفرج عبدالرحمن ابن الجوزی الحنبلی رحمۃ اللہ علیه  نے (م سئہ 597ھ) "تلبیس ابلیس" اور "ذم الھویٰ" میں، امام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے "فتاویٰ" میں امام ابن القیم الجوزیہ رحمۃ اللہ علیہ نے "اغاثۃ اللہفان فی مکاید الشیطان" میں امام ابن حجر عسقلانی رحمۃ اللہ علیہ نے "کف الرعاع" میں اور ابن ابی الدنیا رحمۃ اللہ علیہ  نے "ذم الملاھی" وغیرہ میں ان امور پر اس قدر سیر حاصل بحث و جرح کی ہے کہ مزید کچھ لکھنے کی حاجت باقی نظر نہیں آتی۔ فجزاھم اللہ۔ مگر چونکہ راقم اسلاف و اکابرینِ ملت کی دینی خدمات اور ان کے آثارِ مبارکہ سے عام مسلمانوں کو متعارف کرانا اپنے لیے باعثِ سعادت تصور کرتا ہے، لہذا ذیل میں علامہ ابن قدامہ مقدسی رحمۃ اللہ علیہ ، کہ جن کی شخصیت علم دین سے واقفیت رکھنے والے کسی شخص کے لیے محتاج تعارف نہیں ہے، کے اس اہم فتویٰ کو اردو قالب میں ڈھال کر مختصر تخریج و تحقیق کے ساتھ استفادہ عام کی خاطر پیش کیا جاتا ہے۔۔۔مترجم