• جنوری
2012
ابو عبداللہ

اوائل اسلام میں جب مختلف فتنوں نے سر اُٹھایا تو ائمہ اہل السنۃ کی طرف سے ان کی بھرپور علمی تردید کی گئی۔ ان میں سے 'مسئلۂ ایمان و کفر' میں ایک طرف خوارج و معتزلہ تھے تو دوسری انتہا پر مرجئہ و جہمیہ جمے ہوئے تھے ۔ جبکہ اہل السنّۃان دو انتہاؤں کے وسط میں راہِ اعتدال پر قائم تھے اور آج بھی ہیں اور یہ بھی حقیقت بلا ریب ہے کہ مرجئہ و جہمیہ کی طرف سے اہل السنۃکو خارجی ہونے کا طعنہ دیا گیا

  • مئی
2007
ابو عبداللہ
اسلام آباد میں جامعہ حفصہ اور لال مسجد کی انتظامیہ کے درمیان تنازع بڑھتا ہی چلا جارہا ہے۔ اس اختلاف کی رپورٹیں ۲۰ جنوری کو حکومت ِپاکستان کی طرف سے مسجد امیر حمزہ اوراس سے ملحق مدرسے کو گرانے کے بعد میڈیا میں آنا شروع ہوئیں ۔ لال مسجد کے خطیب کے ایک مبینہ بیان کے مطابق سی ڈی اے اسلام آباد کی طرف سے کچھ عرصے کے وقفے کے ساتھ سات سے زائد مساجد کو گرایا گیا۔
  • جون
2011
ابو عبداللہ
انہی دنوں بعض لوگوں نے یہ نیا دعویٰ شروع کردیا ہے کہ اُمت ِمسلمہ میں شرکِ اکبرنہیں پایا جا سکتا اور اِس اُمت کا کوئی فرد شرکِ اکبر نہیں کر سکتا ۔ اس دعویٰ سے مقصود یہ ہے کہ آج اگر بعض لوگوں کو شرک سے بچنے کی تلقین کی جائے تو وہ یہ جواب دے سکیں کہ
''بھائی! اب شرک کیسا، اس کا تو اس اُمت میں امکان ہی نہیں ہے۔ ''