• نومبر
1976
محمد سلیمان اظہر
قارئین محترم! کسی گذشتہ شمارے میں ہم آپ کے سامنے پریوی کونسل لندن کا ایک تاریخی فیصلہ پیش کرچکے ہیں۔ آپ کو اندازہ ہوچکا ہوگا کہ آج کے بریلوی احباب کا واویلا بعد از مرگ کی حیثیت رکھتا ہے۔ تقلید و عدم تقلید ، رفع الیدین، آمین بالجہر یاقرأت فاتحہ خلف الامام ایسے امور نہیں ہیں کہ ان کاقائل و عامل اہل سنت سے خارج کردیا جائے یا ایسے شخص کی اقتداء میں نماز ناجائز یا مکرہ ہو۔
  • اکتوبر
1976
محمد سلیمان اظہر
ان دنوں بدقسمتی سے ہمارے ملک میں یہ ناخوشگوار بحث چل نکلی ہے کہ وہابی (نجدی) یا اہلحدیث کی اقتداء میں حنفی خصوصاً بریلوی نماز پرھ سکتے ہیں یا نہیں۔ اگر کوئی پڑھ لے تو اس کی نماز ہوجاتی ہے یا نہیں۔ حرمین شریفین کے عالی قدر اماموں کی پاکستان میں آمد اور عوام کی طرف سے ان کی بے پناہ پذیراوی سے بوکھلا کر ہمارے کرم فرماؤں نے یہ بحث شروع کررکھی ہے اور فتویٰ بازی کا بازار گرم ہے۔
  • جنوری
1977
محمد سلیمان اظہر
(مضمون نگار پروفیسر موصوف باذوق اہل علم، محقق، تاریخ اور سیر رجال پر عالمانہ نظر رکھنے والے ایک فاضل نوجوان ہیں، انہوں نے اپنے مضمون "انیسویں صدی کی واحد سیاسی جماعت" کی نشاندہی کرتے ہوئے جو نکات پیش کیے ہیں، قابلِ داد اور نہایت محققانہ ہیں، اس میں بعض پہلو ایسے بھی ابھر آئے ہیں جن سے غیر جانبدار مؤرخ سے زیادہ ایک مخصوص زاویہ نگاہ کا رنگ جھلکتا ہے، تو یہ دراصل ایک نوجوان قلم کی قدرتی جنبش کا نتیجہ ہے)
  • اگست
  • ستمبر
1978
محمد سلیمان اظہر
ہمارے عزیز دوست اور فاضل نوجوان جناب پروفیسر محمد سلیمان اظہر معروف اہل قلم او راہل علم نوجوان ہیں، انہوں نےاس موضوع پر قلم اٹھاکر کس طرح اس کا حق ادا کیا، قارئین خود پڑھ کر اندازہ فرمالیں گے۔ ہم اس کے لیےموصوف کے حددرجہ شکرگزار ہیں۔

تورات: متجددین کا خیال ہے کہ تورات حضرت موسیٰ علیہ السلام کی کتاب کا نام نہیں ہے
  • جولائی
1985
محمد سلیمان اظہر
مرزا غلام احمد نے بیان کیا ہے کہ:
"کسی شخص کو حضور ر سالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم  کی بارگاہ میں بحالت خواب حاضری کی سعادت نصیب ہوئی۔اس نے دیکھا کہ علماء ہند بھی حاضر دربار ہیں۔پھر مجھے(مرزا صاحب کو) بھی حاضر کیاگیا۔علماء نے میرے بارے میں بتایا کہ یہ شخص خود کومسیح کہتاہے۔حضرت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری تکفیر پرعلماء کو مبارک باد دی اور مجھے جوتے لگوائے۔"
اس خواب کاتذکرہ کرنے کے  بعد مرزا صاحب نے اس کا  مضحکہ اڑایا ہے۔اور حاضرین مجلس کا بانداز تحقیر یوں ذکر کیا ہے:
" مولوی محمد حسین کی کرسی کے قریب ایک اور کرسی تھی جس پر ایک بڈھا نودسالہ بیٹھا ہوا تھا۔جسے لوگ نزیرحسین کہتے  تھے۔۔۔اور  سب سے پیچھے ایک نابینا وزیرآبادی تھا۔جس کو  عبدالمنان کہتے تھے۔اور اس کی کرسی سے"انا المکفر"کی زور  سے آواز آرہی تھی۔"[1]
  • ستمبر
1976
محمد سلیمان اظہر
صاحبزادیوں میں سب سے بڑی صاحبزادی ہونے کا شرف کس کو حاصل ہے او ران میں سے سب سے کم سن کون ہیں؟ اس میں سخت اختلاف ہے۔چنانچہ علامہ جلی نے چند قول نقل کیے ہیں جو ترتیب وار درج ذیل ہیں:

1۔ زینب، رقیہ، فاطمہ، اُم کلثوم
  • مئی
1978
محمد سلیمان اظہر
فلسطین جسے قدیم زمانے میں ماٹو پھر سرگون اعظم کے زمانہ میں ارض ایمورائٹ۔ یونانیوں کی تاریخ میں سیریا، رومیوں نے فلسطائنا، فونیقیوں کی مناسبت سےفونیشیا۔ بابلی نوشتوں میں کنعان، بمعنی نشیبی زمین۔ عربوں نےشام بمعنی بایاں۔ ترکوں نے سنجاک آف یروشلم یا ولایت بیروت۔ یہود نے ارض اسرائیل اور عیسائیوں نے ارض مقدس کہا ہے۔ آج سیاسی لحاظ سے دنیا کا اہم ترین قطعہ ارض بنا ہواہے۔
  • جولائی
1976
محمد سلیمان اظہر
مدرسہ رحیمیہ دھلی برصغیر کے ان مدارس میں شامل ہے جو اگرچہ کسی حکومت کی سرپرستی کے بغیر قائم ہوا لیکن علوم قرآن و سنت کی ترویج میں دنیا بھر کے ممتاز مدارس میں شمار ہوا۔ آج دنیائے اسلام کا شاید ہی کوئی عالم ایسا ہو جو کسی نہ کسی واسطے سے اس مدرسہ کاخوشہ چین نہ ہو۔ حضرت شاہ عبدالرحیم ، حضرت شاہ ولی اللہ ، حضر ت شاہ عبدالعزیز، حضرت شاہ رفیع الدین، حضرت شاہ عبدالقادر، حضرت شاہ عبدالغنی، حضرت شاہ اسماعیل شہید، حضرت شاہ محمد اسحاق اور شیخ الکل سید محمد نذیر حسین محدث اس مدرسہ میں مسند درس و افتاء کی زینت بنے۔
  • جون
1978
محمد سلیمان اظہر
گزشتہ شمارے میں آپ کے سامنے تاریخ فلسطین کے مختصر جائزے کے ذریعے واضح کیا جا چکا ہے کہ یہاں کس کس دور میں کون کون اقوام آباد رہی ہیں اور آج کون کون سی اقوام اس کی دعوے دار ہیں۔ یہ بڑی اہمیت کی بات ہے کہ اس وقت دنیا میں تین ہی الہامی مذاہب ہیں اور تینوں کے ماننے والے فلسطین کے دعوے دار ہیں۔ سب سے پہلے مدعی یہود ہیں آئیے۔ ہم دیکھیں کہ ان کا دعویٰ کیا ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے۔