• جنوری
1999
نصیراحمد اختر
اجتماعی ملکیت
اجتماعی ملکیت سے مراد یہ ہے کہ "مملوکہ سے حق انتفاع صرف ایک فرد کو نہیں بلکہ تمام افراد اُمت کے لئے یہ حق انتفاع موجود ہے جس میں کوئی بھی ترجیح کا حق دار نہ ہے۔
جب کسی چیز سے امت کے اجتماعی مفادات وابستہ ہوں تو اسے کسی ایک فرد کی ملکیت میں نہیں دیا جا سکتا کہ بڑی بڑی نہریں، دریا، سڑکیں، پل اور آبادی کے اردگرد چراگاہیں اور بڑے بڑے پارک، فوجی ٹریننگ سنٹر وغیرہ ۔۔ امام ابو یوسف رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
" الفرات ودجلة لجميع المسلمين فهم فيهما شركاء" (1)
"فرات اور دجلہ تمام مسلمانوں کے لیے ہیں اور سب ان میں برابر کے حصہ دار ہیں"
ہاں اگر اجتماعی مفاد ختم ہو جائے تو حاکم وقت اُمت کے مفاد میں جو مناسب ہو، تصرف کر سکتا ہے مثلا ایک شارعِ عام تھی پھر دوسری شارعِ عام کے وجود سے اس کا مفاد ختم ہو گیا اور اب لوگ اسے استعمال نہیں کر رہے تو حاکم وقت اسے نیلام کر سکتا ہے اور وہ اس طرح انفرادی ملکیت کی طرف بھی منتقل ہو سکتی ہے۔
  • اپریل
1999
نصیراحمد اختر
نظامِ اسلامی کی آفاقیت و وسعت کو دیکھا جائے تو جہاں وہ مسلم افراد کے لیے وسائل انتاج (پیداواری وسائل) کی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے، وہاں پر اپنے زیر سایہ بسنے والے غیر مسلم افراد کے لیے بھی وسائل انتاج کی انفرادی ملکیت کو تسلیم کرتا ہے بلکہ اہل الذمہ کے مذہب و ملت کی آزادی کو اس حد تک تسلیم کرتا ہے کہ ایک مسلمان تو اسلام کی حرام کردہ اشیاء کا مالک ہی نہیں بن سکتا لیکن اگر اسلام کی حرام کردہ کوئی شے غیر مسلم کے ہاں قابل انتفاع اور جائز ہے تو اسلام اپنے زیر سایہ بسنے والے غیر مسلموں کو ان اشیاء کی ملکیت کی اجازت بھی دیتا ہے۔ جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک حکم صادر فرمایا کہ "جزیہ کی وصولی میں شراب و خنزیر وصول نہ کیا جائے بلکہ اہل الذمہ ان اشیاء کو فروخت کر کے اس کی رقم جزیہ میں ادا کریں۔"
  • جولائی
1998
نصیراحمد اختر
اسنان مدنیت طبع ہونے کےناطے دوسرے انسان کامحتاج ہےاسی طرح یہ بھی واضح ہےکہ کوئی اانسان خواہ کسی بھی حالت میں کیوں نہ ہوتنہا اپنی جملہ ضروریات پوری نہیں کرسکتا بلکہ دوسرےانسان کا محتاج ہے۔
ہرانسان اپنی صلاحیت کےمطابق انسانی ضروریات کےلیے پیداواری یونٹ ہےاورہر یونٹ کی پیداوار دوسرے کی ضرورت ہے۔لہذا ہریونٹ اپنی پیداوار کازائد حصہ دوسرے کو دیکر اپنی بقیہ ضروریات کوحاصل کرتاہےاوریہی معاملات کی اصل اساس ہے۔ یوں ہریونٹ اپنی پیداوار کامالک بن جاتاہے ۔لہذا زیر نظر مضمون میں ان عوامل کی نشان دہی کی جاتی ہےجن کواختیار کرنے سےانسان قطعئہ ارضی کامالک بن جاتاہےاسی طرح اسلام میں ملکیت کی تعریف اورایک انسان کا اپنی مملوکہ زمین میں تصرف کااختیار پہچاننا از حد ضروری ہے۔
  • فروری
1999
نصیراحمد اختر
اسلام کے ابتدائی زمانہ میں زراعت کو بہت اہمیت حاصل تھی بلکہ زراعت معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی تھی۔اس دور میں نہ  تو صنعت وحرفت اور تجارتی مراکز کاوہ عالم تھا جو آج ہے۔اور حکومتی بجٹ عشر وخراج ،فئی،غنیمت اور معدودے چند تجارتی محاصل سے مکمل کیاجاتا تھا۔عمومی معیشت کادارومدار زراعت پرتھا۔بعض فقہاء نے تو زراعت کو فرض کفایہ قرار دیا ہے۔(1)
اور خود رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم  کا ارشاد بھی ہے۔
" اطْلُبُوا الرِّزْقَ فِي خَبَايَا الأَرْضِ "(2)
"زمین کی تہہ میں رزق تلاش کرو"
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  نے زراعت کو نفع بخش عظیم مال قرار دیا۔ایک دفعہ  آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم  سے سوال ہوا:
" أي المال أفضل ؟
"زیادہ بہتر کونسا مال ہے؟تو ارشاد فرمایا:
"زرع زرعه صاحبه وأصلحه وأدّى حقّه يوم حصاده"(3)
"وہ زمین جس سے غلہ حاصل ہو،اس کامالک اسے قابل کاشت رکھے اور غلہ کے حصول پر اس کا فریضہ ادا کرے"