• جولائی
2000
عبدالمالک سلفی
(دنیامیں سب سے قیمتی اثاثہ انسان کی عمر ہے۔اگر انسان نے اس کو آخرت کی بھلائی کےلیے استعمال کیا ،تویہ تجارت اس کے لیے نہایت ہی مفید ہے۔اور اگر اسے فسق وفجور میں ضائع کردیا اور اسی حال میں دنیا سے چلا گیا تو یہ بہت بڑا نقصان ہے وہ شخص دانش مند ہے جو اللہ تعالیٰ کے  حساب لینے سے پہلے پہلے اپنے آپ کا محاسبہ کرلے اور اپنے گناہوں سے ڈر جائے قبل اس کہ کے وہ گناہ ہی اسے ہلاک اور  تباہ وبرباد کردیں۔
زیر نظر مضمون میں بڑے خاتمہ کے اسباب کاتذکرہ  پیش خدمت ہے۔یہ موضوع مسلمانوں کے لیے نہایت اہم ہے کیونکہ اعمال کادارومدارخاتمہ پر ہے اور انسان جس حالت میں زندگی بسر کرتا ہے اسی حالت میں اس کی موت واقع ہوتی ہے۔ اور جس حالت میں انسان کی موت واقع ہوگی اسی حالت میں وہ قیامت کے دن قبر سے اٹھایا جائے گا۔حضرت  رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم   نے فرمایا:
"مَنْ مَاتَ عَلَى شَيْءٍ بَعَثَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ" (رواہ الحاکم)
  • دسمبر
2001
شیخ علی طنطاوی
میں نے آج سے ۳۱ سال پہلے ریڈیو دمشق سے اس موضوع پر گفتگو کی تھی اور خیال یہ تھاکہ مدت بیت گئی،عصری تقاضوں سے اس کی مناسبت ختم ہوگئی اور یہ موضوع ایک قصہ پارینہ بن گیا ہے۔ ایک دن اپنے لکھے گئے کالموں کی ورق گردانی میں میرا یہ پرانا کالم میرے ہاتھ لگا۔جب میں نے اس کامطالعہ کیا تو مجھے یوں محسوس ہوا کہ یہ موضوع پرانا نہیں بلکہ نیا اور تازہ ہے۔
  • جنوری
2002
شیخ علی طنطاوی
اسلامی ممالک کی صورت حال عام طور پر یہ ہے کہ مغرب کی تقلید میں انہوں نے بھی تعلیم کے لیے مخلوط کالج اور یونیورسٹیاں اور تعلیمی ادارے بنا لیے جن میں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے پڑھتے اور رہتے سہتے ہیں- پارکوں میں وہ جس طرح ایک دوسرے کے ساتھ بیہودہ اور فحش حرکات کرتے ہیں، وہ یقیناً ایک مسلم معاشرے کے لیے باعث شرم اور نہایت قابل مذمت ہے۔