• جنوری
1982
عبدالحمید بن عبدالرحمن
چند دن قبل مولانا عبدالمجید صاحب بھٹی (ضلع گوجرانوالہ) کی طرف سے ادارہ کو ایک لفافہ موصول ہوا، جس میں ایک استفتاء اور اس کے دو مختلف جوابات تھے، ساتھ ہی مولانا کا ایک وضاحتی خط بھی تھا، جس میں انہوں نے لکھا تھا:
"میں نے یہ استفتاء مفتی عبدالواحد صاحب خطیب جامع مسجد گوجرانوالہ کو بھیجا تھا، جس کا جواب انہوں نے لکھ کر بھیج دیا لیکن راقمکی ان جوابات سے تشفی نہیں ہوئی چنانچہ یہی استفتاء میں نے جامعہ محمدیہ جی ٹی روڈ گوجرانوالہ کے صدر مدرس مولانا عبدالحمید صاحب کو ارسال کیا اور انہوں نے جو جوابات لکھ کر بھیجے، گو میں ان سے مطمئن تھا لیکن چونکہ دونوں جوابات ایک دوسرے سے بہت کچھ مختلف تھے اس لیے اس الجھن میں پڑ گیا کہ ان دونوں میں سے کون سا جواب صحیح ہے اور کون سا غلط ۔۔۔ جو صحیح ہے، اس کی صحت کی دلیل کیا ہے اور غلط کس بناء پر غلط ہے؟ ۔۔۔ ناچار یہ استفتاء مع ہر دو جواب کے آپ کی خدمت میں روانہ کر رہا ہوں، آپ براہِ کرام کتاب و سنت کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں، تاکہ میں نہ صرف صحیح نتیجے پر پہنچ سکوں بلکہ مجھے اطمینانِ قلب بھی حاصل ہو، جو ظاہر ہے کتاب و سنت ہی کی بناء پر ممکن ہے، فرمایا اللہ تعالیٰ نے:
﴿فَإِن تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّـهِ وَالرَّسُولِ... ٥٩﴾...النساء
والسلام