• اکتوبر
1992
عبدالرحمن عاجز
نور قلب وجگر بھی ہوتی ہے
اور نظر فتنہ گر بھی ہوتی ہے۔
بات کو صرف رائیگاں نہ سمجھ
  • اگست
  • ستمبر
1978
عبدالرحمن عاجز
دو روز گلستان دہرمیں گزار کے   ہم جارہے ہیں بازئ اعمال ہار کے
ارض و سماء دشت و گلستان مہر و ماہ آثار ہیں یہ قدرت پروردگار کے
گُل مسکرا رہے ہیں عنادل ہیں نغمہ سنج پیچھےلگی ہوئی ہے خزاں بھی بہار کے
  • اپریل
1992
عبدالرحمن عاجز
اگر صبر وقناعت ہے                                                     توراحت ہی راحت ہے

تکبر کا مال اکثر                                                             لڑائی ہے عداوت ہے

ہزاروں رنج جلوت کا                                                مداوا کنج خلوت ہے
  • مئی
1973
عبدالرحمن عاجز
دلِ حزیں پہ گزرتی ہے کیا یہ بات نہ پوچھ        تو حالِ زار مرا دیکھ، واقعات نہ پوچھ
نگاہِ غور سے اس حشرِ کائنات کو دیکھ         وجودِ باری پہ آیات بیّنات نہ پوچھ
بس ایک جلوے سے بیہوش ہو گئے موسیٰ        خدا کے نورِ مبیں کی تجلّیات نہ پوچھ
  • اگست
  • ستمبر
1978
عبدالرحمن عاجز
موت کبھی بستر علالت پر او رکبھی اچانک اس طرح آجاتی ہے کہ توبہ کی بھی مہلت نہیں ملتی۔
عاجز کہیں آجائے نہ وہ وقت اچانک
جس وقت کہ توبہ کی بھی مہلت نہیں رہتی
  • اپریل
1973
عبدالرحمن عاجز
سردارِ دو عالم ﷺ کی تقاریر۔ احادیث       افعالِ پیمبر ﷺ کی تصاویر۔ احادیث
یہ رنگِ تقدس ہے نہ یہ بوئے طہارت          ہیں غیرتِ صد وادیٔ کشمیر ۔ احادیث
ہیں کانِ نبی کے در شہوارِ معانی!              کس طرح نہ ہوں معدنِ توقیر۔ احادیث
  • اگست
1972
عبدالرحمن عاجز
پہلو میں درد قلب میں ہے اختلاج آج        کرنا ہے اے نگاہِ کرم کر علاج آج
شاید نہ اس کے بعد کوئی ہاتھ اُٹھ سکے            رکھ لے کسی کے دستِ دعا کی تو لاج آج
اک حسن منتظر ہے کہ کل کل پہ ہے بضد        اک عشق منتظر ہے کہ کہتا ہے آج آج
  • اکتوبر
1990
عبدالرحمن عاجز
سینے میں اگر دل ترا تاریک نہیں ہے      پھر نکتہ کوئی نکتہ باریک نہیں ہے
گر مشورہ لینا ہے تو لے ٹھیک کسی سے        ہاں مشوہ بد پر عمل ٹھیک نہیں ہے
گرعزم ہے پختہ تو پہنچ جائے گا آخر   یہ مانا       کہ منزل تیری نزدیک نہیں ہے
  • اکتوبر
  • نومبر
1973
عبدالرحمن عاجز
جس قوم میں اللہ کی طاعت نہیں رہتی           اللہ کو اس قوم کی چاہت نہیں رہتی
جس قوم میں تنظیمِ جماعت نہیں رہتی             اس قوم کو پھر ہیبت و دہشت نہیں رہتی
جس قوم کے افکار میں وحدت نہیں رہتی            اس قوم کی پھر عزت و عظمت نہیں رہتی
  • مئی
1986
عبدالرحمن عاجز
دل مومن پرستار صنم خانہ نہیں ہوتا
حرم کا پاسباں کعبے سے بے گانہ نہیں ہوتا

مئے توحید جس کے ساغر دل سے چھلکتی ہو
کوئی بھی فعل اس انساں کا رندانہ نہیں ہوتا
  • مارچ
1972
عبدالرحمن عاجز
اے خدا بخش دے ہم گنہگار ہیں
تیری رحمت کے ہر دم طلب گار ہیں
اے خدا بخش دے ہم گنہگار ہیں!
  • مارچ
  • اپریل
1978
عبدالرحمن عاجز
بنائے دشمنی دنیا میں انداز تحلم ہے                ہر اک جھگڑے کا حل اے دوست تفہیم و تفہم ہے
اجل آتے ہی کیا تجھ کو ہوا اےرُستم دنیا          بدن بے حس،نظر معدوم،محروم تکلم ہے
ترے حُسن توجہ سے یہ صحن گلشن عالم             ترنم ہی ترنم ہے تبسم ہی تبسم ہے
  • اگست
1986
عبدالرحمن عاجز
مثال مردہ پہلو میں پڑا ہے ایک مدت سے
دل خوابیدہ، اٹھ بیدار ہوجا خواب غفلت سے

مال زندگی دیکھا ہے جس کی چشم عبرت نے
وہ کب مانوس ہوتاہے جہاں کے عیش و عشرت سے
  • جولائی
1972
عبدالرحمن عاجز
ایمان کی جب دل میں حرارت نہیں رہتی       حق بات کے اظہار کی جرأت نہیں رہتی
جب پاس کسی کے بھی یہ دولت نہیں رہتی     پھر حال پہ کیوں اپنے قناعت نہیں رہتی
جب اپنی خطاؤں پہ ندامت نہیں رہتی       پھر کوئی بھی اصلاح کی صورت نہیں رہتی
  • ستمبر
1985
عبدالرحمن عاجز
بنت ملت کو نہ بے پردہ پھرائے کوئی                       دین اسلام پرچرکا نہ لگائے کوئی
خود جو پھرتی ہو نقاب اپنا اٹھائے کوئی             اس کوفتنوں سے بھلا کیسے بچائے کوئی
لاتبرجن سے واضح ہے مقام پردہ                   رسم فرسودہ نہ پروے کو بتائے کوئی
  • مئی
  • جون
1975
عبدالرحمن عاجز
جگر شق، زرد چہرہ، چاک داماں کون د یکھے گا            پریشاں ہوں مرا حالِ پریشاں کون دیکھے گا
جہاں پڑتی نہیں نظریں کسی کی آتشِ گُل پر             وہاں اے دل ترا یہ سوز پنہاں کون دیکھے گا
اگر وہ نور برساتے ہوئے محفل میں آجائیں               تری صورت پھر اے شمعِ فروزاں کون دیکھے گا
  • ستمبر
  • اکتوبر
1975
عبدالرحمن عاجز
فضا دلکش ہے کیف آور سماں ہے          جبیں میری ہے تیرا آستاں ہے
زمیں کے ذرے گردوں کے ستارے             ہر اک شے سے تری قدرت عیاں ہے
نہیں موقوف نجم و مہر و ماہ پر           ترے قبضے میں نظم دو جہاں ہے
  • مئی
  • جون
1979
عبدالرحمن عاجز
بایں پردہ داری چھپا بھی نہیں مگر وہ دکھائی دیا بھی نہیں
یہ اعجاز ہے میرے محبوب کا جدا بھی ہے او روہ جدا بھی نہیں
اگر تم نہیں دردِ دل آشنا تو پھر دردِ دل کی دوا بھی نہیں
  • مارچ
  • اپریل
1988
عبدالرحمن عاجز
الفت کا پھل طاعت ہے اور طاعت پھل خلدِ بریں
طاعت کی زینت ہے تقویٰ، تقویٰ حسنِ علم و یقیں
خوابِ گراں سے جاگ، مسافر سونا اتنا ٹھیک نہیں
  • فروری
1987
عبدالرحمن عاجز
جاں ہے کہ بنی جاتی ہے عنوان محدث
دل ہے کہ ہوا جاتا ہے قربان محدث

ابھرا افق علم سے اک اور مجلّہ
دامن میں لیے سرو چراغاں محدث
  • اپریل
1983
عبدالرحمن عاجز
سامنے جب تک نظر کے تیرا کا شانہ رہا
آنکھ مصروف نظارہ، قلب مستانہ رہا

بے قراری میں قرار آیا سرِ راہ وفا
مرحلہ ہر ایک وجہ قرب جانا نہ رہا
  • مارچ
  • اپریل
1975
عبدالرحمن عاجز
حضرت شاہ فیصل رحمۃ اللہ علیہ شہید ہو گئے

...........اِنَّا لِلہِ وَاِنَّا اِلَیْهِ رَاجِعُوْنَ

۲۵؍ مارچ پاسبانِ حرم اور سعودی عرب کے فرمانروا شاہ فیصل بن عبد العزیز ایک قاتلانہ حملہ میں شہید ہو گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون!
  • مئی
1971
عبدالرحمن عاجز
رنگِ گل، رنگِ چمن، رنگ بہاراں دیکھا      ذرہ ذرہ سے ترا حسن نمایاں دیکھا
دیدۂ کوہ سے بہتے ہوئے چشمے دیکھے          سینۂ بحر سے اُٹھتا ہوا دھواں دیکھا
پتے پتے کی زباں سے تری رُوداد سنی        غنچے غنچے کے جگر کو ترا خواہاں دیکھا
  • اگست
1993
عبدالرحمن عاجز
چراغ اشک جلائے جو شب کے ظلمت میں۔الٰہی اس سے اجالا ہواس کی تربت میں
سکون قلب کہاں مال وزر کی کثرت میں۔سکون قلب ہے اللہ کی عبادت میں
یہ رات دن،یہ مہ ومہر،یہ طلوع وغروب۔کبھی بھی فرق نہ آیا نظام قدرت میں
  • ستمبر
1976
عبدالرحمن عاجز
تجھ سا کریم و مہربان کوئی نہیں نگاہ میں لایا مجھے کشاں کشاں دل تیری بارگاہ میں
لطف ِگناہ قلیل تر رنج گناہ طویل تر ایک گناہگار نے پایا یہی گناہ میں
دین بہت ہے قیمتی جاہ و جلال دہر سے دین نہ دے تو ہاتھ سے شوق جلال و جاہ میں
  • جنوری
  • فروری
1976
عبدالرحمن عاجز
دھڑکتے دل لزرتے پاؤں سے اوردیدہ ترسے
مرے آقا ہوئے ہم اس طرح رخصت تر ے گھر سے
کھلے گا اب نیا اک باب پھر راہ شہادت کا
  • نومبر
1981
عبدالرحمن عاجز
چل پڑا جو راہِ حق میں باندھ کر سر پر کفن                                 خطرۂ دشمن نہ اُس کو خدشۂ دار و رسن
گر رہی ہیں باغِ دیں پر بجلیاں ہی بجلیاں                                   اور اِک ہم ہیں کہ دل میں غم، نہ ماتھے پر شکن
  • مارچ
1986
عبدالرحمن عاجز
سب اہل حشر انہیں اشکبار دیکھیں گے
سروں پر جن کے گناہوں کے بار دیکھیں گے

نہ جانے حال دل بے قرار کیا ہوگا
نظر کے سامنے جب کوئے یار دیکھیں گے
  • جنوری
1989
عبدالرحمن عاجز
خوش بخت نہیں کوئی مسلماں سے زیادہ
میں روؤں نہ کس طرح ہر انساں سے زیادہ
ہیں کس کی خطائیں میرے عصیاں سے زیادہ
تو کون و بیاباں میں جسے ڈھونڈ رہا ہے
نزدیک ہے وہ تیری رگِ جاں سے زیادہ
ہیں سیدِ کونین بھی انسان ہی لیکن
اشرف ہیں معزز ہیں ہر انساں سے زیادہ
سیرت میں تھے ممتاز ہر اک سے میرے آقا
صورت میں حسیں ماہِ درخشاں سے زیادہ
  • مارچ
1980
عبدالرحمن عاجز
معدن حسن ہے سر چشمہ ہے رعنائی کا 
ہر دل مردہ کو جینے کا سلیقہ آیا ،
ڈرے ذرے کی جبیں سے مہ و انجم ٹوٹے 
جس کی رنگت کو قیام اور نہ خوشبو کو دوام 
رات دن پر دہ ٔ سمیں پہ ستارے دیکھوں 
دور حاضر میں اسے کہتی ہے دنیا فن کار 
اک مسلمان مسلمان ہی سے خائف ہو 
اہل بینش بھی ہر اک اندھے کو بینا سمجھے
  • ستمبر
  • اکتوبر
1972
عبدالرحمن عاجز
کمال فکر و دانش ہے زوالِ رغبتِ دنیا!      زوالِ فکر و دانش ہے کمالِ قربتِ دنیا
یہ دنیا ہے، نہ کر اس میں ملالِ کلفتِ دنیا       غلط ہے راہِ دنیا میں خیالِ راحتِ دنیا
نہ لا لب پر کبھی اے دل! سوالِ ثروتِ دیا        کہ ثروت ساتھ لاتی ہے خیالِ عشرت دنیا
  • جنوری
  • فروری
1980
عبدالرحمن عاجز
اس چیز کی خواہش جو مقدر میں نہیں ہے 
جب کتبہ تقدیر پہ ایماں ہے یقیں ہے 
ہر شے میں جھلکتا ہے ترا چہرہ ٔ روشن 
ہر غنچہ رنگیں ہے ترے حسن کا مظہر 
ملتی ہے یہیں سے مہ داختر کو بلندی 
ہے جس پہ عمل راحت و عظمت کی ضمانت 
چلتا تھا زمیں  پر جو کبھی ناز دادا سے !
اس عمر کے دو ساتھی ہیں راحت بھی الم بھی 
ہشیار و خبر دار سنھبل  کر اسے چھونا !
  • جولائی
1983
عبدالرحمن عاجز
آنکھوں سے مسلماں کی یارب پھر پردہ غفلت سرکا دے
بھٹکے ہوئے اپنے بندون کو پھر راہ ہدایت دکھلا دے

ایمان کی حرارت سے یارب پھر قلب مسلماں گرما دے
پھر مشعل ایماں روشن ہو پھر شعلہ ایماں بھڑکا دے
  • جون
1978
عبدالرحمن عاجز
ضبط کی تاب نہ یارا ہے شکیبائی کا   اب خدا حافظ و ناصر دِل سودائی کا
مجھ سے حق چھین لیا ہے مری گویائی کا یہ صلہ مجھ کو ملا ہے مری سچائی کا
شرفِ سنگِ درِ یار جو بخشا مجھ کو کر سلیقہ بھی عطا ناصیہ فرسائی کا
  • جنوری
  • فروری
1975
عبدالرحمن عاجز
اسلام اپنے اندر جان آفرین قوت رکھتا ہے، یہ اس کا فطری خاصہ اور بنیادی جوہر ہے، لیکن کاغذ کے پرزوں میں پڑے پڑے نہیں، کیونکہ یہ کوئی تعویذ نہیں ہے، بلکہ جب اسے 'برپا' کیا جائے تو پھر ہی یہ ہر آن ایک نئی دنیا عطا کرتا ہے۔
کوئی قابل ہو تو ہم شانِ کئی دیتے ہیں
  • مئی
1990
عبدالرحمن عاجز
لحظہ لحظہ راحت جاں ہو لا الٰہ الا اللہ
قلب کے ہر گوشے میں نہاں ہو لا الٰہ الا اللہ
جسم کے ٹکڑے سے عیاں ہو لا الٰہ الا اللہ
اے میرے آقا میں جسدم جام شہادت پی جاؤں
خون کے ہر قطے کی زبان ہو لا الٰہ الا اللہ
لا الٰہ الا اللہ پر  روح وبدنی تک مٹ جائیں
  • اگست
1976
عبدالرحمن عاجز
صفات ِ محمدؐ ثنائے محمدؐ         ہے شرح کلام خدائے محمدؐ
خدا خود سلام آپؐ پر بھیجتا ہے        خدا خود ہے مدحت سرائے محمدؐ
مُحبِ محمدؐ حبیب ِخدا ہے          رضائے خدا ہے رضائے محمدؐ
  • اکتوبر
1984
عبدالرحمن عاجز
فضا دلکش ہے کیف آور سماں ہے
جبیں میری ہے، تیرا آستاں ہے
زمیں کے ذرے گردُوں کے ستارے
  • جولائی
  • اگست
1975
عبدالرحمن عاجز
اخلاق کے ایوان کی تعمیر ہے روزہ              اور قصرِخرافات کی تدمیر ہے روزہ
جس میں یہ ریا ہے ، نہ کو ئی مکر، نہ دھوکہ            اس حسنِ عبادت کی یہ تصویرہے روزہ
شیطان تو انسان کا دشمن ہے پرانا                  شیطان کے لیے قید ہے زنجیر ہے روزہ
  • مارچ
  • اپریل
1974
عبدالرحمن عاجز
ہر اک لب پہ ہے گفتگوئے محمد ﷺ      ہر اک دل میں ہے آرزوئے محمد ﷺ
فرشتوں میں پائی نہ انساں میں دیکھی     جہاں سے نرالی ہے خوئے محمد ﷺ
گرفتار جن کی ہے جانِ دو عالم      وہ ہیں گیسوئے مشکبوئے محمد ﷺ
  • مئی
  • جون
1973
عبدالرحمن عاجز
ہر اک لب پہ ہے گفتگوئے محمد ﷺ          ہر اک دل میں ہے آرزوئے محمد ﷺ
فرشتوں میں پائی نہ انساں میں دیکھی                 جہاں سے نرالی ہے خوئے محمد ﷺ
گرفتار جن کی ہے جانِ دو عالم               وہ ہیں گیسوئے مشکبوئے محمد ﷺ
  • جنوری
1992
عبدالرحمن عاجز
ریا کاری نہیں دل میں تو پھر ہر طرح جائز ہے
تو صدقہ فی سبیل اللہ چھپا کر دے دکھا کردے
بھلائی کا تقاضا تو یہی ہے اے بھلے مانس
  • مارچ
1990
عبدالرحمن عاجز
پہ ایک دن موت کا جھپٹے گا باز
تو نے مجھ کو دولت دل سے کیا ہے سرفراز
مانگتا ہوں تجھ سےمیں اب دولت سوزوگداز
  • اپریل
1992
عبدالرحمن عاجز
عبادت اک تجارت ہے                                 منافع جس کا جنت ہے
جنون خدمت انسان                                 شعورآدمیت ہے
بدی خوش رنگ ہے بے حد                           مگر اس میں ہلاکت ہے
  • جنوری
1986
عبدالرحمن عاجز
اس چیز کی خواہش جومقّدر میں نہیں ہے
دراصل یہ تعذیب ہے جو سخت ترین ہے

تقدیر کے لکھے پر جوایماں ہے یقیں ہے
پھر کس لیے آلام و مصائب پر حزیں ہے
  • اکتوبر
1992
عبدالرحمن عاجز
اے کریم میرے جرم آشکار نہ کر
گناہگار کو محشر میں شرمسار نہ کر
جو راہ راہِ نبی ؐ سے ہے مختلف اے د وست
  • اگست
1982
عبدالرحمن عاجز
احباب واقرباء ہیں تر زندگی کےساتھ
اترا نہیں ہے قبر میں کوئی کسی کےساتھ
ہوتی نہیں خوشی کی کبھی قدرت ومنزلت
  • فروری
1973
عبدالرحمن عاجز
دلکش تھی دلنواز تھی صورت حسینؓ کی      شمعِ رہِ خلوص تھی سیرت حسینؓ کی
وجد آفریں تھے آپ کے اقوالِ پُرجلال     صد رشک آفریں تھی عبادت حسینؓ کی
سبطِ رسول ﷺ مظہرِ خُلقِ رسول ﷺ تھے      روشن تھی جس سے جلوت و لوت حسینؓ کی
  • ستمبر
1982
عبدالرحمن عاجز
مرقد پہ اُن کےآج کوئی نوحہ خواں نہیں !
اے صانع ِ ازل تری صنعت کہاں نہیں !       ہےکونسا جہاں تراجلوہ جہاں نہیں
یہ اضطرابِ شوق یہ رعب جمال دوست            میری زباں بھی آج مری ترجمان نہیں
سوز ِ غم فراقِ مسلسل کےباوجود                                                                                                                                                                           آنگھوں میں کوئی اشک ،زباں پرنغاں نہیں
  • فروری
1990
عبدالرحمن عاجز
الٰہی وہ بصیرت ویدہ دل کو عطا کردے
جو شب کو روز روشن آگہی کو رہنما کردے
مجھےکچھ اسطرح ساغر کشی صبر ورضا کردے
  • مارچ
  • اپریل
1976
عبدالرحمن عاجز
نہیں جس کے دل میں ولائے محمدؐ ہے محرومِ ظِلِّ لوائے محمدؐ
دو عالم میں کوئی نہیں ہے معظّم ورائے محمدؐ سوائے محمدؐ
محمدؐ کا فرمان، فرمانِ حق ہے یہ فرما رہا ہے خدائے محمدؐ
  • اپریل
1971
عبدالرحمن عاجز
نقش ہو دل پر نقشۂ احمﷺ
لب پہ ہو جاری نغمۂ احمدﷺ
کب سے ہے پنہاں، دل میں یہ ارماں، رحمتِ یزداں سے ہو نمایاں
  • مارچ
1972
عبدالرحمن عاجز
اس نظم میں یہ التزام کیا گیا ہے کہ ہر شعر میں لفظ ''غم'' ضرور آئے۔
آنکھ پُر نم ہے غمِ فرقت سے دل رنجور ہے       داستانِ غم سنا نے پر زباں مجبور ہے
جب کوئی ساتھی نہیں ہوتا تو غم دیتا ہے ساتھ      غم حقیقت میں رفیقِ ہر دلِ مہجور ہے
  • اپریل
1982
عبدالرحمن عاجز
آنکھ کے سامنے ہر سمت ہے قدرت تیری
دل میں عظمت ہے، تری آنکھ میں حسرت تیری
بحر و بر، برگ و سجر، کوہ و حجر، دشت و چمن
  • جولائی
1978
عبدالرحمن عاجز
میرے آقا ہے یہ حال آپ کے شیدائی کا مل گیا اس کو لقب دہر میں سودائی کا
تیری قدرت کے کمالات کا دیتا ہے پتہ رنگ یہ، حسن یہ ہر لالہ صحرائی کا
زخمِ الفت ہی میں بیمار کو حاصل ہے سکوں معجزہ ہے یہ فقط ان کی مسیحائی کا
  • اکتوبر
  • نومبر
1977
عبدالرحمن عاجز
برے انسان کی ہر ایک جا تحقیر ہوتی ہے
تو نیکی کوکہ نیکور کار کی توقیر ہوتی ہے
یقین تقدیر پر رکھتا ہوں اورتدبیر کرتا ہوں
  • نومبر
1984
عبدالرحمن عاجز
ہونٹوں پہ مِرے ذکر ترا صبح و مسا ہے
اک یاد تری میرے ہر اک غم کی دوا ہے
جس میں تری الفت ہے، وہ دل مجھ کو دیا ہے
  • دسمبر
  • جنوری
1972
عبدالرحمن عاجز
ذکر تیرا مری تسکیں کا ساماں ہوتا       کاش یوں دردِ دلِ زار کا درماں ہوتا
میں کچھ اس طرح تری راہ میں قرباں ہوتا       جو مجھے دیکھتا انگشت بدنداں ہوتا
دیکھ کر شوقِ مدینہ میں تڑپتا میرا      کوئی خنداں، کوئی حیراں، کوئی گریاں ہوتا
  • جون
1976
عبدالرحمن عاجز
ہرایک ذکر سے ذکر خدا معظم ہے
ہرایک فکر سے فکر عدم مقدم ہے
تراہی ذکر ہے وجہ سکون قلب ونظر
  • جولائی
1971
عبدالرحمن عاجز
ہر ایک ذکر سے ذکرِ خدا معظم ہے           ہر ایک فکر سے فکرِ عدم مقدم ہے
ترے مریض کی یہ بے بضاعتی، توبہ                 نہ دل میں خون کا قطرہ، نہ آنکھ میں نم ہے
ترا ہی ذکر ہے وجہ سکون قلب و نظر            تری ہی یاد مرے زخم دل کا مرہم ہے
  • مارچ
1971
عبدالرحمن عاجز
دل ہے کہ ہوا جاتا ہے قربانِ محدث          دل ہے کہ ہوا جاتا ہے قربانِ محدث
اُبھرا افق علم سے اِک اور مجلہّ        دامن میں لیے سروِ چراغانِ محدث
تنویر ہی تنویر، تبسم ہی تبسم          یہ خلد بریں ہے کہ گلستانِ محدث
  • فروری
1978
عبدالرحمن عاجز
دکھا دے خواب میں یارب کبھی صورت محمدؐ کی ..... بہت مدت ہوئی سہتے ہوئے فرفت محمدؑ کی
کوئی انسان کیا جانے ہے کیا عظمت محمدؐ کی ..... محمدؐ کا خدا کرتا ہے خود مدحت محمدؐ کی
نہیں ثانی کوئی دونوں جہاں میں جس کی رفعت کا ..... خدا کے بعد وہ ہستی ہےبس حضرت محمدؐ کی
  • اگست
1986
عبدالرحمن عاجز
نہ ساحل ہے نہ ساحل کا نشاں ہے
محبت ایک بحر بے کراں ہے

درخشاں جس سے تاریخ جہاں ہے
شہیدان وفا کی داستان ہے
  • دسمبر
1972
عبدالرحمن عاجز
ہر شے سے حسین صورتِ سردارِ مدینہ      قرآنِ مبین صورتِ سرکارِ مدینہ
فردوسِ زمیں خطۂ گلزارِ مدینہ       ہیں درجِ ثمیں کوچہ و بازارِ مدینہ
اللہ رے یہ حسن، یہ شان یہ سج دھج      گوہر ہیں کہ بام و درو دیوارِ مدینہ
  • مارچ
1973
عبدالرحمن عاجز
آنکھوں میں ہے پھر حسرتِ دیدار مدینہ         یاد آتا ہے پھر مسکن سردار مدینہ
گزراہوں میں تپتے ہوئے صحراؤں سے پیدل       آسان ہوئی یوں رہِ دشوارِ مدینہ
وہ شوق کا عالم تھا کہ تھا جوشِ عقیدت         پلکوں سے چنے میں نے خس و خارِ مدینہ
  • فروری
1972
عبدالرحمن عاجز
آنکھوں میں لیے حسرتِ دیدارِ مدینہ      مر جائے نہ یونہی کہیں بیمارِ مدینہ
نکلے گی یونہی حسرتِ دیدارِ مدینہ          آنکھیں ہوں مری روزنِ دیوارِ مدینہ
سرشار چلے جاتے ہیں سرشارِ مدینہ     آنکھوں میں لیے حسرتِ دیدارِ مدینہ
  • ستمبر
1983
عبدالرحمن عاجز
عمل بڑا ہو کہ چھوٹا جو بے ریا نہ ہوا
خدا کے ہاں وہ عمل قابل جزا نہ ہوا

وہ زندہ زندہ نہیں اس جہان فانی میں
جو اپنی زیست کے مقصد سے آشنا نہ ہوا
  • جنوری
1982
عبدالرحمن عاجز
مٹ گئے کتنے نشاں، یاد نہیں!
مولانا عبدالرحمن عاجز مالیر کوٹلوی
روح تھی سجدہ کناں یاد نہیں
کون تھا جلوہ فشاں یاد نہی
دل پرشوق و نگاہِ بے تاب
تو یہاں تھا کہ وہاں یاد نہیں
صبح دم جو سرگردوں گونجی
آہِ دل تھی کہ اذاں، یاد نہیں
  • جون
1980
عبدالرحمن عاجز
عیدالفطر کے روز نماز فجر کے بعد صبح سویرے میں قبرستان کی طرف گیا۔ اس قبرستان میں ایک نہیں میرے کئی عزیز  کتنے احباب منوں مٹی کے نیچے محو خواب ہیں۔ میں چل رہا تھا او رمیرے ہمرکاب ایک جنازہ بھی تھا۔ یہ فکر کا جنازہ تھا جسے فکر کا ندھا دیئے ہوئے تھا۔ یہ دل کا جنازہ تھا جو دل کے ہمراہ جارہا تھا۔ یہ ایک ایسی حالت تھی جو گریہ کناں تھی اور ایک ایسی کیفیت تھی جس پر آنسو بہائے جارہے تھے۔
میرا معمول رہا ہے کہ میں جب بھی ان راہوں سے ہوتا ہوا اس جگہ آتا ہوں تو میرے ساتھ میری اشکبار آنکھیں ساون کی گھٹائیں لے ہوئے ہوتی ہیں اور دل ہجوم غم و الم کے جلو میں یہاں فروکش ہوتا ہے۔میں قبرستان اس لیے گیا تھا کہ اپنے عزیز وں، دوستوں سے ملاقات کروں، دنیا کے تفکرات سےالگ تھلگ  ان کی صحبت میں کچھ لمحات گزاروں دنیا و آخرت او رحیات و ممات کے فلسفے پرکچھ ان سے تبادلہ خیال کروں ! اس شہر خاموشاں کے باسیوں سے کچھ ان کے حالات معلوم کروں ۔ آہ۔ وہاں وہ تو مجھے وہاں نہ ملے مگر ان کی لاشوں پر مٹی کے ڈھیر نظر آئے           ؎
  • ستمبر
1971
عبدالرحمن عاجز
بچپن کا زمانہ، عہدِ جوانی یونہی لٹائے بیٹھے ہیں         ہم اپنے گھر کو اپنے ہاتھوں آگ لگائے بیٹھے ہیں
جو کام کے دن تھے بیت گئے وہ مدہوشی کے عالم میں       اُس اک اک لمحہ پر اب سو سو اشک بہائے بیٹھے ہیں
کس طور سے پہنچے گا منزل پر اے طائر بد قسمت تو       صیاد ہزاروں رستہ بھر میں دام بچھائے بیٹھے ہیں
  • اگست
1983
عبدالرحمن عاجز
مریض کھا چکا اس کا جو اب و دآنہ تھا
برائے موت مرض تو فقط بہانہ تھا

مرے نبیؐ کی زباں معرفت کی کنجی تھی
دل حضورؐ معارف کا ایک خزانہ تھا
  • مئی
1971
عبدالرحمن عاجز
ہے نامِ محمد ؐ سے عیاں شانِ محمدؐ      جو شانِ محمدؐ ہے وہ شایانِ محمدؐ
شاہانِ زمانہ کی حقیقت کو نہ پوچھو      شاہانِ زمانہ ہیں غلامانِ محمدؐ
ہوتا ہے رَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک سے یہ ثابت     خود ربّ محمدؐہے ثنائ خوانِ محمدؐ
  • فروری
1973
عبدالرحمن عاجز
دیارِ مصطفےٰ ﷺ تیری فضا ہے کتنی نورانی!!        مہ و انجم سے دلکش ہے ترے ذرّوں کی تابانی
سلام ا پر درود ان پر، درود ان پر سلام ان پر       کہ جن کے فیض نے بخشا ہے مجھ کو نورِ ایمانی
من از ایں بحث می ترسم کہ او خاکیست یا نوری      مقامِ مصطفےٰ، واعظ! نہ من دانم نہ تودانی!
  • جون
1980
عبدالرحمن عاجز
رہ  وفا میں مراحل تو بے شمار آئے

وفا شعار بہرگام کامگار آئے

کوئی نہ کام زمانے میں کیجئے ایسا

یقین دل کونہ آنکھوں کو اعتبار آئے

جنہیں خبر تھی شہادت کا مرتبہ کیا ہے

گزر کے دیروحرم سے وہ سوئے دار |آئے

کہاں کہاں دل بے تاب لے گیا ان کو

کہاں کہاں تیرے شیدا تجھے پکار |آئے
  • مئی
  • جون
1982
عبدالرحمن عاجز
رہِ وفا میں مراحل تو بے شمار آئے
وفا شعار مگر پھر بھی کامگار آئے
کوئی نہ کام زمانے میں کیجئے ایسا
  • اگست
1971
عبدالرحمن عاجز
دل، کیا کہا، عزیز نہیں، محترم نہیں         تیری نظر کی زد میں ہے یہ بات کم نہیں
منڈلا رہا ہے، سر پہ ترے طائرِ اجل            پھر بھی لحد کی فکر، قیامت کا غم نہیں
جو درد مجھ کو تیری نظر نے عطا کیا         تری قسم، وہ نعمتِ عظمیٰ سے کم نہیں
  • جون
1986
عبدالرحمن عاجز
ہے آرزو یہی کہ آرزو رہے
میں تیرے روبرو تو میرے روبرو رہے

جب تک مرے بدن میں ذرا بھی لہو رہے
لب پر ترا ہی ذکر تری آرزو رہے
  • جنوری
  • فروری
1974
عبدالرحمن عاجز
لال قلعہ (دہلی) کی سیر کرنے والا جب اس کی بلند و بالا عمارتوں سے گزر کر ''میوزیم'' میں پہنچتا ہے تو جو چیز اسے دیکھنے کوملتی ہیں ان میں سے ایک وہ ٹوٹا ہوا پتھر بھی ہے جو ایک کونے میں رکھا ہوا ہے۔
  • مارچ
  • اپریل
1975
عبدالرحمن عاجز
جل رہا ہے آتشِ حسرت میں ہر پروانہ آج       بجھ گئی اِک اور شمعِ محفلِ جانا نہ آج
پھول افسردہ، کلی یژمردہ، غنچے سرنگوں          گلستانِ دہر بن کر رہ گیا ویرانہ آج
خون ہو کر بہہ گیا دل دیدۂ بے تاب سے        ہو گیا خالی چھلک کر صبر کا پیمانہ آج
  • نومبر
1972
عبدالرحمن عاجز
توحید کے عَلم کو اُٹھا کر بڑھے چلو       دنیائے کفر و شرک پہ چھا کر بڑھے چلو!
سوزِ دل و جگر سے جلا کر چراغِ دیں      دینِ نبی ﷺ کی شان بڑھا کر بڑھے چلو!
ہر اِک نشانِ کفر مٹا کر جہان سے       ہر تبکدے کو آگے لگا کر بڑھے چلو!
  • جنوری
1992
عبدالرحمن عاجز
یہ قتل وخوں یہ فریب اور لوٹ مار کے دن
رہیں گے دہر میں کب تک یہ انتشار کے دن
عمل تو ڈھیر ہے لیکن کھرا ہے یا کھوٹا!
  • اکتوبر
1989
عبدالرحمن عاجز
جو اپنی جاں کی بازی لگائے
تعجب کیا اگر وہ جیت جا ئے!
اُنھیں سے ہم نے رنج و غم اُٹھا ئے
  • مارچ
1990
عبدالرحمن عاجز
قربت رب دو عالم کا سبب ہے جو نماز
کیسے ممکن ہے کہ ہو بے لذتِ سوزوگداز
یا الٰہی التجا یہ ہے بصد عجزو نیاز
  • فروری
1985
عبدالرحمن عاجز
قربتِ ربِ دو عالم کا سبب ہے جو نماز
کیسے ممکن ہے کہ ہو بے لذت سوز و گداز
رحمتِ حق کو کرے پابند یہ کس کو مجاز
  • دسمبر
1981
عبدالرحمن عاجز
زندگانی شاہراہِ موت پر ہے گامزن
اور ہم محوِ جمالِ غنچہ و سرد دسمن
ہر طرح کی نعمتیں دنیا میں تھیں حاصل جنہیں
  • جنوری
1985
عبدالرحمن عاجز
حسیں دنیا ہے اور دل ناتواں ہے
الہی کتنا مشکل امتحاں ہے
کسے آواز دوں راہِ فنا میں
  • نومبر
1982
عبدالرحمن عاجز
عمل صالح بشر کو خلد کاحق دار کرتا ہے
عمل طالح بشر کو ہمکنار نار کرتا ہے
خلاف دین کوئی سازش پس دیوار کرتا ہے
  • جنوری
1983
عبدالرحمن عاجز
کوئی بھی اہل دنیا کو جو دل سے پیارکرتاہے
وہ گویا دشمن خوابیدہ کوبیدار کرتا ہے

عمل صالح بشر کو خلد کا حقدار کرتا ہے
عمل طالح بشر کو ہمکنار نار کرتا ہے
  • جولائی
1985
عبدالرحمن عاجز
بظاہر دیکھنے میں شادماں حافظ محمد تھے            غم روز جزا سے نیم جاں حافظ محمد تھے
رہا تازیست ورس شرح قرآں مشغلہ انکا           احادیث نبیؐ کے ترجماں حافظ محمدتھے
عبورخاص حاصل تھا انھیں دینی مسائل پر    فقیہ ونکتہ داں تھے خوش بیاں حافظ محمدتھے
خدا کے دین کی خوشبو زمانے بھر میں پھیلائی        حقیقت میں بہارجادواں حافظ محمدتھے
ادارہ تھے و اک علم وعمل کا دورحاضر میں              علوم دین کے گنج گراں حافظ محمدتھے
  • فروری
1986
عبدالرحمن عاجز
تر س رہا ہوں میں اس بادہ کہن کےلیے
پیام خندہ گل تھا جو جان و تن کے لیے

یہ رقص گاہ، یہ زینت کدے یہ میخانے
کوئی جگہ نہیں محفوظ مرد و زن کے لیے
  • جنوری
1983
عبدالرحمن عاجز
اس چیز کی خواہش جو مقدر میں نہیں ہے
دراصل یہ تعذیب ہے جو سخت تریں ہے!

تقدیر کے لکھے پہ جو ایماں ہے یقیں ہے
پھر کس لیے آلام و مصائب پر حزیں ہے
  • جولائی
  • اگست
1974
عبدالرحمن عاجز
دل کو سکوں ملا نہ سکوتِ زباں سے بھی          آساں ہوئیں نہ مشکلیں آہ و فغاں سے بھی
بھڑکی جو آگ دل میں ترے اشتیاق کی           وہ بجھ سکی نہ پھر کسی اشکِ رواں سے بھی
لیتی ہے آنکھ لطفِ کمال و جمالِ دوست         شادابیٔ چمن سے بھی دورِ خزاں سے بھی
  • نومبر
1982
عبدالرحمن عاجز
اس چیز کی خواہش جومقدر میں نہیں ہے
دراصل یہ تعذب ہے جوسخت تریں ہے!
تقدیر کےلکھے پر جوایماں ہےیقین ہے
  • مئی
  • جون
1974
عبدالرحمن عاجز
ملتا ہے جہاں میں انہیں آرام ہمیشہ            آتے ہیں جہاں والوں کے جو کام ہمیشہ
معلوم ہوا جب سے یہ ہیں تیری طرف سے       ہم سہتے ہیں ہنس ہنس کے سب آلام ہمیشہ
ممکن ہے مقرب ہو وہ دربارِ خدا میں        رہتا ہے جو آفاق میں گمنام ہمیشہ
  • دسمبر
1981
عبدالرحمن عاجز
پسِ پردہ بھی وہ رگِ جاں بھی ہوں گے
ہم انہیں ڈھونڈ ہی لینگے وہ جہاں بھی ہونگے
بالیقین راہ محبت ہے رہ کرب و بلا
دیکھ اس پر مرے قدموں کے نشاں بھی ہوں گے
  • ستمبر
1985
عبدالرحمن عاجز
طائر ذکر پیمبرؐ مائل پرواز ہے                                یہ زمین کیا آسماں بھی فرش پاانداز ہے
آپؐ کےحسن تخاطب میں وہ سوزوساز ہے        زرہ زرہ دو جہاں کا گوش برآزاز  ہے
رفتہ رفتہ پھول کھلتے ہیں چمن میں جس طرح           ہاں لب کے کھلنے کا یہی انداز ہے
قیصروکسریٰ کے ایوانوں میں آئے زلزلے         آپؐ کی دعوت کا مکہ میں ابھی آغاذ ہے
  • اکتوبر
1992
عبدالرحمن عاجز
موت کی زد میں ہے رہتاہمہ اوقات انسان
لیکن افسوس سمجھتا نہیں یہ بات انساں
ظلمت قبر میں جو رات بسرکرنی ہے۔
  • اگست
1976
عبدالرحمن عاجز
نہ تمثالِ صدق و صفائے محمدؐ         نہ امثال شرم و حیائے محمدؐ
بری از تکلّف غذائے محمدؐ        نہایت ہی سادہ عبائے محمدؐ
تڑپ اُٹھے سن کر جسے جِنّ و انساں      کلام مبین ایسا لائے محمدؐ
  • دسمبر
1989
عبدالرحمن عاجز
جو خدا کے در کا غلام ہے         وہ  زمانے بھر کا امام ہے
جہاں فرق آیا نہ آج تک         وہ مرے خدا کا نظام ہے
تری ابتداء ہے نہ انتہا             تری ذات کو ہی دوام ہے
نہ مکاں رہے نہ مکیں رہے            یہ جہاں فنا کا مقام ہے
  • اکتوبر
  • نومبر
1985
عبدالرحمن عاجز
یہ ایک بات ہی بس باعث مسرت ہے کہ دل میں تیری تمنا تری محبت ہے
گناہ گار کو فردوس کی بشارت ہے زباں پہ تو اگر قلب میں ندامت ہے
جزائے حسن عمل تو تری عنایت ہے سزائے کفر و بغاوت تری عدالت ہے
  • مارچ
  • اپریل
1988
عبدالرحمن عاجز
يہ اک شہید کے ادنیٰ مقام کا ہے نشاں
فلک پہ قوس و قزح، گلستاں میں سروِ بلند
ترے حضور سجود و قیام کا ہے نشاں