• نومبر
2004
محمد اسماعیل قریشی
قتل غیرت اور اس پر مختلف موقف

اسلام نے جرمِ بدکاری کی سزا 'موت' (بطورِ حد:سنگسار) مقرر کردی ہے، اس کے لئے چار گواہوں کی شہادت کو لازمی قرار دیا گیا ہے جو عدالت میں پیش ہوکر اس بارے میں شہادت دیں گے۔ اس لئے کسی شخص کو قانون کو اپنے ہاتھ میں لے کرملزم کوقتل کرنے کی اجازت نہیں۔
  • جون
2004
محمد اسماعیل قریشی
جب سے امریکہ میں نئی قدامت پرست عیسائی حکومت (Neo-Con) برسراقتدار آئی ہے صدر امریکہ جارج ڈبلیو بش نے اپنی حکومت کو ساری دنیا کے حقوق انسانی کا علم بردار اور نگران (Watch Dog) ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ سب سے پہلے ہم اس امر کا جائزہ لیں گے کہ حقوقِ انسانی کا سب سے بڑا علمبردار کون ہے؟
سال 1948ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عالمی حقوق انسانی کا اعلان کیا جن کے چند متعلقہ آرٹیکل یہ ہیں کہ "ہر انسان آزاد پیدا ہوا ہے،
  • مئی
2005
محمد اسماعیل قریشی
فرسودہ خيالات اور دقيانوسى روايات كى دورِ جديد ميں قطعى كوئى گنجائش نہيں-عرصہ دراز ميں زمانہ ترقى كى منزليں طے كرتا ہوا اس مقام پر پہنچ گيا ہے كہ ماضى سے اس كا رشتہ كٹ چكا ہے- سائنس، ٹيكنالوجى اور معاشى ترقى كى تيز رفتار دوڑ ميں مذہب زمانہ كا ساتھ نہيں دے سكتا- چادر، چارديوارى، حجاب، اسكارف اور داڑهى ملا كا دين اور پسماندگى كى نشانى ہے-
  • جنوری
2005
محمد اسماعیل قریشی
مملكت ِ خداداد ِ پاكستان كے صدر جنرل پرويز مشرف نے 21/ مئى 2000ء ميں اعلان كيا تها كہ توہين رسالت كے قانون كا غلط استعمال ہورہا ہے، اس لئے اس كے ضابطہ كار (Procedural Law) كو تبديل كرنا چاہئے- راقم نے اس تجويز سے اختلاف كرتے ہوئے اس پر گہرى تشويش كا اظہار كيا تها كہ موجودہ طريق كار ميں تبديلى توہين رسالت كے قانون كو غير موٴثر بنانے كى ناروا كوشش ہے- شروع ہى سے اس كے پس پردہ امريكہ اور يورپ كى متعصب عيسائى ذہنيت كار فرما رہى ہے اور ايسى كوشش قومى اشتعال انگيزى كا باعث ہوگى- چنانچہ يہى ہواكہ پاكستان كى دينى اور سياسى جماعتوں نے اس ترميم كى مخالفت كرتے ہوئے اس كے خلاف ملك بهر ميں احتجاجى مظاہرے شروع كرديے-
 
  • جنوری
2005
محمد اسماعیل قریشی
مملكت ِ خداداد ِ پاكستان كے صدر جنرل پرويز مشرف نے 21/ مئى 2000ء ميں اعلان كيا تها كہ توہين رسالت كے قانون كا غلط استعمال ہورہا ہے، اس لئے اس كے ضابطہ كار (Procedural Law) كو تبديل كرنا چاہئے- راقم نے اس تجويز سے اختلاف كرتے ہوئے اس پر گہرى تشويش كا اظہار كيا تها كہ موجودہ طريق كار ميں تبديلى توہين رسالت كے قانون كو غير موٴثر بنانے كى ناروا كوشش ہے۔