• فروری
  • مارچ
1995
طیب شاہین لودھی
اللہ تعالیٰ جب کبھی کوئی نبی یا رسول مبعوث فرماتا ہے تواسے انتہائی مخلص،ایثار شعار اور جان نثار ساتھی عطا فرماتا ہے۔جو رسول کی تربیت اور زمانے کی ابتلاء اور آزمائش کی بھٹی سے کندن بن کر نکلتے ہیں۔جو ہر مشکل وقت اور مصیبت میں رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کاساتھ دیتے ہیں۔رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کی اعانت میں اپنی جان،اپنا مال اور اپنا تمام سرمایہ حیات اللہ کی خاطر،اللہ کے رسول( صلی اللہ علیہ وسلم ) کے قدموں میں ڈھیر کردیتے ہیں۔نبی کی تائید اور مدفعت میں اپنا وطن،اپنی اولاد،اپنے ماں باپ اور خود اپنی جان تک قربان کردیتے ہیں اور ایمان کاتقاضا بھی یہی ہے۔
اللہ  تعالیٰ نبی کو ہر قسم کی صلاحیت بدرجہ اتم عطا کرکے مبعوث فرماتا ہے،اس کا فہم وفراست ثاقب اور اس کی بصیرت زماں ومکان کے  پار جھانکتی ہے۔ اس کی مردم شناسی خطا سے مبرا اور اس کا انتخاب صائب ہوتاہے۔تب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ک منتخب کردہ افراد اس کی تربیت اور صحبت خاصہ اور باطل کے خلاف کشمکش اور آزمائشوں کے جاں گسل دور سے گزرنے کے بعد اپنی سیرت وکردار میں نبی کا پر توبن جاتے ہیں۔ان میں سے جو کوئی جس قدر نبی کے قریب ہوتا ہے۔اسی قدر اس کی سیرت وکردار کو اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتا ہے۔نبی  اپنے ساتھی منتخب کرنے میں غلطی نہیں کرسکتا۔
  • فروری
1986
طیب شاہین لودھی
اللہ تعالیٰ نے کسی نسلی یا جغرافیائی تخصص و امتیاز کے بغیر، تمام بنی نوع انسان کی ہدایت کے لیے اپنے آخری نبی حضرت محمدﷺ کو مبعوث فرمایا۔ تمام انسانوں کو آپؐ کے ذریعے نجات کی راہ بتلائی۔ آپؐ کی اتباع اور آپؐ کی محبت کو لازمہ ایمان قرار دیا۔ مومن ہونے کے لیے تمام اہل ایمان پر لازم اور واجب ٹھہرایا کہ وہ اپنی جان و مال، ماں باپ، اولاد اور دنیا کی ہر چیز سے بڑھ کر آپؐ سے محبت کریں۔
  • مارچ
1986
طیب شاہین لودھی
''اگر کوئی مسلمان اللہ تعالیٰ یا کسی نبی کو گالی دے تو یہ رسول اللہ ﷺ کی تکذیب ہے۔ آپؐ کی تکذیب کفر و ارتداد ہے۔ ایسے شخص سے توبہ کروائی جائے اور اگر وہ توبہ نہ کرے تو اسے قتل کردیا جائے اور اگر کوئی ذمی کھلے عام، اعلانیہ، اللہ تعالیٰ یا کسی نبی کو گالی دیتا ہے تو یہ عہد شکنی ہے، لہٰذا اسے قتل کرو۔''
  • اکتوبر
1987
طیب شاہین لودھی
3۔ جمہور اہل اصول کا اس امر پر اتفاق ہے کہ عمل بالحدیث تقلید کے زمرے میں نہیں آتا۔ چنانچہ صاحب "فواتح الرحموت" فرماتے ہیں:
" فالرجوع إلى النبى عليه وأله وأصحابه الصلوة والسلام أو إلى الإجماع ليس منه فإنه رجوع إلى الدليل و كذا رجوع العام إلى المفتى والقاضى إلى العدول ليس عذا الرجوع  نفسه تقليدا"[1]
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا اجماعِ امت کی طرف رجوع کرنا تقلید شمار نہیں ہوتا۔ کیونکہ یہ دلیل کی طرف رجوع ہے۔ اسی طرح ایک عامی کا مفتی کی طرف، اور قاضی کا عادل گروہ کی طرف، رجوع کرنا فی نفسہ تقلید نہیں ہے۔"
علامہ سیف الدین الآمدی رقمطراز ہیں:
"فالرجوع إلى قول النبى عليه السلام و إلى ما أجمع عليه أهل العصرين ممن المجتهدين ورجوع العام إلى قول المفتى وكذلك عمل القاضى بقول العدول لا يكون تقلیدا العدم عروہ عن الحجة الملزمة"[2]
"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث اور اس قول کی طرف رجوع کرنا جس پر تمام اہل عصر مجتہدین کا اجماع ہو چکا ہو، عام آدمی کا مفتی کے قول کی طرف رجوع کرنا، اور اسی طرح قاضی کا عادل گواہ کی شہادت پر عمل کرنا تقلید نہیں۔ کیونکہ یہ (مذکورہ صورتیں) عمل لازم کرنے والی دلیل سے خالی نہیں۔"
  • جولائی
1987
طیب شاہین لودھی
مسئلہ تقلید و اجتہاد اسی زمانے سے معرکة الآراء موضوع بنا ہوا ہے، جب سے اُمت مسلمہ نے بقول مقلدین''تقلید و جمود'' پر اجماع کرلیا ہے۔ کہنے کو تو یہ حضرات کہہ دیتے ہیں کہ ائمہ اربعہ کے عہد کے اختتام پر تمام اُمت نے ان ائمہ کی تقلید پر اتفاق کرلیاتھا، مگر تاریخ کے اوراق ان کے اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ چوتھی صدی ہجری کے اوائل سے لے کر آج تک ہر زمانے میں مقلدین کے علاوہ اہل علم کی ایک معتدبہ
  • اگست
1987
طیب شاہین لودھی
امام ابن خزیمہ کے بارے میں علامہ ابن قیم لکھتے ہیں:''امام محمد بن اسحاق ابن خزیمہ، جو امام الائمہ کے لقب سے ملقب ہیں، فرماتے ہیں کہ ''جب رسول اللہ ﷺ کی حدیث ثابت ہو جائے تو آپؐ کی حدیث کے ساتھ کسی کے قول کی کوئی اہمیت نہیں۔''............ امام ابن خزیمہ مقلد نہ تھے وہ ایک مستقل امام تھے۔ بہت .............. سےمحدثین اپنے آپ کو ابن خزیمہ سے منسوب کرتے تھے۔ چنانچہ........... بیہقی نے ''''المدخل'' میں
  • ستمبر
1987
طیب شاہین لودھی
مسئلہ تقلید و اجتہاد اسی زمانے سے معرکۃ الآراء موضوع بنا ہوا ہے، جب سے  اُمت مسلمہ نے بقول مقلدین’’تقلید و جمود‘‘ پر اجماع کرلیا ہے۔ کہنے کو تو یہ حضرات کہہ دیتے ہیں کہ ائمہ اربعہ کے عہد کے اختتام پر تمام اُمت نے ان ائمہ  کی تقلید پر اتفاق کرلیاتھا، مگر تاریخ کے اوراق ان کے اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔ چوتھی صدی ہجری کے اوائل سے لے کر آج تک ہر زمانے میں مقلدین کے علاوہ اہل علم کی ایک معتدبہ جماعت موجود رہی ہے۔ جس نے اپنے اپنے زمان و مکان کے بدلتے ہوئے حالات میں اجتہاد کا فریضہ سرانجام دیا ہے او رآج اجتہاد ایک مسلمہ حقیقت ہے۔ آپ تاریخ فقہ پڑھ کر دیکھئے، جن حضرات نے  اپنے آپ کو تقلید جامد کے حصار میں محصور کرکے اجتہاد کا دروازہ بند کرلیا، وہ اپنے زمانے کی حدود سے باہر نہیں نکل سکے۔ اس کی بے شمار مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ اس کے برعکس ابن عبدالبر،  ابن حزم، ابن عبدالسلام، ابن تیمیہ، ابن قیم، محمد بن اسماعیل صنعانی، شاہ ولی اللہ، شوکانی، نذیر حسین دہلوی، و دیگر مجتہدین نے مسئلہ اجتہاد کو منقح کرکے تقلید جامد کی مذمت کی ہے ، کہ ایک متعصب مقلد ہی تقلید جامد کے ساتھ چمٹا رہ سکتا ہے۔