• نومبر
2012
ثریا بتول علوی
مصنّف : پروفیسر خورشید عالم ...صفحات: 560 ... اشاعت: 2011ء
پیش نظر کتاب کے اس جائزے کی مصنفہ برسہا برس گورنمنٹ کالج برائے خواتین سمن آباد میں علوم اسلامیہ کی تدریس کے بعد اسی شعبہ کی سربراہی پر فائز رہنے کے ناطے اس میدان میں وسیع تجربے کی حامل ہیں۔
  • دسمبر
1998
ثریا بتول علوی
پاکستان ، دنیا کی عظیم ترین اسلامی مملکت کےطورپر 1947ء کونقشہ عالم پرنمودار ہوئی آج پاکستان کوعروس آزادی سےہمکنار ہوئے 51 برس بیت چکے ہیں ۔ترقی اورعروج حاصل کرنے کے لیے اوراپنی منزل مراد تک پہنچے کےلیے نصف صدی کاعرصہ بہت ہوتا ہےمگر ہمیں افسوس سے کہنا پڑتا ہےکہ اہل پاکستان آزادی کی ذمہ داریوں کوکماحقہ ادا نہیں کرسکے ۔ صرف 25 برس بعد مملک خداداد کا آدھا بازو کاٹ کربنگلہ دیش کانیا ملک وجود میں آگیا مگر ہمارا احساس زیاں پھر بھی بیدار ہوا ۔ اسلام کےنام پروجود میں آنے والی مملکت میں اسلامی شریعت ہی کا نفاذ نہ ہوسکا ۔ اور آج تک مختلف حیلے بہانوں سےیہ کام پس پشت ڈالا جاتا رہا ۔
  • اپریل
2010
ثریا بتول علوی
اُستاد اپنی بات اپنے شاگردوں تک اسی زبان میں پہنچاتا ہے جس کو وہ بخوبی سمجھ سکیں۔ اگر متعلّم اپنے اُستاد کی بات ہی کونہ سمجھ سکے تو تعلیمی عمل زوال کا شکار ہوکر رہ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر نبی کو جب کسی قوم کی طرف مبعوث کیا تو وہ ان سے ان کی زبان میں ہی گفتگو کرتا تھا۔ قرآنِ پاک میں ارشاد ہے:
  • جنوری
1993
ثریا بتول علوی
موجودہ دور میں عالمی میڈیا پر صیہونیت کی حکمرانی ہے۔ ان کے ناپاک عزائم میں اُمت مسلمہ کو جہاں ہر محاذ پر نیچا دکھانا ہے وہاں مسلمانوں کے قلوب میں ان کے دین کی بابت بدگمانی راسخ کرنا بھی ایک بھرپور مشن ہے۔ ''حدود اسلامی'' کے ضمن میں بین الاقوامی میڈیا کافی عرصہ سے یہ پراپیگنڈہ کررہا ہے کہ ''اسلامی سزائیں وحشیانہ اور دور ظلم کی یادگار ہیں۔''حال ہی میں پاکستان میں بھی اس پراپیگنڈہ کی بازگشت سنائی دی، اور بعض طبقات اس آواز سے متاثر ہوکر اس نظریہ کی اشاعت میں بھی
  • جولائی
2000
ثریا بتول علوی
"تیری بربادیوں کے مشورے ہیں UNO کے ایوانوں میں"

گذشتہ ماہ (5تا9جون) نیویارک میں اقوام متحدہ کے نمائندوں  کے ذریعےیہودیوں کا ایک  خوفناک شیطانی منصوبہ پیش کیا گیا جس میں دنیا کے مختلف ممالک کے ہم خیال شیطانی دماغ مل کر بیٹھے اور"خواتین 2000ءواکیسویں صدی  میں صنفی مساوات امن اور ترقی "کے نام پر چند فیصلے کئے گئے جن کو یواین او کے پلیٹ فارم کے ذریعے ممبر ممالک میں نافذ کیا جاتا تھا ۔یہ خواتین کے سلسلے میں پانچویں عالمی کانفرنس تھی اس سے قبل حقوق نسواں کے نام پر خواتین کی چارعالمی کانفرنس منعقد ہوچکی ہیں۔
پہلی بین الاقوامی کانفرنس:                            1975 ءمیں میکسکیو میں 
دوسری بین الاقوامی کانفرنس:                       1980  ء میں کو پن ہیگن میں  
تیسری بین الاقوامی کانفرنس:                        1985ءمیں نیروبی میں 
چوتھی بین الاقوامی کانفرنس:                         1995ءمیں بیجنگ میں
بیجنگ کا نفرنس میں خواتین کی ترقی اور صنفی مساوات کے نام پر ایک بارہ نکاتی ایجنڈا طے کیا گیا تھا وہ نکات درج ذیل ہیں ۔
  • اکتوبر
1992
ثریا بتول علوی
عربی لغت میں حد سے مراد باڑھ،سرحد،آخری کنارہ،انتہا،عدم اجازت اور امتناع کے ہیں۔حد کے ایک معنی روکنا اور منع کرنا بھی ہیں اسی سے قید خانے کے دربان کو حداد کہا جاتاہے۔یعنی روکنے اور منع کرنے والا (امام سرخسی)

حد کی جمع حدود ہوتی ہے۔جس کا مفہوم الذبیدی اس طرح بیان کرتے ہیں اللہ کی حدود کی قسمیں ہیں
  • نومبر
2004
ثریا بتول علوی
علم نور ہے اورجہالت گمراہی !

انسانی معاشرہ کی تعمیر و ترقی کے لئے تعلیم و تربیت، علم و آگہی اور شعور بنیادی اہمیت کے حامل ہیں، دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ طبقہ نسواں معاشرے کا نصف حصہ ہیں۔ لہٰذا اس طبقہ نسواں کی تعلیم و تربیت معاشرے کی صلاح و فلاح کے لئے از بس ضروری اور ناگزیر ہے۔
  • مارچ
  • اپریل
1974
ثریا بتول علوی
یوں تو نوعِ انسانی کے بلند پایہ طبقوں میں ہزاروں لاکھوں انسان نمایاں ہیں۔ جنہوں نے اپنی زندگیاں اپنے بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے مشعلِ راہ اور نمونہ کے طور پر پیش کی ہیں مگر ان کی طویل فہرست میں سے انبیائے کرام کی سیرت ہی بطورِ خاص عوام الناس کے لئے اسوہ اور بہترین نمونہ ہیں۔ کیونکہ ان کی سیرتیں ہر لحاظ سے بے داغ اور ان کا دامن حسنِ اخلاق و کردار سے آراستہ و پیراستہ ہیں۔
  • مئی
  • جون
1973
ثریا بتول علوی
یوں تو نوعِ انسانی کے بلند پایہ طبقوں میں ہزاروں لاکھوں انسان نمایاں ہیں۔ جنہوں نے اپنی زندگیاں اپنے بعد میں آنے والے لوگوں کے لئے مشعلِ راہ اور نمونہ کے طور پر پیش کی ہیں مگر ان کی طویل فہرست میں سے انبیائے کرام کی سیرت ہی بطورِ خاص عوام الناس کے لئے اسوہ اور بہترین نمونہ ہیں۔ کیونکہ ان کی سیرتیں ہر لحاظ سے بے داغ اور ان کا دامن حسنِ اخلاق و کردار سے آراستہ و پیراستہ ہیں۔
  • جنوری
1994
ثریا بتول علوی
تاریخ عالم میں بے شمار ایسے افراد ہو گزرے ہیں جنہوں نے اپنے دور میں مختلف علمی ،فنی عسکری کار نامے انجام دے کر شہرت پائی۔ان میں بادشاہ ہیں فوجی جرنیل ہیں دانشور ہیں مفکر ہیں ،مشہور شعراء حکماء اور فاتحین عالم ہیں یقیناً ایسے لوگوں کی زندگیاں پر کشش اور قابل توجہ ہوسکتی ہیں ۔مگر ان میں سے دراصل بڑے لوگ وہ ہیں جنہوں نے اپنے علم اور عمل کی ضیا پا شیوں سے حقیقی معنوں میں دنیا کو منور کیا۔یہ نفوس قدسیہ انبیاکرام علیہ السلام ہیں
  • جنوری
2000
ثریا بتول علوی
اِسلام اَمن وآشتی،صلح جوئی اوراِتفاق واِتحاد کا مذہب ہے ۔ اسلام کا کلمہ پڑھ لینے والے تمام مسلمان اُخوت ومودّت کے مضبوط رشتے میں پروئے جاتے ہیں اوران کے مابین کسی قسم کے افتراق وانتشار کو ہوا دینا اسلام کی نگاہ میں مذموم ترین فعل ہے ۔ مذہبی گروہ بندیوں اور فرقہ پرستیوں کی اسلام سے تائید تلاش کرنا اور فرقہ وارانہ عصبیتوں کو اِسلام سے ثابت کرنے کی کوشش کرنا کبھی اسلام کی حقیقی تعبیر نہیں کہلا سکتی ۔
  • مارچ
2012
ثریا بتول علوی
قرآن پاک کو نذرِ آتش کرنے کی ناپاک جسارت اور قوم کا رویہ
بارِ الٰہ! یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے؟ کبھی سوچا بھی نہ تھا کہ مسلمان اس قدر مجبور و لا چار بنا کے رکھ دئیے جائیں گے یا خود ہی اس قدر بے حس ہو جائیں گے۔ ڈیڑھ ارب مسلمان دنیا میں موجود ہوں اور ایسے ایسے واقعات پیش آئیں کہ دل کی دھڑکن بند ہوتی محسوس ہو۔
  • اکتوبر
1994
ثریا بتول علوی
بیسویں صدی کا آخری عشرہ مسلمانوں پر مصائب و آلا م اور ابتلا ء کا عشرہ ہے اس صدی کے نصف اول میں بہت سے مسلم ممالک نے آزادی حا صل کی۔ اور مغرب کے لیے یہ ایک عظیم لمحہ فکر یہ بن گیا ۔کیونکہ وہ دیکھ رہے تھے کہ مسلمانوں کا اتحاد ایک تیسری عظیم قوت کو جنم دے سکتا ہے افغانستان پر روسی یلغار پر جس طرح مسلمانوں نے متحدہ ہو کر اس عظیم تر فتنہ کا مقابلہ کیا اور روس جیسی نام نہاد سپرپاورکو جس بے بسی و بے چارگی کے عالم میں افغانستا ن سے بھا گنا پڑا ،پھر اس کے نتیجے میں دنیا کے جغرافیہ میں بے شمار تبدیلیاں وجود میں آئیں پسے ہو ئے اور ظلم وستم کے مارے ہوئے مسلمانوں نے کروٹ لی اور علم جہاد بلند کردیا۔ تو پورا مغرب ایک دم چوکنا ہوگیا۔کہ سوسالہ کیمونسٹ دباؤ کے باوجود ان ممالک کے مسلمانوں نے نہ صرف اپنے تشخص کو قائم رکھا بلکہ آزادی ملتے ہی فوراًاپنی ملی و اسلامی اقدار کے احیاء میں سر گرم ہو گئے ،چا ہے وسط ایشیا کی مسلم ریاستیں ہوں یا یورپ میں بوسنیااور البانیہ کے مسلم اکثریتی علاقے روس کی پسپائی کے فوراً بعد امریکہ نے اپنا نیو ورلڈآرڈر پیش کر دیا جو دراصل ( أنا ولا أحد غيري )کا مصداق تھا اس کے اس آرڈرکا بنیادی مقصد یہ تھا کہ جو اسلامی قوتیں اُبھر رہی ہیں ان کا سختی سے قلع قمع کر دیا جا ئے۔
  • نومبر
1972
ثریا بتول علوی
تعلیم کی اہمیت و افادیت سے انکار ممکن نہیں۔ تعلیم نہ صرف انسان کو مہذب بناتی اور اس کے اخلاق و کردار کو سنوارتی ہے بلکہ زندگی کے دشوار گزار اور پر پیچ راستوں پر چلنے کے لئے اس کے اندر حوصلہ اور جرأت بھی پیدا کرتی ہے۔ یہ انسان کو احساسِ سود و زیاں عطا کرتی ہے اور کھرے اور کھوٹے میں تمیز کرنے کا شعور بخشتی ہے۔
  • فروری
1999
ثریا بتول علوی
وہ زمانے میں معزز تھے مسلمان ہوکر
اور تم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر
اس مضمون میں قرآن کریم اور اس پر عمل کرنے کی ضرورت واہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔اور صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین  کے ایمان افروز قرآنی طرز عمل کی بعض جھلکیاں پیش کی گئی ہیں۔مسلمانوں کی دین ودنیاکی کامیابی قرآن پرعمل کرنے سے ہی مشروط ہے۔گذشتہ ماہ جورمضان المبارک کامقدس اور بابرکت مہینہ تھا،قرآن کریم کی تلاوت اور قیام اللیل میں اُس کی سماعت کا خاص اہتمام کیاجاتاہےاور قرآن کے فیوض وبرکات سے (؟) وافر اٹھایا جاتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ امت مسلمہ اسی طرح قرآنی احکام اور تعلیمات کو بھی حرز جان بنائے اور اس پر عمل کے تقاضے پورے کرے تاکہ ہم اللہ کے دیئے گئے وعدوں کے حق دار بن سکیں۔قرآن پر عمل بجالانے کی اسی ضرورت واہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے یہ مقالہ شائع کیا جارہا ہے۔(ادارہ)
  • جنوری
1993
ثریا بتول علوی
چند دن قبل وطن عزیز پاکستان میں مغربی ممالک کی دیکھا دیکھی ''عالمی یوم آبادی'' بڑے تزک و احتشام سے منایا گیا۔ اس دن کی تشہیر اور اس کو موثر بنانے کے لیے حکومت نے تمام ذرائع ابلاغ پر اس کی بھرپور تشہیر کی اور اس موقعہ پر خصوصی اہتمام سے صدر پاکستان ، وزیراعظم، چاروں صوبائی وزراء اعلیٰ اور دیگر وزراء و مشیران کرام نے افزائش آبادی پر یہ تشویشناک پیغام اپنی قوم کے نام بصد حسرت پیش کیا کہ اگر پاکستان کے عوام نے آج توجہ نہ کی اور خاندانی منصوبہ بندی کے
  • جون
2008
ثریا بتول علوی
اگر عوام الناس سے پوچھاجائے کہ ہمارے تمام مسائل کا حل کس طریقے سے ممکن ہے ؟ تو سب کا ایک ہی جواب ہوگا: ''صحیح تعلیم کے ذریعے''... یقیناتعلیم بنی نوع انسان کی ترقی، صلاح وفلاح اور کامیابی کے لئے بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے مگر یہ تعلیم صحیح ہونی چاہئے۔ اورتعلیم کا صحیح رُخ ہمیں صرف اور صرف وحیِ الٰہی کے ذریعے سے حاصل ہوسکتا ہے۔
  • مارچ
1996
ثریا بتول علوی
یکم مئی بین الاقوامی سطح پر "یوم محنت" کے طور پرمنایا جاتاہے۔ یہ دن ان مزدوروں کی یاد میں ہے جو یکم مئی 1886ء کو امریکہ کے شہر شکاگو میں اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے آجروں کے خلاف مظاہر ہ کر رہ تھے۔ ان میں سے بعض کو فائرنگ کے ذریعے ہلاک کر دیا گیا اور بعض کو پھانسی پر چڑھایا گیا۔ پس یہ دن مغربی و اشترا کی ممالک میں انہی "شہدائے شکاگو" کو خراچی عقیدت پیش کرنےکے لیے منایا جاتا ہے۔ اس دن مزدورں کے حق میں پروگرام ہوتے ہیں۔
  • فروری
2002
ثریا بتول علوی
استعماری طاقتوں تنے آغاز ہی میں یہ بات محسوس کرلی تھی کہ مسلمان اپنے پختہ کردار، جاندار روایات اور بہترین تعلیمی نظام کی بنا پر غلام نہیں بنائے جاسکتے۔ اگر وہ عارضی طور پر چالاکی و عیاری کے ذریعہ غلام بنا بھی لئے جائیں، تب بھی ان میں خوئے غلامی پیدا نہیں کی جاسکتی۔ وہ صرف ربّ ِواحد کواپنا حاکم اعلیٰ سمجھتے ہیں اور کسی اپنے جیسے شخص کا غلام یا مفتوح بننا اپنی موٴمنانہ غیرت و حمیت کے منافی جانتے ہیں۔