• جنوری
  • فروری
1974
زاہد علی واسطی
یورپی مستشرقین نےحضرت نبی کریمﷺ کی کثرت ازواج مطہرات پربہت سے اعتراض کیے ہیں او راب بھی بعض مکتب فکر کے لوگ جو حقیقت حال سےناواقف ہوتے ہیں۔ واقعات کا دیانت دارانہ جائز لئے بغیر رحمۃ للعالمینؐ کی عظمت و منصب کا لحاظ رکھے بغیر اشارتاً یا کنایتاً ایسے خیالات کا اظہا رکرتے رہتے ہیں۔ از روئے انصاف و عقل بہتر طریقہ یہ ہوتا ہے کہ کسی مسئلہ کے ہرایک پہلو کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کیا جائے۔
  • جون
1980
زاہد علی واسطی
ہادکے لغوی معنی ہر وہ کوشش اور محنت ہےجو کسی معین مقصد کے لیے کی جائے اور اصطلاح میں اس محنت اور کوشش کو کہتے ہیں جو اللہ کے لیے اللہ کی راہ میں، اسلام کے لیے ، نظام ملت کے لیے یا استحکام شعائر اللہ کے لیے کی جائے۔ (دائرہ معارف اسلامیہ) یہ  لفظ  قرآن میں کبھی لغوی معنوں میں اور کبھی اصطلاحی معنوں میں متعدد مرتبہ استعمال ہوا ہے۔
اس روئے زمین پر اخلاق و آداب، عبادات و معیشت، سیاست و معاشرت۔ الغرض تمام معاملات میں قدم قدم پر ہر خیر کے ساتھ ساتھ شرکاء عنصر بھی کارفرما ہے۔ اسلام امر بالمعروف (خیر) کا داعی ہے اور نہی عن المنکر(شر) کی نفی کرتا ہے۔ اس کوشش کو شریعت نے جہاد فی سبیل اللہ کا نام دیاہے۔اس لیے راہ خدا میں جہاد کرنے کا مفہوم سوائے اس کے اور کچھ نہیں کہ اللہ کی رضا کی خاطر اس کے دین برحق کی سربلندی کے لیے وہ سب کچھ کر ڈالا جائے جو انسان کے دائرہ اختیار میں ہو۔ اس مقصد اعلیٰ کے حصول میں پوری قوتیں صرف کردینے کا نام جہاد ہے۔ زیادہ معین معنوں میں جہاد۔اسلام کا فریضہ بھی ہے اور ہرمسلمان پر واجب بھی ہے کہ بطور عبادت وہ ہر کوشش اور محنت کرے جوملت کے استحکام میں اعلائے کلمۃ الحق میں مظلوم بھائیوں کی حمایت میں اسلامی ریاست کے خلاف حملہ آوروں کے مقابلہ میں بار آور ثابت ہوسکے۔
  • جون
1978
زاہد علی واسطی
تذکراتِ معاد یا حالات بعد الموت کی حقیقتِ واقعی کا آسانی سے سمجھانا دشوار ہے۔ نامۂ اعمال کے بارے میں قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ کا فرمان حرف قطعی ہے جس کے مطابق جمہور مسلمین کا اعتقاد ہے کہ یہی نامۂ اعمال انسان کی جزا و سزا کا باعث بنے گا۔ قرآن مجید میں ارشادات ربانی کا مقصود و حاصل کلام سعادت، اخلاق حمیدہ و صفات پسندیدہ کا انتساب اور شقاوت، خصائل ذمیمہ اور صافِ رذیلہ کا احتساب ہے۔ ہم اسی زاویہ نگاہ سے زیرِ نظر مضمون میں غور و فکر کرنے کی سعی کرتے ہیں۔