• جنوری
2007
ابو الکلام آزاد
اہل عرب نے اگرچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مجموعہ تعلیم ہدایت کو بالکل بھلا دیا تھا، لیکن اُنہوں نے خانہ کعبہ کے کنگرے پر چڑھ کر تمام دنیا کو جو دعوتِ عام دی تھی، اس کی صداے بازگشت اب تک عرب کے در ودیوار سے آ رہی تھی :
وَإِذْ بَوَّأْنَا لِإِبْرَ‌ٰ‌هِيمَ مَكَانَ ٱلْبَيْتِ أَن لَّا تُشْرِ‌كْ بِى شَيْـًٔا وَطَهِّرْ‌ بَيْتِىَ لِلطَّآئِفِينَ وَٱلْقَآئِمِينَ وَٱلرُّ‌كَّعِ ٱلسُّجُودِ ﴿٢٦﴾ وَأَذِّن فِى ٱلنَّاسِ بِٱلْحَجِّ يَأْتُوكَ رِ‌جَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ‌ۢ يَأْتِينَ مِن كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ﴿٢٧...سورۃ الحج
  • جون
2001
ابو الکلام آزاد
عزیزانِ ملت! ماہِ ربیع الاول کا ورود تمہارے لئے ایک پیغامِ عام ہوتا ہے۔ کیونکہ تم کویاد آجاتا ہے کہ اسی مہینے کے ابتدائی ہفتوں میں خدا کی رحمت ِعامہ کا دنیا میں ظہور ہوا، اور اسلام کے داعی برحق کی پیدائش سے دنیا کی دائمی غمگینیاں اور سرگشتگیاں ختم کی گئیں۔ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ و صحبہ وسلم!
  • جنوری
2001
ابو الکلام آزاد

رمضانُ المبارک کابابرکت مہینہ ایک بارپھر اپنی برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ ہم پر سایہ فگن ہے۔ لیکن افسوس اس بابرکت مہینہ سے فیض اُٹھانے اور اس مقدس ماہ میں اَحکامِ الٰہی کے مطابق چلنے والے مسلمان خال خالہی نظر آتے ہیں۔ ایک اسلامی معاشرے میں رمضان پر عمل کس طور سے کیا جاتاہے، اس کی ایک تصویر کشی مولانا ابو الکلام آزاد نے آج سے ۸۶ برس قبل کی تھی ۔

  • مئی
  • جون
1973
ابو الکلام آزاد
ترجمان القرآن میں مولانا ابو الکلام آزاد مرحوم و مغفور نے سورۂ انبیا کی آیت (107) ﴿وَما أَر‌سَلنـٰكَ إِلّا رَ‌حمَةً لِلعـٰلَمينَ ﴿١٠٧﴾... سورة الانبياء" کے حواشی میں یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ آنحضرت محمد ﷺ کے ظہور کو دنیا کے لئے رحمت قرار دے کر قرآن نے ایک کسوٹی ہمارے حوالے کر دی ہے جس پر اس ظہور کی ساری صداقتیں ہم پرکھ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی فرمایا کہ مقدمہ تفسیر کے ایک باب کا موضوع یہی مسئلہ ہے
  • نومبر
2004
ابو الکلام آزاد
برصغير ميں مرد وعورت ہر دوصنفوں كى ايك دوسرے پر برترى يا مساوات كى بحثيں مغربى تہذيب كے زير اثر عرصہٴ دراز سے چلى آرہى ہيں، جن ميں عورتوں كى كلى مساوات كے نعرہ سے لے كر ان كے پردہ كے مسائل بهى زير بحث آتے ہيں- اسى تناظر ميں ہمارے دينى ادب ميں بہت سى كتب بهى تحرير كى گئيں جن ميں متوازن اسلامى موقف پيش كرنے كى كوشش كے ساتھ اسلامى حجاب كى مصلحتوں پر بهى بہت لكها گيا-
  • فروری
2004
ابو الکلام آزاد
دنيا كے تمام مذاہب ميں اسلام كى ايك مابہ الامتياز خصوصیت يہ ہے كہ اس نے تمام عبادات و اَعمال كا ايك مقصد متعین كيااور اس مقصد كو نہايت صراحت كے ساتھ ظاہر كرديا- نماز كے متعلق تصريح كى: ﴿إنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنْكَرِ﴾ (العنكبوت:٤٥)
"نماز ہر قسم كى بداخلاقيوں سے انسان كو روكتى ہے-"
  • نومبر
2011
ابو الکلام آزاد
ان دنوں ذوالحجہ کا پہلا عشرہ ہے اور کچھ ہی دنوں بعد تاریخ عالم کا وہ عظیم الشان روز طلوع ہونے والا ہے جس کے آفتاب کے نیچے کرۂ ارضی کے ہر گوشے کے لاکھوں انسان اپنے مالک کوپکارنے کے لیے جمع ہوں گے اور ریگستانِ عرب کی ایک بے برگ و گیاہ وادی کے اندر خداپرستی و حب الٰہی کا سب سے بڑا گھرانہ آباد ہوگا۔