• جنوری
2004
اختر حسین عزمی
قرآن نے حب ِ الٰہی کو مؤمن کی پہچان اور ایمان کی جان قرار دیا ہے: {وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اَشَدُّ حُبًّا ﷲِ} (البقرۃ:125) قرآن میں حب ِ الٰہی کا یہ غیر معمولی مقام اس دلیل کی مضبوطی کا باعث ہے کہ قرآن کا بنیادی تصورِ تزکیہ اللہ کی محبت ہی ہے، نہ کہ اس کی والہانہ اطاعت۔ یہ اطاعت تو اس محبت کا صرف لازمی ثمرہ ہوگی۔
  • جنوری
2006
اختر حسین عزمی
انسانی فطرت ہے کہ وہ جسے ملجا و ماویٰ سمجھتا ہے، اسی کے سامنے نذرونیاز پیش کرتا ہے۔ غیر اللہ کے لئے ایسا کرنا اللہ نے 'شرک' قرار دے کر منع کیا تو اس کے ساتھ ہی انسان کے اس فطری جذبے کی تسکین کا راستہ بھی بنا دیا۔ انسان اگر غیر اللہ کو سجدہ کرتا تھا تو اللہ نے جہاں غیراللہ کو سجدہ کرنا حرام ٹھہرایا، وہاں اس کے متبادل کے طور پر نماز کو فرض کردیا۔