• مارچ
  • اپریل
1976
علیم ناصری
جس دل میں مدینے کی کوئی چاہ نہیں ہے کچھ اور ہے وہ دِل نہیں واللہ نہیں ہے
اس کوچۂ اطہر کے گداؤں کے علاوہ دنیا میں کوئی اور شنہشاہ نہیں ہے
ہیں دو ہی مقاماتِ سکوں طیبہ و بطحا بعد ان کے جہاں میں کوئی درگاہ نہیں ہے
  • مارچ
1980
علیم ناصری
کچھ مصطفے ٰ سے مانگ نہ کچھ مرتضے ٰؓسے مانگ 
دست سوال غیر کے آگے نہ کر دراز
اللہ کے سوا نہیں حاجت روا کوئی 
قار ہے کارساز ہے مشکل کشا بھی ہے 
سب انبیاء اولیا ء سائل اسی کے ہیں 
ہر کس فنا پذیرہے ہر شے فنا سر شت 
طوفاں میں ناخدا پہ بھروسہ نہ کر علیم
  • مارچ
1985
علیم ناصری
دل بنا جلوہ گہ حسن شہنشاہؐ زمن!                    نکہت افروز ہوا رحمت حق کا گلشن
مصطفےٰؐ جس کے زروسیم ہیں مخزن مخزن        جس کے یاقوت اہرملیں معدن معدن
ہے وہی نام سکوں بخش ومسرت انگیز           تیز ہوجاتی ہے اس نام سے دل کی دھڑکن
نطق بے باک سنبھل اپنی حقیقت پہچان    کون ہے جس کو کہ ہے نعت میں یا رائے سخن
یہ قصیدہ نہیں شاہوں کا بقول عرفی                     ہے دم  تیغ پہ یہ راہ یہ  صحرا ہے نہ بن!
  • جون
1983
علیم ناصری
نہ زعم علم و ہنر ہے نہ دعوئ تحقیق
عطائے حق ہے ثنائے رسولؐ کی توفیق

وہ ذات پاک سراپا ہے صادق و مصدوق
غلام جس کے ہمہ تن مصدق و صدیق
  • جولائی
2003
علیم ناصری
جناب علیم ناصری صاحب ِطرز ادیب اور کہنہ مشق شاعر ہیں۔ آپ کے کئی شعری مجموعے شائع ہوکر اہل ذوق سے داد وتحسین وصول کرچکے ہیں۔ طَلَعَ الْبَدْرُ عَلَیْنَا نامی نعتیہ مجموعہ تو صدارتی ایوارڈ یافتہ ہے۔'شاہنامہ بالا کوٹ' اور'بدرنامہ'میں واقعات کو اشعار میں پیش کرنے کے علاوہ ان دنوں 'جنگ ِاُحد' پر آپ یہی کام کررہے ہیں۔
  • جون
2003
علیم ناصری
محمد رسول اللہ ﷺ کی ذاتِ گرامی محبوبِ خدا ہی نہیں، محبوبِ خلائق بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جب یہ ارشاد فرمایا: ﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلـٰئِكَتَهُ يُصَلّونَ عَلَى النَّبِىِّ ۚ يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنوا صَلّوا عَلَيهِ وَسَلِّموا تَسليمًا ٥٦﴾... سورة الاحزاب" تو محبوبِ کائنات پر درود وسلام بھیجنے کی نص قطعی نے محبوب کے ساتھ والہانہ اظہارِ محبت کے جذبات میں ایک عظیم شدت پیدا کردی۔ محبت وعقیدت کے دھارے پھیل کر طوفانوں کی صورت اختیار کرگئے۔