• جنوری
1994
ابوبکر الجزائری
(مولانا کوثر نیازی کے جواب میں)

سب سے پہلے عورت کی سر براہی کے جواز یا عدم کے بارے میں اس وقت کی مختلف علمی شخصیتوں نے اخبارات و رسائل میں مضائین لکھنا شروع کئے جب محترمہ فاطمہ جناح صدر محمد ایوب خان کے مقابلہ میں میدان سیاست میں اتریں ۔
  • جون
1988
ابوبکر الجزائری
حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس جہانِ رنگ و بو میں بنی نوع انسان کے لیے راہنما بن کر تشریف لائے۔۔۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں ہر نیک اور اچھے کام کی طرف امتِ مسلمہ کی رہنمائی فرمائی اور ہر برائی سے باز رہنے کی تلقین کی۔۔۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ہر خطبے کے آغاز میں فرماتے: "ان شرالامور محدثاتها" یعنی دین میں نیا کام جاری کرنا بدترین امور میں سے ہے۔
  • جولائی
1988
ابوبکر الجزائری
بدعات کے خلاف جنگ کرنا فرض ہے

بدعت خواہ کتنی چھوٹی ہو، اس کا انکار کرنا اور اس سے لوگوں کو ڈرانا چاہئے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بدعت سے ڈرایا اور اس کی مذمت بیان فرمائی تو اس کی اقسام میں کوئی فرق نہیں بتلایا۔ بلکہ ہر بدعت پر ضلالت کا اطلاق کیا ہے۔
  • فروری
  • مارچ
1995
ابوبکر الجزائری
"فرقہ  واریت"عقائد واعمال سے متعلق فکر ونظر کے اختلافات کا نام نہیں ہے،جیساکہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے،بلکہ یہ اختلافات کے بارے"نزاع"کا ایک رویہ ہے۔علمی اجتہادات سے پیش آمدہ مسائل میں جو کئی  پہلو نمایاں ہوتے ہیں،وہ کتاب وسنت کی نصوص کی تعبیر واطلاق میں بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔چنانچہ"خیر القرون"میں فرقہ وارانہ جھود سے قبل سلف صالحین کا علمی اختلاف قرآن وحدیث کی تفہیم میں خاص کردار کاحامل ہے۔
لیکن علمی انحطاط کےادوار میں عوام کی شخصی عقیدت اور مذہبی  گروپوں سے جذباتی وابستگی نے فرقہ پرستی کو فروغ دیا ہے۔برصغیر پاک وہند میں برطانوی سامراج نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے اسے خوب اجاگر کیا اور اس کی معنوی اولاد،لارڈ میکالے کے نظام تعلیم کے پروردہ اسے مذہبی جذبات کی بیخ کنی کےلئے بطور طعن استعمال کرتے ہیں۔تاکہ نام نہادسیکولرازم (لادینیت) کے لئے فضا ساز  گار بنائی جاسکے۔دور  حاضر کی گندی سیاست نے توفرقہ واریت  کو تشدد کا رنگ بھی دےدیا ہے جس کے پیچھے بین الاقوامی سازش کام کررہی ہےتاکہ مسلمان کفر کا مقابلہ کرنے کے لئے کبھی استحکام حاصل نہ کرسکیں۔
تاہم علم کے